والٹرز پاور انٹرنیشنل اور پاکستان پاور ریسورسز نے حکومت پاکستان کی ایماءپر معاہدے کرنے والی سنٹرل پاور جنکو کو رقم سود سمیت واپس کر کے اس کی رسیدیں سپریم کورٹ میں جمع کر ادیں
قومی دولت کا ضیاع نہیں ہونا چاہئے، رینٹل پاور کمپنیوں کے وکلاءنے جو کچھ کیا وہ درست اقدام ہے،چیف جسٹس افتخار چوہدری ، سنٹرل پاور جنکو کے چیف ایگزیکٹو سے آئندہ سماعت پر انکوائری رپورٹ طلب
اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے دو رینٹل پاور کمپنیوں نے مارک اپ سمیت سوا دو ارب روپے کی رقم واپس کر دی ہے، گدو اور نوڈیرو II پاور پراجیکٹس کی مشینری کی خریداری کی مد میں حکومت سے پیشگی وصول کی جانے والی دو ارب روپے کی رقم کو دو رینٹل پاور کمپنیوں والٹرز پاور انٹرنیشنل اور پاکستان پاور ریسورسز نے مارک اپ سمیت واپس کر دیا۔ بدھ کے روز والٹرز پاور کے وکیل شاہد حامد اور پاکستان پاور ریسورسز کے وکیل ڈاکٹر پرویز حسن نے عدالت کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ دونوں کمپنیاں حکومت سے پیشگی وصول کردہ رقم کو 24 گھنٹوں میں مارک اپ سمیت واپس کر دیں گی اور عدالتی حکم کے تحت حکومت پاکستان کی ایماءپر معاہدے کرنے والی سنٹرل پاور جنکو کو یہ رقم واپس کی گئی ہے اور اسکی رسیدیں سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس غلام ربانی اور جسٹس خلیل الرحمن رمدے پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے مزید سماعت 14 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے سنٹرل پاور جنکو کے چیف ایگزیکٹو کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ دونوں رینٹل پاور کمپنیوں کو دو ارب کی رقم ایڈوانس دینے میں ملوث افراد پر ذمہ داری کا تعین کریں کہ ان افسران یا افراد نے حقائق کو جانے بغیر ہی پیشگی رقم کی ادائیگی کی ہدایات کیوں جاری کیں۔ عدالت میں نیپرا کی جانب سے نجم الحسن کاظمی اور سنٹرل پاور جنکو کے چیف ایگزیکٹو عبدالمالک میمن پیش ہوئے۔ کیس کی سماعت شروع ہوئی تو دو رینٹل پاور کمپنیوں پاکستان پاور ریسورسز اور والٹرز پاور انٹرنیشنل کے وکلاءنے عدالت کو تحریری یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہم دو ارب روپے کی رقم مارک اپ سمیت واپس کر دیں گے، رقم محفوظ ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قومی دولت کا ضیاع نہیں ہونا چاہئے قومی دولت کے بارے میں سب کی سوچ اسی طرح ہونی چاہئے۔ والٹرز پاور انٹرنیشنل سمیت دونوں کمپنیوں کی پاکستان میں نمائندگی ایک اہم شخصیت کے قریبی دوست اقبال زیڈ ایم خان کر رہے ہیں جبکہ والٹرز کے مالک ڈیوڈ والٹر کا تعلق امریکہ سے ہے جو امریکی ریاست اوکلوہاما کے سابق گورنر بھی رہ چکے ہیں۔ منگل کے روز والٹرز کے وکیل شاہد حامد نے عدالت سے ایک دن کی مہلت لیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے موکل کا تعلق امریکہ سے ہے اور ان کو بات کرنے کے لئے ایک دن چاہئے۔ وکلاءنے عدالت کے روبرو پیش ہو کر کہا کہ دونوں رینٹل پاور کمپنیاں یہ رقم مارک اپ سمیت واپس کر دیں گی اور رقم لاہور میں واپس کر دیں گے۔ چیف جسٹس نے وکلاءسے کہا کہ آپ لوگوں نے اس حوالے سے قومی فریضہ انجام دیا ہے، آپ نے جو کچھ کیا وہ درست اقدام ہے والٹرز پاور کے وکیل شاہد حامد نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ رقم کا بندوبست ہو گیا ہے جبکہ پاکستان پاور ریسورسز کے وکیل ڈاکٹر پرویز حسن نے کہا کہ یہ رقم محفوظ ہے اسکو کسی اور جگہ استعمال نہیں کر سکتے۔ کیس کے مطابق حکومت نے دونوں رینٹل پاور کمپنیوں کو گدو اور نوڈیرو II ریٹنل پاور پراجیکٹس کی مشینری و دیگر کے ایڈوانس کی مد میں 2 ارب روپے ادا کئے ان کو ایڈوانس کے طور پر 11.28 ملین ڈالر اور 10.15 ملین ڈالر ادا کئے گئے۔ رینٹل پاور کمپنیوں کو 14 فیصد پیشگی رقم ادا کی گئی جب کمپنیاں گدو پاور پراجیکٹ پر کام کر رہی تھیں تو اس دوران نو ڈیرہ II پاور پراجیکٹ کا معاہدہ کیا گیا، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریٹنل پاور کمپنیوں کے وکلاءنے کہا کہ وہ جنکو کے خلاف 14 ملین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ بھی کریں گے، سپریم کورٹ نے سنٹرل پاور جنکو کے چیف ایگزیکٹو سے آئندہ سماعت پر انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی