واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد زرداری کے پاس محدود آپشنز

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-03-11, 06:57 AM   #1
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد زرداری کے پاس محدود آپشنز
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 11-03-11, 06:57 AM

دونوں صورتوں میں ایوان صدر کی خواہش پوری نہیں ہوسکتی ، نتیجہ سندھ کارڈ کا استعمال نکلا
اسلام آباد( طارق بٹ ) نیب کے سربراہ جسٹس (ر) دیدار حسین شاہ کو ہٹانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے نے بالآخر زرداری گیلانی کو محاذ آرائی کے موڈ میں لا کھڑا کیا ہے اور پہلا مرحلہ سندھ کارڈ کا استعمال ہے، جہاں سپریم کورٹ کے خلاف صوبہ بھر میں کال دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ پی پی رہنماﺅں کو ایک تنگ کونے میں لے گیا ہے جہاں ایک سدھائے ہوئے نیب کے پاس ان کی ماضی کی کرپشن اور مالی مفادات کا تحفظ دینے کا شاید ہی کوئی آپشن رہ گیا ہو ۔احتساب سے گریزاں اور بری طرح کارنر ہونے والی پی پی (حکومت ) نے فاضل عدالت کے فیصلے کے خلاف فوری رد عمل ظاہر کیا اورجمعہ کو سندھ بھر میں احتجاج کا اعلان کردیا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے مفادات بری طرح مجروح ہوئے ہیں اور نتیجہ سندھ کارڈ کا فوری استعمال نکلا ہے۔ یہ نکتہ اس کے علاوہ ہے کہ دیدار کو اس کے ڈومیسائل کے باعث نااہل قرارنہیں دیا گیا بلکہ تقرری کے غیر قانونی عمل کے باعث دیا گیا۔ حکومتی رد عمل سے یہ حقیقت بھی ثابت ہوتی ہے کہ دیدار بااعتماد وفا دار تھے ،احتجاج کا مقصد عدلیہ اورحکومت کے درمیان محاذ آرائی پیدا کرنا ہے، حیرت انگیز طور پر تاج حیدر جو ایک دانشور شمار کئے جاتے ہیں نے لگتا ہے صدر زرداری کی ہدایت پر بلا سوچے سمجھے عمل کیا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے مفادات بری طرح متاثر ہوئے اور پارٹی احتساب کا سامنا کرنے یا آزاد عدلیہ کو قبول کرنے پر تیار نہیں ۔دیدار شاہ کی فراغت نے حکومت کے لئے دو چوائس چھوڑے ہیں یا تو وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر اورچیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت سے ایک آزاد چیئرمین نامزد کیا جائے یا میثاق جمہوریت کے مطابق نیب کی جگہ ایک خود مختار احتساب کمیشن بنایا جائے۔ دونوں صورتوں میں ایوان صدر کی خواہش پوری نہیں ہو سکتی۔ اس صورتحال میں ایک غیر مناسب راستہ یہ بھی ہے کہ نیب کو سربراہ کے بغیر رکھا جائے مگر واضح رہے کہ اس طریقے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔دیدار شاہ تیسرے چیئرمین نیب ہیں جن کو ایک سال میں سپریم کورٹ کے احکامات پرجانا پڑے گا اور اس کے بعد یہ نام نہاد اینٹی کرپشن ایجنسی اس کے ڈپٹی جاوید ضیا قاضی کے ماتحت ہوگی۔ نیب کے پراسیکیوٹرجنرل کی اہم پوسٹنگ گزشتہ سال فاضل عدالت کے فیصلے کے بعد اس وقت سے خالی پڑی ہے جب عرفان قادری کی نامزدگی کو غیر قانونی قرار دیدیا گیا تھا۔ حکومت نے انہی وجوہات کے باعث ان کی جگہ نامزدگی نہیں کی، تاہم اس سے حکومت کی نیم دلی ظاہر نہیں ہے جو اُس نے خا ص طور پر صدر زرداری اور کئی دوسرے حکومتی طاقتور افراد کے زیر التوا کیسوں کی پیروی کے معاملے میں اختیار کررکھی ہے۔ گزشتہ برس سپریم کورٹ نے قاضی کی بطور قائم مقام نیب چیف فنکشنگ کو کالعدم کر دیا تھا اور حکومت کو مکمل چیئرمین مقرر کرنے کے لئے کہاں گیا تھا ۔ انہیں نوید احسن کے استعفے کے بعد ایکٹنگ چیئرمین بنایا گیا تھا ۔ حکومت نیب کو قاضی کے ماتحت چلانا چاہتی تھیں۔ جواب دوبارہ ڈی فیکٹو چیف بن گئے ہیں مگر یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ آیا وہ عدالت کی اس سابقہ رولنگ کی روشنی میں مکمل اختیارات کے ساتھ بطور ایکٹنگ نیب چیف کام کرسکیںگے جس کے تحت ان کی نامزدگی کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم واضح طور پر دیدار حسین شاہ کی نامزدگی مسترد ہونے پر ناخوش حکومت مستقل قریب میں اس کا بدل تلاش نہیں کرنا چاہتی اور وہ بھی چیف جسٹس آف پاکستان اور اپوزیشن لیڈرکی بامعنی مشاورت سے ۔ آغاز میں سپریم کورٹ نے حکومت کو نیب چیئرمین کی نامزدگی کے لئے ایک ماہ کی مدت دی تھی جو گزشتہ سال 30ستمبر کو ختم ہوئی تاہم حکومت نے اسی روز عدالت سے یہ کہتے ہوئے مزید3ہفتے مانگ لئے کہ وہ ”ناگزیر حالات “ کے باعث ایسا نہیں کرسکے مگر عدالت نے 10روز مزید دیدئیے ۔ اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی جو اس تقرری کے اہم مشیر ہیں نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے دو ناموں جسٹس (ر) مختار جونیجو اور دیدار حسین شاہ پر شدید اعتراضات کئے اور اس سلسلے میں تحریری مراسلہ بھیجا، انہوںنے دونوں کو جانبدار قرار دیا تھا ، تاہم حکومت نے موقف اختیار کیا کہ مشاورت اور ضروری ایڈوائس میں فرق کیا جانا چاہئے اوردلیل دی کہ مشاورت کا مطلب یہ نہیں کہ اپوزیشن لیڈر جو بھی تجویز کریں وزیراعظم اسے قبول کرنے کے پابند ہیں۔ اپنی مشاورت مسترد کئے جانے پر چوہدری نثار نے تقرری کو فاضل عدالت میں چیلنج کردیا۔ چیف جسٹس سے مشاورت نہ کرنے پر بھی حکومت نے سپریم کورٹ کے دو فیصلوں میں دی گئی اس سلسلے میں گائیڈ لائنز کو نظر انداز کردیا۔ ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری آبزرویشن دے چکے تھے کہ دیدار حسین شاہ کی تقرری عدالتی فیصلے کی ایک اور خلاف ورزی ہے اور اسفند یار ولی کیس کی روشنی میں اس نامزدگی کے لئے چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت ضروری ہے ۔ ماہرین کا خیال تھا اسفند یار ولی بنام فیڈریشن اور این آر او پر فیصلوں کے تحت صدر زرداری جسٹس افتخار چوہدری کے ساتھ مشاورت کے پابند تھے ۔ دیدار حسین شاہ کو نامزد کرتے ہوئے کسی مرحلے پر مشاورت نہیں کی ۔نیب قانون پر 2001ءکا جامع فیصلہ جس کا 16دسمبر2009ءکو این آر او رولنگ میںحوالہ دیا گیا نے نیب چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل کی تقرری کے صدارتی اختیارات کو روک دیا تھا ۔ این آر او فیصلے میں فاضل عدالت نے تجویز کیا کہ وفاقی حکومت نیب کے چیئرمین پراسیکیوٹرجنرل اورڈپٹی کے عہدے پر ”اعلیٰ درجے کی قابلیت، نیب آرڈیننس کی شق 6کے تحت ساکھ کے حامل اور اسفند یار بنام فیڈریشن آف پاکستان کیس میں دی گئی آبزرویشنز کی روشنی میں “نئی تقرریاں کر سکتی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی نے نیب آرڈیننس کے نفاذ کے فوری بعد اس کو چیلنج کیا تھا ۔ چیف جسٹس ارشاد حسن کی سربراہی میں 4رکنی بنچ نے نیب کے چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل کی تقرریوںکے لئے پیرا میٹرز مقرر کئے تھے یہ کہا گیا تھا کہ نیب آرڈی ننس کا سیکشن 6میں شرائط کی مناسب تبدیلی کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نیب کے چیئرمین کا تقرر چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت سے کریں گے جو 3سال کی مدت کے لئے ہوگا ۔ پرویز مشرف حکومت نے اس فیصلے میں دیئے گئے پیرامیٹرز کو شامل کرتے ہوئے نیب قانون کو تبدیل کیا تاہم چیف جسٹس کی مشاورت سے متعلق گائیڈ لائنز کو نظر انداز کردیا گیا ۔ اس کے بجائے نیب چیئرمین کی تقرری میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے شامل کرلیا گیا۔
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,223 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 89
Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (11-03-11)
جواب

