حکمرانوں کی نیب کے معاملات کو خواہشات کے مطابق چلاتے رہنا ممکن نہیں، این اے او ڈپٹی چیئرمین کو کوئی اختیار نہیں دیتا
اسلام آباد (انصار عباسی)کسی نہ کسی دن جسٹس (ر) دیدار کی برطرفی کا خدشہ ذہن میں رکھتے ہوئے نیب کے چیئرمین کو حاصل تمام اختیارات صدر زرداری کے قریبی ساتھی اور ڈپٹی چیئرمین نیب جاوید ضیاء قاضی کو منتقل کردیئے گئے جوکہ ملازمت پر موجود رہیں گے لیکن حکمرانوں کی خواہشات پوری کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے دیدار شاہ کی تقرری کو کالعدم قرار دینے سے اپنے نائب کو تمام اختیارات تفویض کرنے کا جسٹس دیدار کا فیصلہ از خود غیرقانونی قرار پاتا ہے ما سوائے اس کہ سپریم کورٹ اپنے تفصیلی حکم میں اس کے برخلاف کچھ کہہ دے۔ جسٹس (ر)دیدارکی جانب سے اپنے تمام اختیارات اپنے نائب کو سونپنے کا فیصلہ بھی واپس ہوگیا جس نے متنازع چیئرمین کو صرف ادارے کے برائے نام سربراہ کی حیثیت تک محدود کردیا تھا۔ بطور چیئرمین نیب تقرری کے کچھ ہی عرصے بعد حکومت کے وفادار سید دیدار شاہ اپنے تقریباً تمام اختیارات اپنے ڈپٹی چیئرمین جاوید ضیاء قاضی کو تفویض کردیے۔ مذکورہ داخلی حکم کی رو سے ڈپٹی چیئرمین نیب سارے اختیارات کے مالک ہوگئے۔ نیب کے ڈائریکٹر جنرل ہیومن ریسورس کے دستخطلئےیہ غیرمعمولی حکم چیئرمین نیب کی ممکنہ برطرفی کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری کیا گیا تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ اگر ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے تونیب کے معاملات حکومت کی خواہشات کے مطابق چلتے رہیں۔ اس مذکورہ داخلی حکم کے اجراء سے قبل ہی پی پی پی کے حامی دیدار شاہ کی تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے کئی پٹیشنز دائر کی گئی تھیں۔ خیال کیا جارہا تھا کہ چیئرمین کے اختیارات ڈپٹی چیئرمین کو سونپے جانے والایہ حیران کن داخلی حکم قائد حزب اختلاف کی جانب سے درخواست کردہ حکم امتناع اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے اجراء کی صورت میں ڈپٹی چیئرمین کو بیورو کواپنی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے کا اختیار دے دے گا۔ نیب کے اس داخلی حکم پر چیئرمین کے متعدد اختیارات درج ہیں جو کہ ڈپٹی چیئرمین کو سید دیدار شاہ نے منتقل کردیئے ہیں۔ چیئرمین نیب کے تفویض کردہ اختیارات میں تقرری وغیرہ سے متعلق انتظامی اختیارات، مالیاتی، آپریشنل اور بیورو کے روز مرہ کے معاملات وغیرہ شامل تھے۔ مذکورہ داخلی حکم میں، جس کی قانونی حیثیت پر نیب میں بھی سوالات اٹھائے گئے تھے، ڈپٹی چیئرمین نیب کو اتنا اختیار دے دیا گیا تھا کہ وہ نیب کی تمام انکوائریز، تحقیقات، ریفرنسز اور عدالت کے کیسز بشمول این آر او کیسز کے حوالے سے اہم فیصلے کرسکیں۔ قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) ڈپٹی چیئرمین نیب کو کوئی اختیار نہیں دیتا،اس آرڈیننس کے تحت تمام اختیارات چیئرمین کے پاس ہوتے ہیں۔ بہرحال اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب کسی تحریری حکم کے ذریعے اپنے کوئی اختیار کسی کو تفویض کرسکتا ہے یا کسی کام کی ذمہ داری نیب کے کسی ایسے افسر کو سونپ سکتا ہے جو کہ اس کے لئے مناسب ہو اور کرسکتا ہو اور اس سلسلے میں شرائط اگر ہوں تو وہ بھی حکم میںبیان کی جائیں گی تاکہ آرڈیننس کا مقصد پورا ہوسکے۔ نیب میں موجود ذرائع نے کہا کہ اس داخلی حکم کے بعد دیدار شاہ بیکار ہوکر رہ گئے تھے کیونکہ جاوید قاضی ہی تمام اہم اجلاسوں کی صدارت کرتے تھے اور اہم فیصلے کرتے تھے خواہ وہ انتطامی ہوں یا قانونی۔ جاوید قاضی کی بدقسمتی دیکھئے کہ ایسا دوسری بار ہوگا کہ ان کے تمام اقدامات جو کہ انہوں نے چیئرمین کے بدلے لئے ہیں سارے کے سارے کالعدم ہوجائیں گے۔ پہلے سپریم کورٹ نے قاضی کی قائم مقام چیئرمین کی حیثیت سے تقرری غیرقانونی قرار دی اور نتیجتاً ان کے قائم مقام چیئرمین کی حیثیت سے دیئے گئے تمام فیصلے اور اقدامات غیرموثر ہوگئے۔ اب ان کو دوبارہ اس صورتحا ل کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ سپریم کورٹ نے دیدارشاہ کی تقرری کو غیرقانونی قرار دیدیا ہے۔ ڈپٹی چیئرمین نیب جاوید قاضی ایک متنازع افسر ہیں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق سابقہ حکومت میں ان کو مشکوک ساکھ کی بناء ترقی نہیں دی گئی تھی بلکہ دیگر کو فوقیت دی گئی۔ ان کو موجودہ دور حکومت نے2009ء میں ترقی دی۔ کسٹمز حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹس میں کہا گیا کہ قاضی جاوید جوکہ کسٹمز سروسز سے ہی تعلق رکھتے ہیں کو مشکوک ساکھ کی بناء پر مشرف دور میں BS-21 میں ترقی نہیں دی گئی اور وہ کئی برسوں تک اسی گریڈ میں خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کا تعلق اندرون سندھ شکارپور سے ہے اور وہ BS-21 کے کسٹمز گروپ کے افسر ہیں اور نیب میں تعیناتی سے قبل وہ کسٹم ٹریبونل کراچی میں خدمات انجام دے رہے تھے۔