واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


سپریم کورٹ میں پیش کی گئی سانحہ سیالکوٹ کی تحقیقاتی رپورٹ کا مکمل متن

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-09-10, 02:50 AM   #1
سپریم کورٹ میں پیش کی گئی سانحہ سیالکوٹ کی تحقیقاتی رپورٹ کا مکمل متن
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 26-09-10, 02:50 AM

(1)۔ اس رپورٹ کو شروع کرتے ہوئے میں اللہ تعالیٰ سے پناہ کا خواستگارہوں کیونکہ سپریم کورٹ میں ، سانحہ سیال کوٹ کی تحقیقات کے دوران جو تلخ حقائق بیان کیے گئے ہیں، ان کے بارے میں مجھے یہ شبہ ہے کہ اس کے خلاف کردار کشی اور غلط بیانی کی ایک مہم شروع کردی جائے گی۔
(2)۔ چونکہ اس کیس کے حوالے سے متعلقہ فریقین نے مختلف نوعیت کے جوابات دیئے ہیں۔ لہٰذا میں نے یہ مناسب سمجھا کہ میں دونوں فریقین کے بیان کردہ واقعات کو ریکارڈ پر لے آؤں، جو اس سانحے سے متعلق ہیں، تا کہ ان دونوں قسم کے بیانات کا مشترکہ تجزیہ ہو سکے۔
(3)۔ اس واقعے میں حافظ محمد مغیث سجاد (18سال) اور محمد منیب سجاد15)سال) رہائشی محلہ حاجی پورہ، سیال کوٹ کی جہاں تشدد سے موت واقع ہوئی، وہیں بلال (20سال) جاوید(30) ولد محمد شوکت علی بھٹی ذیشان 12)سال( ولد صابر حسین ذات مہر، عمران 22)سالہ) ولد شوکت آرائیں جو سب کے سب بٹر گاؤں سیال کوٹ کے رہائشی تھے کو بندوق کی گولیوں کے زخم آئے تھے، جن میں سے بلال زخموں کی تاب نہ لا کر ہسپتال میں فوت ہو گیا۔ اس طرح تین نوجوان اس واقعے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
(4)۔ شوکت علی بھٹی نے جو بلال کا والد ہے، ایف آئی آر نمبر437/2010 پولیس اسٹیشن صدر سیال کوٹ میں درج کروائی ہے۔ جس میں اس نے الزام عائد کیا ہے کہ 15/ اگست 2010ء کو صبح چھ بجے ان کا بیٹا بلال مرحوم موٹر سائیکل پر اپنے گھر کی جانب آ رہا تھا، اس کے پیچھے ایک پک اَپ بھی آ رہی تھی، جس پر کوئی پچیس تیس افراد سوار تھے، جن میں محمد ذیشان بھی تھا (جو بعد میں زخمی ہوا تھا) جب وہ بٹر روڈ پر واقع ایک مسجد کے سامنے پہنچے تو دونا معلوم موٹر سائیکل سوار سڑک پر آ گئے اور زبردستی بلال کو روکنے کی کوشش کی تاکہ اس سے موٹر سائیکل اور دیگر اشیا چھین سکیں۔ بلال نے مزاحمت کی، اسی دوران محمد جاوید اور محمد عمران بھی اتفاقاً وہاں پہنچ گئے۔ نامعلوم ڈاکوؤں نے بلال سے اس کا موبائل فون ، دو ہزار روپے اور چند کاغذات چھین لیے، جاوید اور عمران آگے بڑھے اور بلال کو ان ڈاکوؤں کے چنگل سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگے کہ اچانک ان میں سے ایک نے بلال پر فائرنگ کردی۔ گولی اس کے دائیں کندھے میں لگی جس کے بعد وہ زمین پر گر پڑا، جس کے بعد ذیشان پک اَپ سے کود کر ڈاکوؤں کی طرف دوڑا، جس پر چھوٹے قد والے ڈاکو نے اس پر فائرنگ کر دی۔
گولی ذیشان کی گردن پر لگی۔ اسی کے ساتھ دونوں ڈاکوؤں نے فائرنگ شروع کردی، جس کے نتیجے میں جاوید اور عمران گولیوں سے زخمی ہو کر زمین پر گر پڑے۔ اس واقعے کے بعد ڈاکو اپنی موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے لیکن جب پک اَپ کے ڈرائیور نے ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی تو وہ دونوں موٹر سائیکل سے زمین پر گر پڑے۔ اسی دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہو گئی اور انہوں نے جواباً ان دونوں ڈاکوؤں کو سیال کوٹ ڈسکہ روڈ پر لے جا کر ان پر تشدّد کرکے ہلاک کردیا۔
(5)۔ ضرار بٹ نے جو مغیث اور منیب کے چچا ہیں، اپنی درج کرائی جانے والی ایف آئی آر نمبر 499/2010 میں بالکل ہی مختلف بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بھتیجے بٹرگاؤں کے کھیل کے میدان میں کرکٹ کھیلنے کے لیے جایا کرتے تھے۔ اس واقعے سے چند دن پیشتر ان کے بھتیجوں اور بٹر گاؤں کے رہائشی لڑکوں کا آپس میں جھگڑا ہوا تھا۔ پندرہ اگست 2010 کو مغیث اور منیب فجر کی نماز پڑھنے کے بعد اپنے والد کی موٹرسائیکل نمبر1322-STV لیکر ہوا خوری کی غرض سے گھر سے باہر نکلے، وہ ریسکیو دفترکے پاس پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں جمع لوگ ڈکیتی کی ایک واردات کے خلاف احتجاج کرنے میں مصروف ہیں، جن میں وہ لوگ بھی شامل تھے، جن سے اس سے قبل ان دونوں بھائیوں کا جھگڑا ہو چکا تھا، چنانچہ انہیں پہلے والے جھگڑے کا بدلہ لینے کا سنہری موقع مل گیا اور انہوں نے دونوں بھائیوں کو پکڑ کر یہ کہتے ہوئے مارنا شروع کر دیا کہ کچھ دیر قبل ہونے والی ڈکیتی کی واردات میں یہی دونوں بھائی ملوث تھے۔علی اور اس کے ساتھ دوسرے لڑکوں نے ان دونوں بھائیوں پر تشدّد کر کے انہیں موت کی نیند سلا دیا اور ان کے مردہ جسموں کو ریسکیو سینٹر کے قریب ایک اوور ہیڈ ٹینک پر اُلٹا لٹکا دیا میڈیا کے لوگ ، مقامی پولیس اور ریسکیو ورکرز جائے وقوعہ پر موجود تھے۔
(6)۔22-08-2010کو میں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور ایک رف سائٹ پلان تیار کیا جو اس رپورٹ کے ہمراہ موجود ہے، اس کے بعد میں نے پینتالیس گواہوں سے حلفیہ بیانات لیے۔ ان میں سے ستائیس گواہوں نے تحریری بیانات داخل کیے جبکہ اکیس خواتین اورآٹھ مردوں نے جو بٹر گاؤں کے رہائشی اور بلال کے رشتے دار تھے، میرے روبرو آکرشوکت علی بھٹی کے موٴقف کی تائید کرتے ہوئے علیحدہ علیحدہ بیانات نہیں دیئے۔ زبانی شواہد کے علاوہ میں نے پوسٹ مارٹم رپورٹس، میڈیکولیگل رپورٹس ریسکیو سینٹر کے لاگ بک کی عکسی نقول اور پولیس، ایف آئی آر، تمام مرحومین اور زخمیوں کی تحقیقاتی رپورٹ دونوں مرحوم بھائیوں کے اسکول سرٹیفکٹس اور سیال کوٹ کے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس کاریکارڈ حاصل کیا تاکہ دونوں مرحوم بھائیوں کے زیراستعمال موٹر سائیکل نمبرSTV1322 کے بارے میں معلومات حاصل ہو سکیں،مجھے مختلف لوگوں سے وڈیو ٹیپ بھی موصول ہوئے،جنہیں میں نے بڑے غور وخوض اور باریکی سے دیکھا۔ میں نے اپنی انکوائری کے دوران علاقے کے ان رہائشی افراد سے انٹرویو کیے جو بیانات دینے پر کسی طورراضی نہیں تھے۔ بہرحال انہوں نے صحیح نتیجے تک پہنچنے میں میری مدد کی۔