Tags
کورٹ, کارڈ, پاکستان, وفا, نثار, نظر, مکمل, احتجاج, اسلام, اعلیٰ, تلاش, تاج, تحریری, جواب, خلاف, راستہ, زرداری, سپریم, سال, طاقتور, عدالت, صورتحال, صدارتی, صدر, صدر زرداری


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سپریم کورٹ کے فیصلے پر احتجاج قابل سزا جرم ہوگا گلاب خان خبریں 0 11-03-11 06:49 AM
پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے کوئی پیش نہ ہوا تو عدالت یک طرفہ فیصلہ کرسکتی ہے، سپریم کورٹ گلاب خان خبریں 0 25-02-11 05:10 AM
کابینہ کمیٹی کیلئے سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلوں کا جائزہ بڑا چیلنج ہے عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 10:18 AM
جھنگ فیصل آباد روڈ پر ریلوے پھاٹک پر روہی ایکسپریس ٹرالر سے ٹکرا گئی عبدالقدوس خبریں 0 13-04-08 08:17 AM
نومبر وردی کا آخری دن ہے،صدر پرویز کو سپریم کورٹ کا فیصلہ ماننا پڑے گا،جسٹس وجیہہ عبدالقدوس خبریں 0 27-10-07 09:50 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:24 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger