|
سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد کم نہیں کی جائے گی

06-12-07, 09:09 AM
سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد کم نہیں کی جائے گی
اسلام آباد…)رپورٹ/ انصار عباسی( حکومت نے سپریم کورٹ کے جج حضرات کی تعداد سترہ سے گیارہ کرنے کی پالیسی بدل لی کیونکہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے ججوں کی تعداد کم نہ کی جائے۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم نے رابطہپر تصدیق کی ہے کہ جج حضرات کی تعداد کم کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی گئی ہے کیونکہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے خیال کے مطابق سپریم کورٹ کے سامنے جتنا کام ہے اسے نمٹانے کے لئے 11 جج کافی نہیں۔ ملک قیوم نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے مزید چھ جج جلد حلف اٹھائیں گے۔ چیف جسٹس اس سلسلے میں ذاتی طور پرنامزدگی کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ نئے ججوں میں بلوچستان، سندھ اور سرحد سے ایک ایک اور دو یا تین جج پنجاب سے لئے جائیں گے۔ اس سوال پرکہ آیا معزول جج حضرات سے بھی کوئی جج لیا جائے گا تو اٹارنی جنرل نے واضح طور پر جواب دیا کہ ”نہیں“ اسلام آباد میں یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس راجہ فیاض، جسٹس فلک شیر کو بحال کردیا جائے گا جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ”یہ باب بند ہو چکا ہے“ کیونکہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والے کسی جج کو حلف اٹھانے کی دعوت نہیں دی جائے گی۔ دریں اثناء نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرایک ممتاز لاء افسر نے بتایا ہے کہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے بعض جج حضرات سے نیا حلف اٹھانے کے لئے رابطہ کیا تھا جبکہ سینیارٹی کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر آنے والے اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے بھی سینئر جسٹس جاوید اقبال سے بھی رابطہ کیا گیا تھا جسٹس عبدالحمید ڈوگر بھی انہیں واپس لانے پر رضامند ہو گئے تھے تاہم صدر نے ایسا کرنے سے اتفاق نہیں کیا جبکہ جسٹس جاوید اقبال پی سی او کی بجائے آئین کے تحت حلف اٹھانے کی شرط پر اپنی سینیارٹی قربان کرنے پر بھی آمادہ تھے۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|