(7)۔ دونوں اطراف کے متضاد بیانات کومدّ نظر رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں (الف) کیا شوکت علی بھٹی نے اپنی دائر کردہ ایف آئی آر نمبر437/2010 میں جو واقعات بیان کیے ہیں، وہ من وعن درست ہیں اوراس نے کسی غلط بیانی سے تو کام نہیں لیا۔؟
(ب) کیا مغیث اور منیب جو حاجی پورہ کے رہائشی محمد سجاد بٹ کے بیٹے تھے، انہیں اس واقعے سے قبل شوکت علی بھٹی (شکایت کنندہ) بلال مرحوم، جاوید ، عمران اور ذیشان بالکل بھی نہیں جانتے تھے۔؟
(ج) کیا سیال کوٹ پولیس نے دیدہ و دانستہ جان بوجھ کر مغیث اور منیب کی شناخت کو پوشیدہ رکھا تھا۔
(د) کیا ضرار بٹ جائے وقوعہ پر اس وقت موجود اپنے بھتیجوں کی موجودگی کا کوئی جواز پیش کرسکتے ہیں۔؟
(ہ) کیا مغیث اورمنیب دونوں جرائم پیشہ تھے۔؟
(و) کیا سیال کوٹ پولیس قانونی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام ہو گئی تھی اور اس واقعہ کے دوسرے حصے میں بذات خود بھی شریک تھی، جس میں ان دونوں بھائیوں کوہلاک کردیاگیا۔؟
(ز) کیا شہنشاہ بخاری، سب انسپکٹر اورواقعے کے پہلے تحقیقات کرنے والے، اور ڈاکٹر محمد فاروق جنہوں نے پوسٹ مارٹم رپورٹس کی جانچ پڑتال کی تھی، نے ان دونوں بھائیوں کے قتل کے طبی شواہد کو ضائع کردیا تھا؟
(ح) کیا ریسکیو ورکرز جواس وقت ریسکیو اسٹیشن پر موجود تھے، انہوں نے اس واقعے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی برتی تھی؟
(۔اب میں تجویز کرتا ہوں کہ درج ذیل تین باہم متعلق سوالات کودستیاب مواد اورکیس کے حالات کی روشنی میں دیکھا جائے۔
(1)۔کیا شوکت علی بھٹی نے اپنی درج شدہ ایف آئی آر میں واقعات کو صحیح طورسے بیان کیا ہے؟
(2)۔کیا مغیث اورمنیب سے شوکت علی بھٹی اوردیگر افراد پہلے سے واقف نہیں تھے؟
(3)۔کیا سیال کوٹ پولیس نے دیدہ و دانستہ جان بوجھ کر ان دونوں مرحوم بھائیوں کی شناخت کو چھپانے کی کوشش کی تھی؟
(9)۔بٹر گاؤں کے رہائشی شوکت علی بھٹی نے پولیس کے روبرو، اور تحقیقات کے دوران ،الزام عائد کیا ہے کہ اس کا بیٹا بلال، دو نامعلوم ڈاکوؤں کے ہاتھوں،ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت کرتے ہوئے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ، بندوق کی گولی سے زخمی ہوگیا۔ شوکت علی بھٹی نے ایف آئی آر درج کراتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے سب انسپکٹر شہنشاہ بخاری کو، مغیث اورمنیب کی پستولیں اور دیگر سامان بھی دکھایا تھا، یہاں میں بلاخوفِ تردید یہ کہنا چاہتاہوں کہ شوکت علی بھٹی نے وقوعہ سے متعلق حقائق کو چھپانے اور ان پر ، پردہ ڈالنے کی پوری کوشش کی ہے۔ میں اس بات پر یقین کرنے کے لیے قطعاً آمادہ نہیں ہوں کہ مذکورہ دونوں بھائیوں سے بلال اور اس کے ساتھی پہلے ہی سے واقف نہیں تھے۔ میرا یہ خیال کسی بدنیتی یا غلط اندازے کا نتیجہ نہیں بلکہ ان ٹھوس شواہد پر مبنی ہے،جو میں نے واقعہ کی تحقیقات کے دوران حاصل کیے ہیں۔ یہ دونوں بھائی محلہ حاجی پورہ کے رہائشی تھے، محمد نصیر بھٹی جو بلال کی برادری سے تعلق رکھتاہے اور بٹر گاؤں کارہائشی ہے اور جو اس وقوعے کے عینی گواہوں میں بھی شامل ہے، اس نے میرے روبرو آکرگواہ نمبر26کی حیثت سے بیان دیا۔ ایک سوال کے جواب اس نے کہاکہ بلال مرحوم اور اس کا بھائی جاوید محلہ حاجی پورہ کے بشارت علی کی دکان پرباقاعدگی کے ساتھ دودھ فراہم کیا کرتے تھے اوراس دکان سے مرحوم بھائیوں کے مکان کا فاصلہ دو سے تین ایکڑ کے درمیان ہوگا۔ میں نے بشارت علی کابیان بھی لیا (گواہ نمبر36) جس نے کہا کہ بلال اور اس کا بھائی جاوید اس کی دکان پر دودھ سپلائی کیا کرتے تھے جو مغیث اور منیب کے مکان سے چار ایکڑ کے فاصلے پر ہوگی۔اس نے یہ بھی بتایاکہ وہ مغیث اور منیب کے گھر پر گزشتہ دس برس سے باقاعدگی کے ساتھ دودھ اوردہی فراہم کرتا آرہا ہے۔ تاہم اس نے اس حقیقت سے اپنی لاعلمی کااظہارکیا کہ دونوں مرحوم بھائیوں کی بلال مرحوم سے کوئی واقفیت تھی بہرحال اس نے یہ امکان مسترد نہیں کیا کہ گزشتہ سالوں کے دوران ممکن ہے مرحوم بھائیوں کی ملاقات بلال سے اس کی دکان پر ہوئی ہو، اس حوالے سے میرے پاس ایک اورثبوت بھی موجود ہے میں نے وڈیو کلپ (E) دیکھی، جس میں مغیث پر تشدّد کرنے والا ایک فرد، دوسرے تشدّد کرنے والے سے یہ دریافت کررہا ہے کہ جن لوگوں کو مارا جارہا ہے، وہ کون ہیں؟۔ دوسرا آدمی جواب دیتا ہے کہ یہ لوگ حاجی پورہ کے رہائشی ہیں۔ میں نے ایک اور وڈیو کلپ (E1)بھی دیکھی، جس میں ایک مارنے والاشخص یہ اعلان کررہا ہے کہ یہ دونوں شفیع اسٹریٹ کے رہائشی ہیں ، یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ میں نے وہ گلی بھی دیکھی جہاں ان مرحوم بھائیوں کا گھر ہے اوردیکھا کہ قریب ہی شفیع کاہوٹل واقع ہے، جس کی وجہ سے اس گلی کے رہائشیوں نے اس کا نام شفیع اسٹریٹ رکھ چھوڑا ہے۔
(10)۔ موٹر سائیکل نمبرSTV 1322جس پر سوار ہوکر دونوں مرحوم بھائی جائے وقوعہ پر پہنچے تھے، اسے پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے ۔ پولیس کے لیے یہ مشکل نہ تھا کہ وہ ان دونوں بھائیوں کی شناخت قائم کرنے کی غرض سے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس سیال کوٹ سے رجوع کرکے یہ معلوم کر لے کہ اس موٹر سائیکل کااصل مالک کون ہے اور یہ کس کی رجسٹرڈ ملکیت ہے۔
میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ پولیس نے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس سے یہ کیوں نہیں معلوم کیا کہ ان دونوں بھائیوں کے زیراستعمال موٹر سائیکل کااصل مالک کون ہے؟
میں نے موٹر سائیکل نمبر STV 1322 کا ریکارڈ طلب کرکے دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس موٹر سائیکل کا اصل مالک محمد سجاد ہے جو ان دونوں مرحوم نوجوانوں کا باپ ہے۔ بہرحال پولیس نے ان دونوں نوجوانوں کی شناخت کی تصدیق نہیں کی جس کے اسباب بھی وہی جانتی ہوگی۔
(11) نجم الحسن ضیاء ایل ایف آر 1122 سروس سیالکوٹ (گواہ نمبر1) کا بیان ہے کہ ”شباب ملی“ اور ”بٹ“ کے الفاظ مذکورہ موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ پر لکھے ہوئے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ مرحوم لڑکوں کا تعلق بٹ خاندان سے ہے اور وہ جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم شباب ملی کے رکن ہیں۔
(12) شوکت علی بھٹی نے پولیس کے روبرو یہ بیان دیا ہے کہ بعد ازاں صرف دو ڈاکوؤں کو شناخت کیا گیا ہے جن کے نام مغیث اور منیب تھے اور جنہوں نے ڈکیتی کی یہ واردات کی تھی۔ ان دونوں کے سوا اس نے کسی اور پر یہ الزام عائد نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ شوکت علی بھٹی اور اس کے زخمی گواہان نے اپنے پہلے والے موقف میں تبدیلی کرلی تھی جسے انہوں نے وقار احمد چوہان ڈی پی او کے روبرو پیش کیا تھا، جنہوں نے بیان کیا کہ جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو انہوں نے دو نوجوانوں کی لاشوں کو لٹکے ہوئے دیکھا۔ اسی دوران کہا گیا کہ تیسرا ڈاکو بھی تھا جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے اسے بھی گرفتار کرلیا جائے۔جب میں وڈیو کلپE/1 دیکھ رہا تھا تو میں نے تشدد کرنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ سب سے پہلے مغیث سے یہ پوچھا جائے کہ اس کا ساتھی کہاں فرار ہوگیا ہے۔
اب یہاں سوال اٹھتا ہے کہ کیا مبینہ ڈاکو دو تھے یا ان کی تعداد دو سے زیادہ تھی۔ ڈی پی او کے روبرو جو پہلا بیان دیا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکوؤں کی تعداد دو سے زیادہ تھی۔ مبینہ ڈاکوؤں کی تعداد پر دوبارہ عقد کرنے کے بعد ڈاکوؤں کی تعداد تین سے دو کردی گئی۔ اس صورتحال نے شوکت علی بھٹی کے موقف کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
مغیث اور منیب کے پاس سے پستولوں کا بر آمد ہونا بھی کافی شکوک اور شبہات کو جنم دیا ہے۔ 1122 کے اسٹیشن انچارج شوکت علی ساجد کا بیان ہے کہ اس نے حافظ مغیث کے ہاتھ میں پستول دیکھا ہے۔ اس پستول کو ریسیکو ورکر ماجد نے لے کر نجم الحسن کے حوالے کردیا تھا۔ ماجد نے دوسری کہانی بیان کی جس کے مطابق دو گمنام اور نامعلوم افراد نے اسے دو پستول دئیے تھے اس کا کہنا تھا کہ اس نے یہ پستول ڈاکوؤں سے چھینے ہیں۔ گواہ کے بیان کے مطابق نہ اس نے حافظ مغیث کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں پستول تھا، نہ ہی اس نے یہ پستول اس سے چھینا تھا۔
ایک ریسکیو ورکر پیرن دتہ کا بیان کچھ اور ہے جس کے مطابق ایک باریش شخص نے اس کی موجودگی میں مغیث کی لاش کے پاس پڑی پستول کو ہٹایا تھا اور اسے ماجد علی کے حوالے کردیا تھا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ایک اور باریش شخص ایک پستول اور تھیلا لیکر آیا اور ساجد کے حوالے کرتے ہوئے بولا کہ اس نے یہ ڈاکوؤں سے چھینا تھا۔ ریسکیو ورکرز کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ پستول پولیس کے روبرو پیش کردئیے تھے۔
(14) ان وجوہات کی بناء پر مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی دقت نیں ہوتی کہ شوکت علی بھٹی نے پولیس کے ساتھ مل کر واقعے کو ایک نیا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ اگر مغیث اور منیب پستولوں سے مسلح تھے جس کے ذریعے انہوں نے گولی چلا کر بلال کو قتل کیا ہی تھا تو یہ نئی کہانی گھڑنے کی کیا ضرورت تھی جس کا تعلق ان سے پستول برآمد کرنے کے واقع سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ بچوں کا چچا ضرار بٹ اپنے بھتیجوں کی جائے وقوعہ پر موجودگی کے جواز کو ثابت کر پایا ہے۔
(15) اب ضرار بٹ، ایف آئی آر نمبر 449/2010 کے مدعی کے مخالف نقطہ نظر کے مطابق انہوں نے کہا کہ میں باآسانی کہتا ہوں کہ صبح 6بجے بئر روڈ پر ریسکیو اسٹیشن کے قریب دونوں بھائی تفریح کیلئے گئے تھے، کے حوالے سے شک کے علاوہ یہ ثابت کرنے کیلئے کوئی معقول اور دلیل پر بھی ثبوت ریکارڈ پر اب تک نہیں لایا جاسکا۔ اسی طرح واقعہ کی ترغیب پر بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ کیا پولیس اور مخالف پارٹی مغیث اور منیب کے پاس سے پستول برآمد کروانے میں کامیاب ہوئی تھی۔ تاہم، علی الصبح بغیر کسی وجہ کے دونوں بھائیوں کی بئر روڈ پر موجودگی کے حوالے سے میں ان بھائیوں کے خلاف ایسے متضاد نتیجہ اخذ کروں گا۔ صبح موقع پر پہنچنے والے اب یہ دو بھائی اس دنیا میں نہیں ہیں ان کے والدین، دوست اور قریبی رشتہ دار ابھی اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ حتمی ثبوت مہیا کرسکیں جو ان بھائیوں کی وہاں موجودگی کا جواز مہیا کریں۔ بہرحال دوسری جانب سے کوئی معقول ثبوت فراہم نہیں کیا گیا کہ اس وقت دونوں بھائیوں کے پاس پستول تھا۔ اور اگر حملہ آوروں نے دونوں بھائیوں کے پاس پستول تھا اور اگر حملہ آوروں نے دونوں بھائیوں سے پستول چھینا تھا تو ان سے اسلحہ برآمد کرنے کی کو ئی کہانی نہیں گھڑی گئی تھی۔ پچھلے پیراگراف میں پہلے ہی میں دلائل کیساتھ یہ اخذ کر چکا ہوں کہ پستول کو ان کے پاس رکھا گیا تھا۔ تاہم، ان دو بھائیوں کو علی الصبح اس جگہ پہچننے کیلئے کس چیز نے اکسایا، اب تک ایک پوشیدہ راز ہے۔ یہ معاملہ دونوں جانب سے لئے گئے بتوتوں کی جانچ پڑتال کے بعد ہی حل ہوسکتا ہے۔
(C کیا دو متوفی بھائی، مغیث سجاد اور منیب سجاد چور اور مجرم تھے۔
16۔ فراہم کردہ مواد کے متفقہ معائنے کے بعد مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اٹھارہ سالہ مغیث سجاد اور پندرہ سالہ منیب سجاد ڈاکو اور عادی مجرم نہیں تھے۔
i۔ بلاشک و شبہ اور تسلیم شدہ امر ہے کہ کسی پولیس اسٹیشن میں ان دونوں بھائیوں کے خلاف کسی بھی الزام میں کوئی کیس درج نہیں تھا اور نہ ہی ان کا سابقہ ریکارڈ مجرمانہ ہے۔
(11 حافظ محمد مغیث سجاد اور اس کا چھوٹا بھائی منیب سجاد بالترتیب گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ اور پاک گرامر ہائی اسکول فتح گڑھ کے باقاعدہ طالب علم تھے۔ او پی اور کیو کے سرٹیفکیٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت مغیث سجاد اور منیب سجاد بالترتیب گیارہویں اور نویں جماعتوں میں زیر تعلیم تھے۔ چھوٹے بھائی نے نویں کلاس سالانہ امتحان میں 525 میں سے 342 نمبر کے ساتھ پاس کی جبکہ بڑا بھائی مغیث سجاد حافظ قرآن اور کالج کے ریکارڈ کے مطابق اچھی کارکردگی کا حامل رہا۔
iii) ڈی پی او نے میرے سامنے بیان دیا کہ متوفی بھائی معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ جناب صفدر بٹر ایڈووکیٹ (گواہ نمبر12) فرنٹیئر گاؤں کے رہائشی شوکت علی بھٹی کی نمائندگی کی اور بیان دیا کہ ان کی رائے میں متوفی بھائی معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ میں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد سے گفتگو کی۔ سب کی اعتماد کے ساتھ ایک زبان تھی کہ بدقسمت متوفی بھائیوں کے والد، دادا اور دیگر بزرگوں کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
17) نام افضاء رکھنے کی شرط پر ایک شخص نے متوفی لڑکوں کے سیل نمبروں کی کال ہسٹری فراہم کی اور ان کے والد کے مطابق متوفی بھائیوں نے اپنے موبائل فون سیٹ تبدیل کئے تھے۔ ذرائع نے الزام لگانے کی کوشش کی کہ متوفی بھائی اپنی زندگی میں چوری شدہ اور چھینے گئے موبائل فون استعمال کرتے تھے۔ دو وجوہات کی بناء پر میں نے کال ہسٹری کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اول، متوفی بھائیوں کا چچا زاد بھائی ابوبکر کی طویل عرصے سے سیالکوٹ میں موبائل فون کی دکان ہے اور جب متوفی بھائیوں کے والد کو اپنے بیٹوں کے خلاف موبائل فون چھیننے کے الزام کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے اس استدعا کے ساتھ اس الزام کو مسترد کیا کہ چچا زاد بھائی ابوبکر کی مہربانی کی وجہ سے ان کے بیٹے موبائل فون سیٹ تبدیل کرنے کی پوزیشن میں تھے۔ ایک لمحے کیلئے یہ تصور کر بھی لیا جائے کہ متوفی لڑکے اپنی زندگی میں چھینا ہوا یا چوری کا موبائل فون استعمال کرتے تھے تو پھر بھی کوئی یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ سیل فون چھیننے والے ڈاکو تھے۔ چوری کے سوال کے حوالے سے یہ بات ہر ایک کے علم میں ہے اور یہ ایک کھلا راز ہے کہ آج کل کھلے عام دکانوں اور انفرادی سطح پر چوری شدہ موبائل فون کی خرید و فروخت ہورہی ہے۔ جب تک معقول ثبوت نہ ہو کہ کسی مخصوص شخص نے کوئی خاص سیل فون چھینا یا چوری کیا ہے، محض اس بناء پر کہ کوئی وقفے وقفے سے اپنا فون سیٹ تبدیل کرتا رہتا ہے۔ کوئی ٹھوس جواز فراہم نہیں کرتا کہ وہ فون چھیننے کے جرم میں ملوث ہے، دوئم یہ کہ اس سے کسی کو بھی انکار نہیں ہوگا کہ موجودہ نسل کو سیل فون سیٹ تبدیل کرنے کا خبط ہے۔ شکایت کنندہ شوکت علی بھٹی نے اس دعوے کے ساتھ چند گواہ پیش ہے کہ ماضی میں چند نامعلوم ڈاکوؤں نے انہیں ان کی اشیاء اور سیل فون سیٹ سے محروم کردیا تھا اور یہ کہ 15-8-206 کو اٹھارہ سالہ مغیث سجاد اور اس کے پندرہ سالہ بھائی کو ان ڈاکوؤں کی حیثیت سے پہچان لیا گیا تھا۔ تاہم میرے خیال میں یہ بعد میں تیار کردہ من گھڑت کہانی ہے کیونکہ ایسا کوئی ایک واقعہ بھی پولیس اسٹیشن میں درج نہیں کروایا گیا۔ متوفی بھائیوں کی مخالف پارٹی کی پچیسویں گواہ 65سالہ غلام فاطمہ نے سوالات کئے تو یہ معلوم ہوا کہ اس واقعے سے 17,16 روز قبل اسے دو نامعلوم ڈاکوؤں نے سونے کی بالیوں سے محروم کردیا تھا اور 15-8-2010 کو وہ وقوع پر پہنچی اور ڈاکوؤں کو اس وقت پہچان لیا جب ان کی لاشیں الٹی لٹکی ہوئی تھیں۔ میں یہ کیسے یقین کرلوں کہ 65سالہ بوڑھی عورت دونوں بھائیوں کو پہچان سکتی ہے، جب مسخ شدہ چہروں کے ساتھ ان کی لاشیں الٹی لٹکی ہوئی تھیں؟ ٰ65 سالہ بوڑھی عورت کو اس بیان کے بعد شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ انہیں ڈاکو ثابت کرنے کیلئے مخالف پارٹی نے کچھ قانون مشوروں کے تحت ثبوت و شواہد تیار کرنے اور گھڑنے کی کوشش کی۔
18۔ میں یہ تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کو اٹھارہ سالہ مغیث سجاد اور اس کا پندرہ سالہ بھائی منیب سجاد فرشتہ صفت کردار کے حامل تھے۔ ممکن ہے انہوں نے اپنی زندگی میں جانے انجانے، بچپنے یا بیوقوفی سے نتائج کا اندازہ کئے بغیر کچھ غلطیاں کی ہوں تاہم صورتحال کے مطابق یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ نہ ڈاکو اور نہ عادی مجرم تھے، خصوصاً جب ان کی زندگی میں ان کے خلاف موبائل فون چھیننے یا کسی اور جرم کا ایک بھی کیس درج نہیں ہوا۔
i۔ آیا سیالکوٹ پولیس اپنے قانونی فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہی اور ایک دوسرے فریق کی حیثیت سے شریک رہی اس واقعے میں جس میں مغیث سجاد اور منیب سجاد کو شاہراہ پر کھلے عام قتل کیا گیا؟
19۔ پہلا واقعہ صبح 6سے 6-30 کے درمیان واقع ہوا۔ ریسکیو کے عملے نے فائرنگ کی آواز سنی! دو زخمیوں کو موقع واردات سے اسپتال لیکر گئے اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی کہ بلال اور اس کے ساتھی پر مبینہ ڈاکوؤں نے فائرنگ اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ سیالکوٹ کے صدر پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں اس کیس کا علاقہ آتا ہے اور حاجی پورہ سیالکوٹ پولیس اسٹیشن موقع واردات سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے۔ ریسکیو 1122 سے مذکورہ پیغام موصول کرنے کے بعد جو پولیس اہلکاروں نے اوپر منسلک کیا، دو پولیس اسٹیشن اس پوزیشن میں تھے کہ 10منٹ میں موقع واردات پر پہنچ جاتے۔ بدقسمتی سے ریسکیو 1122 کی جانب سے دی جانے والی اطلاع پر کسی نے کان نہیں دھرا۔ یہ پولیس، سیالکوٹ کے وائرلیس اسٹیشن کنٹرول، پولیس وائرلیس اسٹیشن، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ، ریسکیو سینٹر 1122 ڈسکہ روڈ سیالکوٹ کی جانب سے لاگ بک سے ثابت ہوتا ہے اور ریسکیو 1122 کے ضلعی ایمرجنسی افسر کی جانب سے واقعے کی اطلاع بالترتیب نشان زدہ ایس 1-3 نشان زدہ ٹی/ 1-3 ، نشان زدہ V، نشان زدہ ڈبلیو سے ظاہر ہے کہ 15-8-2010 کو 6.30 سے پانچ منٹ کے اندر تمام متعلقین واقع سے آگاہ ہوچکے تھے۔ نہ دستیاب ریکارڈ اور نہ ہی پولیس اہلکار وضاحت کرسکے کہ کس نے سیالکوٹ پولیس خصوصاً سیالکوٹ صدر پولیس اسیٹشن اور سیالکوٹ حاجی پورہ پولیس اسٹیشن کو فوری طور پر اس جگہ جانے سے روکا جہاں سر عام دو نوجوان بھائیوں پر سر عام تشدد اور حملہ کیا گیا۔ تاہم پولیس ریکارڈ / بیانات، آر، آر/ 1، اور آر/2 کے مطابق مندرجہ ذیل پولیس اہلکار اس مقام پر موجود تھے جہاں دونوں بھائیوں کو قتل کیا گیا۔
1۔ انسپکٹر/ ایس ایچ او جی ایل 447 محمد الیاس، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔
2۔ اے ایس آئی نمبر 1128/ جی ایل ریاض طارق، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔
3۔ جی تھری رائفل سے مسلح کانسٹیبل محمد نواز پیٹی نمبر84، پولیس اسٹیشن صدر، سیالکوٹ۔
4۔ کانسٹیبل / ڈرائیور محمد عثمان نمبر 1796، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔
5۔ کانسٹیبل/ ڈرائیور عبدالرزاق پیٹی نمبر 1506 پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔
6۔ اے ایس آئی محمد سرفراز پیٹی نمبر 184/skt ریوالور سے مسلح، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔
7۔ کانسٹیبل محمد سلیم پیشی نمبر 833، جی تھری سے مسلح، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔
8۔ کانسٹیبل ڈرائیور یاسر پیٹی نمبر 1801، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔
9۔ سی انسپکٹر کمانڈو گلزار خان پیٹی نمبر 684/GL ریوالور سے مسلح، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔
10۔ ایس ایم جی سے مسلح ہیڈکانسٹیبل ناتھے خان پیٹی نمبر 1456، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔
11۔ جی تھری سے مسلح کانسٹیبل محمد خالد، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔
12۔ کانسٹیبل رضوان علی پیٹی نمبر 1839 پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔
13۔ ریوالور سے مسلح اے ایس آئی وارث علی پیٹی نمبر 510/nwl پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔
14۔ جی تھری سے مسلح کانسٹیبل مبارک علی، پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ۔
15۔ اے ایس آئی غلام قمر پولیس اسٹیشن حاجی پورہ۔
16 ۔ رائفل سے مسلح ہیڈ کانسٹیبل عبدالحفیظ پیٹی نمبر 1320 پولیس اسٹیشن حاجی پورہ سیالکوٹ۔
17۔ رائفل سے مسلح کانسٹیبل شہباز احمد، پولیس اسٹیشن حاجی پورہ۔
20) دونوں جانب کے گواہوں اور ریسکیو عملے کا بیان ہے کہ مندرجہ بالا پولیس افسران کی موجودگی میں حملہ آوروں نے مغیث سجاد اور منیب سجاد کو بے رحمانہ طریقے سے مارا۔ مسلح اور غیر مسلح پولیس افسران عدم دلچسپی رکھنے والے شائقین کی طرح اس واقعے کو گواہ ہیں، جس کا ثبوت نشر ہونے والی ویڈیو سے ملتا ہے۔ کتنی افسوسناک بات ہے کہ تماشائیوں اور پولیس افسران میں س کسی نے بھی ان دو بھائیوں کیلئے اس وقت رحم کے جذبات محسوس نہیں کئے۔
جب ان پر لاٹھیوں کے ذریعے تشدد کیا جارہا تھا۔ میں نے گواہوں خصوصاً ریسکیو اہلکاروں کے بیانات کا جائزہ لیا۔ مختلف ویڈیوز بھی دیکھیں جو اب ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہیں، جن سے پتا چلتا ہے کہ وہاں پر موجود ایس ایچ او صدر سیالکوٹ کی سربراہی میں موجود پولیس اہلکاروں نے شکاری کتوں کی طرح حملہ آوروں کو دونوں بھائیوں پر حملہ کرنے میں مدد دی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحت شہریوں کی زندگی کا تحفظ ان کا بنیادی اور قابل احترام فرض ہے جسے کسی بھی حکومتی ایجنسی کے ذریعے معطل نہیں کیا جاسکتا۔ ملک کی قابل احترام اعلیٰ عدالتوں نے آئینی اختیار کار کا اطلاق کرتے ہوئے ہمیشہ لوگوں کے بنیادی حقو کا تحفظ کیا ہے۔ موجودہ کیس میں حملہ آوروں کو پولیس کی حمایت حاصل ہے جو عوام کی زندگی اور وقار کی حفاظت کے لئے قومی خزانے سے معاوضہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف قتل اور دہشت گردی کے جرم کا ارتکاب کیا ہے بلکہ انہوں نے لاشوں کی بے حرمتی بھی کی ہے۔
(21) ویڈیو کلپس دیکھنے کے بعد میں نے اندازہ لگایا ہے کہ موقع پر موجود حملہ اذٓوروں میں سے تقریباً 20حملہ آوروں نے اس واقع میں اپنا فعال کردار ادا کیا۔ علاقے کے چند رہائشیوں کی مدد سے جو عداوت سے بچنے کیلئے گواہی دینے سے گریز کررہے ہیں۔ میں تیرہ حملہ آوروں کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوگیا ہوں جن کے کوائف مندرجہ ذیل ہیں۔
(1) علی پیٹر ولد الطاف
(2) امین ولد محمد اشرف
(3) جمیل الیاس جیلا ولد اللہ رکھا
(4) جاوید الیاس جیدا ولد شوکت علی
(5) اصغر ولد احمد
(6) قیصر ولد احمدعلی
(7) حسن ولد مختار (ذات کھوکھر)
( محسن ولد قیصر (ذات آرائیں)
(9) اصغر ولد منیر (ذات آرائیں)
(10) اکرام ولد رشید (ذات موچی)
(11) نوشا ولد ارشد (ذات موچی)
(12) شفیق فوجی (ولدیت معلوم نہیں ہوسکی (گاؤں بٹر)
(13) شمس ولد شوکت ( ذات کھوکھر، پکی کوٹلی کا رہائشی)
حملہ آوروں کی مندرجہ بالا فہرست مکمل نہیں ہے کیونکہ باقی رہ جانے والے ملزم جنہوں نے دونوں بھائیوں پر حملہ کیا تھا کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ لیکن ابھی زیر تفتیش ہے اور تفتیشی ٹیم حملہ آوروں کی شناخت کیلئے یقیناً موثر قانونی اقدام کرے گی۔ تاہم ان حملہ آوروں کی اس انکوائری میں شناخت نہیں ہوسکی ہے۔
(22) اس میں کوئی شک نہیں کہ حملہ آوروں کے پاس مہلک ہتھیار موجود نہیں تھے۔ تاہم صدر پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او بھاری نفری کی موجودگی میں موقع پر موجود رہے لیکن انہوں نے اس سے متعلق کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ وہ اس پوزیشن میں تھے کہ ان دو بھائیوں کو باسانی حملہ آوروں کے چنگل سے نکال سکتے تھے۔ ایس ایچ او اور دیگر پولیس افسران کی جانب سے سستی نہ صرف ایک غیرقانونی عمل ہے بلکہ رحم اور شفقت پر جرم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اتھارٹی کی منفی احساس نے ایس ایچ او کہ ان کی سرکاری پوزیشن کو غلط طریقے سے استعمال کرنے کی جانب مائل کیا۔ فائر ریسکیوں کا کارکن ماجد علی گواہ نمبر9 نے کہا کہ ایس ایچ او نے کہا تھا کہ ”چونکہ یہ چور ہیں اس لئے انہیں مرنے دیا جائے۔ میں یہ کہتے ہوئے تکلیف محسوس کررہا ہوں کہ مجموعی طور پر یہ کرمنل جسٹس سسٹم کا بے محل اور نقصان دہ قدم ہے جو اصلاحات کی دعوت دیتا ہے۔ بصورت دیگر قانون سے بالاتر ہو کر اپنے انداز سے سرکاری اتھارٹی کو استعمال کرنے کا شدید میلان سسٹم کو رفتہ رفتہ ختم کردیتا ہے۔
(23) جب تک دونوں بھائیوں کے قتل کی تصدیق نہیں ہوگئی ڈی پی او وقار احمد چوہان نے وقوع کی جگہ پر پہنچنے کی زحمت نہیں کی۔ میں ڈی پی او پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ اسے بروقت واقعے کی اطلاع نہیں دی گئی۔ ڈی پی او نے اپنے دفتر کے وائرلیس آپریٹر کو بھی معطل کردیا اس بنیاد پر کہ اس نے اس سے معلومات چھپائی۔ میں کیسے یقین کرلوں کہ صدر پولیس اسٹیشن کا ایس ایچ او جو قتل ہوتے دیکھ رہا تھا اس نے ڈسٹرکٹ پولیس کمانڈر کو اس دوران اطلاع نہیں دی ہوگی؟ واقعے کے ایک گھنٹے بعد ڈی پی او وقوع پر پہنچا اور الٹی لٹکی ہوئی لاشیں دریافت کیں۔ اس کے ساتھ مندرجہ ذیل پولیس اہلکار بھی ہمراہ تھے۔
1۔ کانسٹیبل ڈرائیور صابر حسین
2۔ ریوالور سے مسلح اے ایس آئی عابد علی
3۔ ایس ایم جی سے مسلح کانسٹیبل عبدالقیوم ،پیٹی نمبر900
4۔ 38 بور کے ریوالور کے ساتھ مسلح کانسٹیبل محمد شبیر، پیٹی نمبر469۔
5۔ ایس ایم جی سے مسلح کانسٹیبل محمد طاہر، پیٹی نمبر34۔
6۔ ایس ایم جی سے مسلح محمد سکندر کانسٹیبل پیٹی نمبر 1929
7۔ ایس ایم جی سے مسلح کانسٹیبل محمد اصغر، پیٹی نمبر 772
8۔ کانسٹیبل/ ڈرائیور محمد فیاض پیٹی نمبر 1374۔
ڈی پی او نے ایس ایچ او جیسا طرز عمل اختیار کیا اور اس نے جرم کی نوعیت کا ادراک نہیں کیا۔ اس نے حملہ آوروں کو سرزش کرنے کے بجائے ان کے جرم پر ان کو سراہا۔ ریسکیو کے ملازمین اور ڈی پی او نے میرے سامنے بیان دیا کہ حملہ آوروں نے ڈی پی او کو تالیوں کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ اس طرز عمل کو کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔
24۔ پولیس نے ان کو پوسٹ مارٹم کے لئے مردہ خانے کے لئے ان کی لاشیں وہاں سے نہیں لے کر گئی بلکہ ڈی پی او اور دیگر پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں حملہ آوروں نے ان کی لاشیں ٹریکٹر ٹرالی میں رکھیں اور سڑکوں پر پھیرائیں۔ ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکار بھی اس دوران ان کے ہمراہ تھے اس واقعے کا سب سے پریشان کن پہلو یہ ہے کہ ڈی پی او وقار احمد چوہان کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے ایس ایچ او نے لاشوں کے جلوس کی سربراہی کی، جو لاگ بگ میں ریکارڈ ہے۔ گواہ نمبر41 سٹی کنٹرول کے وائرلیس آپریٹر محمد اسلم نے حلفیہ تصدیق کی کہ ڈی پی او کی ہدایات کے تحت ایس ایچ او نے جلوس کی قیادت کی۔ پولیس کے پاس کوئی قانونی اور درست جواز موجود تھا کہ دونوں بھائیوں کو ڈاکو فرض کرلے۔ محض بحث کی خاطر یہ یقین بھی کرلیا جائے کہ نیک نیتی سے پولیس ان کے ساتھ ڈاکوؤں کا سا سلوک کیا پھر بھی ان کے قتل میں معاونت کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ واقعے کے طریقہ کار اور پولیس کے شرمناک کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ضرور کہوں گا کہ حملہ آوروں نے دونوں متوفی بھائیوں کو بے رحمی سے زدوکوب کرکے قتل کیا جبکہ ڈی پی او اور ایس ایچ او نے اپنے اختیارات کی تلوار سے مغیث اور منیب کو ذبح کردیا۔ ڈی پی او اور ایس ایچ او نے اپنے دل و دماغ کا استعمال نہیں کیا۔ انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے تھا کہ اگرچہ انہیں عوام پر اختیارات کی ملکیت حاصل ہے لیکن حاکم اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ اور قانون کے تابع ہیں۔ ڈی پی او، ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکاروں نے واقعے کا گواہ بن کر نہ صرف اپنے آپ کو عدالتی اور انتظامی کارروائی کے لئے ذمہ دار بنایا بلکہ اللہ کے عذاب کو بھی دعوت دی۔ اس دنیا میں کوئی بھی کسی بھی طرح بلند نہیں اور اقتدار و اختیارات کے حامل ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے رحم اور نرمی کی ضرورت سے کبھی مبرا نہیں ہوسکتا۔ ڈی پی او اور ایس ایچ او نے اپنے عہدے اور اختیارات کے غرور اور ہوسکتا ہے اتھارٹی کے گمراہ کن احساس کے تحت عجلت میں حملہ آوروں کو دونوں بھائیوں کو سرعام ان کے مبینہ جرم کی سزا دینے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہو۔ کسی شخص کی جانب سے اختیارات کا اس طرح استعمال انصاف کے انتظام میں زیادہ مددگار نہیں ہوتا۔ ملکی قوانین کے تحت جوکہ یقیناً اسلام کی ہدایات کے تابک ہیں، اختیارات کے حامل شخص کو عوام پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور جس طرح والدین اپنے بچوں کی نگرانی کرتے ہیں، اس طرح نگرانی کرے۔ اختیارات کے حامل فرد اور عوام خصوصاً معاشرے کے کمزور طبقے کے درمیان باہمی اعتماد ریاست کا اہم ستون ہے۔ عام آدمی کے اعتماد کو قائم رکھنے کے لئے حکومتی اداروں خصوصاً یونیفارم میں ہیں ان کے ساتھ دوستانہ اور اچھا برتاؤ ہو۔ یہاں پر اس بات کی نشان دہی کرنا غلط ہوگا کہ پولیس افسران نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لے کر پنجاب پولیس کے وقار کو کم کیا اور یہ سمجھے بغیر کہ افترا پردازی کو ہمارے معاشرے میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ معزز خاندان سے تعلق رکھنے والے دونوں بھائیوں پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی۔
-25 ڈی پی او اور ایس ایچ او نے اس امید پر دونوں بھائیوں کے قتل میں معاونت کی کہ ہو سکتا ہے یہ کیس ان کیلئے طرہٴ امتیاز ثابت ہو اور اس واقعے کو جرم سے کامیابی کے ساتھ نمٹنا سمجھا جائے اور ان کی پرفارمنس شیٹ میں اسے پولیس کے اچھے کاموں میں امتیازی مقام حاصل ہو۔ ڈی پی او اور ایس ایچ او اس وقت اس خام خیالی سے نکل آئے جب لائق تعظیم سپریم کورٹ آف پاکستان، معزز لاہور ہائیکورٹ اور حکومت پنجاب نے اس ظالمانہ قتل پر اعتراض کیا۔ پولیس نے حکومت پنجاب کو اصل حقائق سے آگاہ نہ کر کے کریمنل جسٹس سسٹم کی آنکھوں پر پٹی باندھنے کی کوشش کی۔ پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کو دونوں بھائیوں کو سرعام قتل کرنے کی اجازت دے کر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔
یہ سرکاری حیثیت کے غلط استعمال کی بدترین مثال ہے۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ برائی کو جڑ سے ختم کیا جائے۔ اب عوام الناس میں پائے جانے والے اس تاثر کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے کہ پولیس ملکی قوانین کو نہیں مانتی یا عام آدمی کو بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں۔ کریمنل جسٹس سسٹم کی انتظامیہ سے پولیس کے بے لگام اور بے قابو غیر مستقل مزاج عناصر کو نکالے بغیر قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہو سکتی۔ پولیس آرڈر 2002ء میں پولیس کے لیگل فریم ورک میں موجود خامیوں پر توجہ نہیں دی گئی۔ قانون کی حکمرانی کیلئے غیر مشروط اطاعت کے بغیر جرائم کے کیسوں کی عجیب، ناقص، خام، مصنوعی، ترغیب دینے والے اور بے ایمانی سے تفتیشی نظام میں بہتری لانے میں زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوئی کیونکہ اس طرح کی تفتیش ایک ناسور کی طرح ہے جو نظام کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ پولیس کے اختیارات کے اندھادھند استعمال پر قانونی روک ٹوک کے بغیر کسی بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی۔ خوش قسمتی سے ابھی بہتری لانے کے مواقع موجود ہیں۔ یہ ایک عام فہم سوال ہے کہ مجسٹریٹ اور تفتیش کاروں کے مابین فاصلہ بہت حد تک کم ہو گیا ہے اس لئے مجسٹریٹ کی حیثیت سے اس کے پولیس کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ کیلئے دائرہٴ کار اور اس کے قانونی افعال کے احاطہٴ کار کو سیالکوٹ میں جیسا کہ پولیس نے مطلق العنانیت کا مظاہرہ کیا، سے بچنے کیلئے اس کو دوبارہ سے وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔
-26 پولیس کی نظر میں یہ ایک عام سا واقعہ تھا۔ ایس ایچ او فوراً موقع واردات پر نہیں پہنچا جب تک دونوں بھائیوں کی جان نہیں نکل گئی۔ ڈی پی او اپنی رہائش گاہ پر موجود رہا۔ گوجرانوالہ کا آر پی او واقعے کے 5 سے 6/دن بعد پہنچا۔ تمام حالات و واقعات واضح طور پر نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کے مطابق یہ غیر معمولی یا خطرناک واقعہ نہیں تھا۔ پولیس کی یہ ذہنیت سنجیدہ سوچ کی متقاضی ہے۔
-27 اوپر جو کچھ کہا گیا ہے اس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ موقع واردات پر موجود تمام پولیس افسران اور اہلکاروں نے جو دونوں بھائیوں کے قتل میں شریک تھے جائے وقوعہ پر موجود پولیس اہلکار تمام واقعے کو خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہے، اب عدالت عالیہ اس بات کا تعین کرے گی کہ یہ جرم کے ذیل میں آتا ہے یا نہیں۔
-G آیا واقعے کے پہلے تفتیش کار ایس آئی شاہین شاہ بخاری اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر فاروق نے دونوں بھائیوں کے قتل کے حوالے سے طبی شواہد تباہ اور ختم کر دیئے۔
-28 تفتیش کار ایس آئی شاہین شاہ بخاری پولیس اسٹیشن صدر سیالکوٹ نے زخموں کا اسٹیٹمنٹ تیار کیا۔ (مارک X) نامعلوم لاش کے حوالے سے جو بعد میں مغیث سجاد کی حیثیت سے شناخت ہوئی اس کے ماتھے اور سرکی بائیں جانب چیر پھاڑ اور ناک، ہونٹوں، جبڑے اور بائیں کلائی پرضرب کی نوعیت کے صرف سات زخم مشاہدے میں آئے۔ ایس آئی نے متوفی منیب سجاد کے زخموں کی بھی رپورٹ بنائی اور محض چار چیر پھاڑ والے زخم اور ضربوں سے آنے والے دو زخموں پر مشتمل اسٹیٹمنٹ تیار کیا۔ (مارک Y) سینئر میڈیکل آفیسر نے 4:30 بجے شام کو دونوں لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا۔ انہوں نے متوفی مغیث کے جسم پر محض اٹھارہ اور متوفی منیب کے مردہ جسم پر بارہ زخموں کی نشاندہی کی۔ ویڈیو کلپ (مارک ایف، جی۔1، ایچ، 3، کے) اور تصاویر دیکھنے کے بعد یہ کہنا مشکل نہیں کہ بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں متوفی افراد کے پورے بدن پر لا تعداد زخم آئے اور ان کے چہرے مسخ ہو چکے تھے، لاشوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا، حملہ آوروں نے لاشوں پر لاٹھیوں اور اینٹوں سے ضربیں لگائیں، دوسرے الفاظ میں دونوں لاشوں پر مرنے سے پہلے اور بعد میں متعدد زخم آئے تھے۔ ایس آئی شاہین شاہ بخاری اور پوسٹ مارٹم ایگزامنر نے ظالمانہ تشدد کو چھپایا اور بالترتیب اپنی رپورٹوں میں کہا کہ دونوں متوفی افراد کو چند زخم آئے۔ ڈاکٹر اور تفتیش کار قتل کے طبی ثبوت کو دبانے اور ختم کرنے کے الزام میں قانونی چارہ جوئی کے ذمہ دار ہیں۔ میں نے تجویز دی ہے کہ اچھی شہرت کے حامل سینئر ڈاکٹروں جنہیں بہ خوبی طبی علم سے آگاہی ہو ان سے مغیث اور منیب کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کروایا جائے کیونکہ چند عینی شاہدین کے بیانات کی اب تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
-29 ابتدائی طور پر ریسکیو کے عملے نے ذمہ دارانہ طریقے سے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہوئے فوری طور پر اس واقعے کی اطلاع پولیس کو دی۔ بعدازاں انہوں نے اپنی قانونی ذمہ داری اور عمل کو پولیس اور ہجوم کے حوالے کر دیا۔ پستول برآمد ہونے کے حوالے سے ریسکیو کے افسران کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ واقعے کے آغاز کے فوراً بعد ہی ریسکیو اہلکار اس پوزیشن میں تھے کہ وہ فوری طور پر دونوں بھائیوں کو اسپتال منتقل کر سکیں لیکن انہوں نے پہلے مقامی پولیس کو اطلاع دینا مناسب سمجھا بعد میں صورتحال خطرناک رخ اختیار کر گئی اور ریسکیو کے اہلکار لاچار ہو گئے اور انہوں نے ویسا ہی کیا جیسا کہ حملہ آور چاہتے تھے۔ ریسکیو ورکر ماجد علی اپنا بیان قلمبند کروانے کے بعد میرے سامنے حاضر ہوا اور روتے ہوئے کہا کہ اس پر زبردستی کی گئی تھی کہ وہ متوفی سے پستول چھیننے کے بارے میں بیان دے تاہم ماجد اس شخص کی شناخت کرنے کیلئے تیار نہیں جس نے اسے غلط بیان دینے پر مجبور کیا۔ درحقیقت پولیس کی اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کے سبب ریسکیو اہلکاروں نے انہیں حملہ آوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
-30 ڈسٹرکٹ گورنمنٹ سیالکوٹ کے ایڈمنسٹریٹر اور ڈی سی او مجاہد شیر دل نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ کو ایک خط لکھا (مارک 2) جس میں انہوں نے واقعے سے متعلق پولیس کے بیان کو مسترد کر دیا اور انہیں قتل میں مجرموں کا شریک کار قرار دیا۔ اگرچہ کہ ڈی سی او نے واقعے کی کوئی انکوائری نہیں کروائی لیکن ان کے خیال میں (مارک 2) کو بہ آسانی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے ان کے پاس علاقے کے رہائشیوں سے دل کی باتیں کرنے کا موقع ہے۔
-31 اس کا اختتام ہونے سے قبل میں یہ ضرور کہوں گا کہ انکوائری کے دوران میں نے خود کو علاقے کے لوگوں سے الگ نہیں کیا تاکہ سچائی غلط بیانی کے ساتھ الجھ نہ سکے۔ بہرحال میں ایک انسان ہوں اور جو باتیں لوگوں نے مجھ سے خفیہ رکھیں میں ان سے لاعلم ہوں۔ سچائی کے چہرے پر کچھ نہیں لکھا ہوتا جس سے جھوٹ کی پہچان ہو سکے، اس کے باوجود میں نے سچائی پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
(ختم شد)
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 83
Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (26-09-10)
پرانا 26-09-10, 02:52 AM   #2
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,064
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سانحہ سیالکوٹ کی سپریم کورٹ میں پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ کا مکمل متن منتظمین کی تجویز پر سرورق کے لئے پیش خدمت ہے۔
گلاب خان آف لائن ہے   Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (26-09-10)
جواب

Tags
فروخت, فرض, پہچان, پاکستان, قرآن, نیند, چور, نماز, موٹر سائیکل, موت, موجودہ, مسجد, احتجاج, بچوں, تعلیم, تصاویر, جھوٹ, خواتین, دوست, دریافت, راستہ, عورت, عقد, علی, صدر،


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سپریم کورٹ میں پیش کی گئی سانحہ سیالکوٹ کی تحقیقاتی رپورٹ کا متن گلاب خان خبریں 10 24-09-10 03:13 AM
سانحہ سیا لکوٹ کا مفرور ایس ایچ او رانا الیا س ساتھی سپاہی سمیت گرفتار جاویداسد خبریں 0 03-09-10 10:53 PM
سیالکوٹ میں قتل ہونے والے بھائی ڈاکو نہیں تھے، انکوائری کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش گلاب خان خبریں 4 02-09-10 01:37 PM
سانحہ سیالکوٹ: جسٹس کاظم رپورٹ میں اہم سوالات کے جوابات نہیں دیئے گئے گلاب خان خبریں 0 02-09-10 03:15 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:23 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger