|
سپر یم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف حکم امتناع معطل کر دیا

25-12-07, 12:01 PM
اسلام آباد (نمائندہ جنگ،ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے قیام کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکم امتناع کے احکامات کو معطل کر دیا اور قرار دیا ہے کہ وفاقی حکومت اسلام آباد ہائیکورٹ کے قیام سے متعلق مزید اقدامات کر سکتی ہے،دوران سماعت جسٹس عباسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اختیار سماعت کے بغیر حکم امتناع کیسے جاری کردیا؟تفصیلات کے مطابق فاضل عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم امتناع کے فیصلہ کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے دائرکی جانے والی پٹیشن کو باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کر لیا،لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکم امتناع کے احکامات کو معطل کر دیا اور مزید سماعت 7 جنوری تک ملتوی کر دی جبکہ فاضل عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے قیام سے متعلق تمام تر ریکارڈ کو لاہور ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ منتقل کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور مزید قرار دیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے قیام سے متعلق کیس کا اختیار سماعت حاصل نہیں ہے۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس ایم جاوید بٹر اور جسٹس اعجاز یوسف پر مشتمل چار رکنی لارجر بنچ نے کی۔ وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل جسٹس(ر) ملک محمد قیوم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کو مقدمے کی سماعت کا اختیار سماعت حاصل نہیں تھا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے قیام سے لاہور ہائیکورٹ یہ سمجھتی تھی کہ شاید اسلام آباد میں ہائیکورٹ کے قیام سے اس کا دائرہ اختیار کم ہو جائے گا۔حالانکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے قیام سے کسی بھی ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار کم نہیں ہو گا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں فیڈرل کیلئے ایک علیحدہ ہائیکورٹ ہوتی ہے۔ پڑوسی ملک انڈیا میں وفاقی دارالحکومت کے لئے علیحدہ دہلی ہائیکورٹ قائم کی گئی ہے جس میں 26 جج کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے قیام سے متعلق سابقہ وفاقی کابینہ نے منظوری دی تھی۔ 1975ء میں لاہور ہائیکورٹ کو وفاقی دارالحکومت کے مقدمات کی سماعت کا اختیار وقتی طور پر دیا گیا تھا۔اسلام آباد سے لاہور 150 میل جبکہ پشاور100 میل دور ہے۔ اگر اسلام آباد کے معاملات کا اختیار دینا ہی ہے تو پھر لاہور کو کیوں، پشاور کو دے دیں کیونکہ پشاور تو لاہور سے زیادہ نزدیک ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ جلد بازی میں دیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ قائم ہونے سے کسی بھی دوسری ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار کم نہیں ہو گا۔ جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کو تو اس آئینی درخواست پر اختیار سماعت ہی حاصل نہیں تھا۔ انہوں نے حکم امتناع کس طرح جاری کر دیا۔ حکم امتناعی کا فیصلہ ٹکا اقبال کیس سے متنازع ہے جبکہ چیف جسٹس نے کہا کہ ہائیکورٹ نے حکم امتناعی کو حکم ثانی تک جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔ ہائیکورٹ کو اس بات کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے قیام کے خلاف حسن نواز ایڈووکیٹ کی پٹیشن پر 17 دسمبر کوحکم امتناعی جاری کر دیا تھا۔جس کے خلاف وفاق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے یہ حکم ایک وکیل حسن نواز کی جانب سے آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت دائر درخواست پر دیا تھا، جس میں فیڈرل ہائی کورٹ کے قیام کو چیلنج کیا گیا تھا۔ فیڈرل ہائیکورٹ کا قیام حال ہی میں کی گئی آئینی ترامیم کے تحت عمل میں لایا جارہا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے فیڈرل ہائیکورٹ کے قیام کے خلاف درخواست میں اٹھائے گئے اہم نکات پر ممتاز ماہرین قانون سے معاونت طلب کرلی اور ایس ایم ظفر، وسیم سجاد، ڈاکٹر خالد رانجھا، مجیب الرحمن اور احمر بلال صوفی کو بطور عدالتی معاون 9 جنوری کو معاونت کیلئے طلب کیا تھا۔ حکم امتناعی جاری کرنے والا لاہور ہائیکورٹ کا سہ رکنی فل بنچ مسٹر جسٹس سید شبر رضا رضوی، مسٹر جسٹس طارق شمیم اور مسٹر جسٹس حسنات احمد خان پر مشتمل تھا۔ درخواست گزار نے دلائل میں کہا تھا کہ فیڈرل ہائیکورٹ کا قیام آئین کے منافی ہے، ان کے بقول فیڈرل ہائیکورٹ کا قیام پی سی او کے تحت ترامیم کر کے عمل میں لایا جارہا ہے جو نہ صرف آئین سے متصادم بلکہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی نفی کرتا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ فیڈرل ہائیکورٹ کے قیام کیلئے آئین میں کی جانے والی ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے مترادف ہیں۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|