ریمنڈ کیس شروع ہونے سے لے کر امریکی سفیر نے کسی سفارتی تقریب میں شرکت نہیں کی
اسلام آباد (صالح ظافر) امریکی قاتل ریمنڈ ڈیوس کی قسمت کا فیصلہ عدالت میں ہوگا اور وفاقی حکومت کو استثنیٰ کے متعلق امریکی دعوے کو دیکھتے ہوئے مقدمہ لڑنا ہے۔ دونوں ملکوں کی انٹیلی جنس ایجنسیوں (سی آئی اے اور آئی ایس آئی) کا اس معاملے سے کوئی کام نہیں ہے۔ امریکی میڈیا کی جانب سے آئی ایس آئی کے ساتھ تعاون ختم کرنے کا تاثر کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کیونکہ پاکستانی ایجنسیوں کی سرگرمیاں مکمل طور پر ملکی مفاد کےلئے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق امریکی میڈیا کی جانب سے دیئے جانے والے تاثر سے متعلقہ حکام اتفاق نہیں کرتے اور یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر یہ ثابت بھی ہوجاتا کہ ریمنڈ ڈیوس کسی ملک کی خفیہ ایجنسی کےلئے کام کرتا ہے تو اس صورت میں بھی اس کیس کو قانون کے مطابق آگے بڑھایا جاتا۔ ذرائع کے مطابق جمہوری انتظام کے تحت اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو وہ ایجنسیاں ایسے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتیں۔ ذرائع کے مطابق اگر ریمنڈ ڈیوس امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ ثابت ہوجاتا ہے تو امریکی حکام اس کے باوجود اس کےلئے استثنیٰ کا مطالبہ کرسکتی ہیں لیکن اس کےلئے شرط یہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کا نام دفتر خارجہ میں بطور سفارت کار رجسٹر ہونا چاہئے۔ سیکورٹی وجوہات کی بناء پر حکام ملزم کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کی ممکنات پر غور کررہے ہیں۔ اسی دوران امریکی سفیر کیمرون منٹر نے اپنی سماجی مصروفیات معطل کردی ہیں اور کئی مواقع پر وہ سفارتی تقریبات میں شرکت بھی نہیں کررہے۔ 27 جنوری کو جب سے ریمنڈ ڈیوس نے دو افراد کو قتل کیا ہے اس وقت سے لے کر اب تک امریکی سفیر یا سفارت خانے کی کسی دوسری شخصیت کو سماجی تقریبات میں نہیں دیکھا گیا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی