|
سپریم کورٹ کے فیصلے پر احتجاج قابل سزا جرم ہوگا

11-03-11, 06:49 AM
یوم احتجاج منانا یا مظاہرے کرنا توہین عدالت ہے، جسٹس سعید الزمان، جسٹس طارق محمود و دیگر
اسلام آباد (دلشاد عظیم) چیئرمین نیب جسٹس دیدار حسین شاہ کے کیس میں عدالتی فیصلے کیخلاف پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکن احتجاج یا نامناسب زبان استعمال کر کے قابل سزا جرم کا ارتکاب کریں گے ۔ماہرین نے اس متفقہ رائے کا اظہار کیا ہے کہ یوم احتجاج منانا یا مظاہروں کا اہتمام کرنا نہ صرف توہین عدالت کا اقدام بلکہ عدالتی فیصلے پر ردعمل کا نامناسب طریقہ ہوگا سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی، جسٹس (ر) طارق محمود، ایڈووکیٹ احمد اویس اور دیگر ماہرین سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین نیب سے متعلق فیصلے پر احتجاج کے منصوبے پر ان کی رائے جاننے کیلئے رابطہ کیا گیا سابق چیف جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی کا کہنا تھا کہ ایسے کسی بھی اقدام کی ذمہ داری پوری جماعت پر ہوگی کیونکہ اس قسم کے فیصلے مرکزی قیادت کی ہدایت پر کئے جاتے ہیں عدالتی فیصلے کیخلاف نہ تو احتجاج کی کال دی جا سکتی ہے ا ور نہ ہی مظاہرہ کیا جا سکتا ہے تہذیب یافتہ معاشروں میں یوم احتجاج منانا یا مظاہرے کرنا کوئی اچھا اقدام نہیں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو ایسا کوئی بھی منصوبہ ترک کر دینا چاہئے کیونکہ اس سے مزید مسائل جنم لیں گے ملک جن کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ہم سب کو آئین و قانون پر عمل کرنا چاہئے ماہرین نے آئین کے آرٹیکل 204 کا حوالہ دیا جو توہین عدالت کے کیسوں اور آرٹیکل 189 اور90 عدالتی احکامات پر عملدآمد سے متعلق ہے ان کے مطابق ملک بھر میں عام انتظامی اور عدالتی حکام سپریم کورٹ کے معاونت کے پابند ہیں جسٹس (ر) طارق محمود کا کہنا تھا کہ عدالت کا فیصلہ پبلک پراپرٹی بن جاتا ہے ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بعض حدود و قیود میں رہتے ہوئے اس پر تنقید کرسکتا ہے لیکن احتجاج یا مظاہروں کی شکل میں نہیں انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو کم از کم تفصیلی فیصلہ آنے تک اپنارد عمل ظاہر نہیں کرنا چاہئے تھا میر ے خیال میں ری ویو پٹیشن کا آپشن استعمال کئے بغیر اور تفصیلی فیصلہ پڑھے بغیر احتجاج کا اعلان کرنا مناسب نہیں انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور ججوں کو بدنام یا اسکینڈل میں ملوث کرنے کی کوشش کرنا کبھی بھی جائز رد عمل نہیں ہو سکتا ایسے کسی بھی اقدام پر توہین عدالت لاگو ہوتی ہے تاہم انہوں نے توہین عدالت کی شقوں کے جتنا ممکن ہو سکے کم استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی فیصلے کو درست یا غلط قرار دیکر اس پر تنقید تو کر سکتے ہیں مگر عدلیہ یا ججوں کو بدنام نہیں کر سکتے ۔ جب ان سے مرکزی قیادت کے کردار سے متعلق پوچھا گیا تو انہوںنے کہا کہ یہ بات تو ظاہر ہے کہ جب تک پارٹی کے رہنماﺅں کی جانب سے اشارہ نہ ملے کارکن کوئی مظاہرہ نہیں کر سکتے لیکن میں حیران ہوں کہ تاج حیدر جیسے شخص نے احتجاج کی کال دی ہے ایک اور ماہر قانون احمد اویس جو عاصمہ جہانگیر کے خلاف سپریم کورٹ بار کا الیکشن ہار گئے تھے کی یہ رائے تھی کہ پیپلز پارٹی کا مظاہرے کا فیصلہ یا پھر وزیر قانون بابر اعوان کا بیان توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے پیپلزپارٹی کی قیادت یا وہ لوگ جو کھلے عام اس فیصلے کے خلاف اظہار رائے کر رہے ہیں توہین عدالت کے تحت مستوجب سزا ہیں ان کا کہنا تھا کہ عدالت یا اس کے فیصلوں کے خلاف کسی فرد واحد یا گروپ کے سڑکوں پر آنے کی ممانعت ہے اور اگر کارکنوں کو احتجاج کیلئے آزاد چھوڑ دیا جائے تب بھی پارٹی کی قیادت ذمہ دار ہے عدالت کو کسی بھی ایسے شخص کو سزا دینے کا اختیار ہے جو (1 ) نازیبا الفاظ کہے کسی بھی طریقے سے عدالتی کارروائی میں رکاوٹ بنے یا مداخلت کرے یاعدالتی احکامات کو ماننے سے انکاری ہو (2 ) عدالتوں کو اسکینڈل میں ملوث کرے یا کوئی بھی ایسا اقدام کرے جو عدالت یا کسی جج کے خلاف اظہار نفرت اس کا تمسخر اڑانے یا توہین کے مترادف ہو (3 ) یا کوئی ایسا اقدام کرے جس میں عدالت کے سامنے موجود کسی کیس کو تعصب کا نتیجہ قرار دیا جائے یا پھر کوئی ایسا اقدام کرے جو آرٹیکل 204 (2 ) کے تحت توہین عدالت سمجھا جائے ۔
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|