|
سپر یم کورٹ کے ججوں کی تعداد 29کر نیکی تجویز والا بجٹ منظور نہیں ہو نے دین

15-06-08, 08:04 PM
سپر یم کورٹ کے ججوں کی تعداد 29کر نیکی تجویز والا بجٹ منظور نہیں ہو نے دینگے،نواز شر یف
اسلام آباد ( رپورٹ: … انصار عباسی) لانگ مارچ کی کامیابی سے خوش پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے پی سی او ججوں کو برقرار رکھنے سے متعلق اپنا موٴقف مزید سخت کردیا ہے اور واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ اس بجٹ کو منظور ہونے نہیں دیں گے جس میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد16 سے 29 کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ہفتہ کو دی نیوز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے نواز شریف، جن کے صدر کی برطرفی اور 2 نومبر کی عدلیہ کی بحالی کے موٴقف نے انکی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے، نے کہا کہ وہ پی سی او ججوں کو قبول نہ کرنے سے متعلق اپنے موٴقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ججوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق قانون کا مقصد پی سی او ججوں کو اکاموڈیٹ کرکے انہیں باقاعدہ جج بنانا ہے تو ایسی کسی ترمیم کو منظور کرنا ان کیلئے ناممکن ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ آخر جنرل مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں اور ایک فوجی آمر کے آگے جھکنے سے انکار کرنے والوں کے ساتھ ایک جیسا برتاؤ کیسے کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ بجٹ تقریر میں سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد 16 سے 29 کرنے سے متعلق شامل تجویز مسلم لیگ (ن) کے مشورے سے کی گئی تھی۔ تاہم، انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ انہوں نے اس طرح کی کسی تجویز کی منظوری نہیں دی۔ 11 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے پیش کی گئی اپنی بجٹ تجاویز میں پیپلز پارٹی کی زیر قیادت حکومت نے ججوں کی بحالی کے ایشو سے نمٹنے کیلئے اسے فنانس بل (بجٹ) میں شامل کرکے متنازع طریقہ کار اختیار کیا کیونکہ اس بل کو ایوانِ بالا سے منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وزیر خزانہ نوید قمر نے اپنی بجٹ تقریر میں سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کا اعلان کیا۔ یہ تجویز اپنے لحاظ سے انوکھی تھی کیونکہ ایک متنازع سیاسی اور قانونی آپشن کو فنانس بل کا حصہ بنا دیا گیا۔ اگرچہ یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چند سینئر رہنماؤں نے اس تجویز کی فنانس بل میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن پارٹی قیادت اس عزم پر قائم ہے کہ پی سی او ججز پارلیمنٹ کے ذریعے برقرار رہنے کے مستحق نہیں ہیں۔ یہ وہی تنازع ہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے وزراء کابینہ سے مستعفی ہوگئے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ابتدائی طور پر اس خیال سے اختلاف کیا لیکن چند ہفتے قبل پیپلز پارٹی کے ساتھ دبئی مذاکرات میں مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ کے پی سی او ججوں کو ایڈ ہاک بنیادوں پر برقرار رکھنے پر رضامندی ظاہر کی اور اس کیلئے کسی قانون میں ترمیم کی ضرورت تھی اور نہ ہی اسامیوں کی تعداد میں اضافے کی۔ تاہم، معزول ججوں کی بحالی کے بعد پیپلز پارٹی پی سی او ججوں کو باقاعدہ ججوں کے طور پر برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات کی ناکامی اور مسلم لیگ (ن) کے وزراء کے استعفوں کے بعد پیپلز پارٹی اپنا آئینی پیکیج سامنے لیکر آئی ہے جس میں معزول ججوں کی آئینی ترمیم کے ذریعے بحالی اور مشرف کے 3 نومبر 2007ء کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اب یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پیپلز پارٹی معزول فنانس بل (جس میں ججوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز بھی شامل ہے) کی منظوری کے بعد معزول ججوں کو ایگزیکٹو آرڈر اور قرارداد کے ذریعے بحال کرے گی یا ان کی بحالی کیلئے متنازع آئینی ترمیمی پیکیج پر عملدرآمد کی کوشش جاری رکھے گی۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|