سپریم کورٹ کو فراہم کی گئی سزا پانے والے افراد کی فہرست میں سہیل ضیاء کا نام شامل نہیں تھا
اسلام آباد (طارق بٹ) دو روز قبل گرفتار ہونے والے نواز شریف کے قریبی رشتہ دار سہیل ضیاء بٹ کا نام غیر حاضری میں سزا پانے والے افراد کی اس فہرست میں شامل نہیں تھا جو این آر او کیس کی سماعت کے دوران نیب نے سپریم کورٹ کو پیش کی تھی۔ ماہرین کے مطابق سہیل ضیاء بٹ کو اپنی سزا ختم کرانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنا ہو گا۔ رحمن ملک ، بیگم نصرت بھٹو اور دیگر اہم شخصیات کے ناموں پر مشتمل فہرست میں سہیل ضیاء بٹ کا نام شامل نہ ہونے کی وجوہات بتانے کیلئے نیب کی طرف سے کوئی موجود نہ تھا۔ 16دسمبر کو اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے سے مختلف احتساب عدالتوں کی جانب سے غیر حاضری میں دی گئیں سزائیں بحال ہو گئی تھیں۔ سہیل ضیاء بٹ کا کہنا ہے کہ انہیں لاہور احتساب عدالت کی طرف سے نہ ہی کوئی سمن یا نوٹس ملا ہے اور نہ ہی نیب نے انہیں کبھی اطلاع دی کہ انہیں 2000ء میں ان کی غیر حاضری میں سزا دی گئی جیسا کہ احتساب عدالت نے ان کے دلائل سنے بغیر انہیں فوری طور پر جیل بھیج دیا ہے۔ اس سے ایسا لگتا ہے کہ عدالت کے پاس ان کی غیر حاضری میں ملنے والی سزا کا ریکارڈ موجود تھا۔ ان پر نیشنل کوآپریٹوز کے 7کروڑ کا قرض واپس نہ کرنے کا الزام ہے، سرکاری وضاحت کی غیر موجودگی میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا نیب جس کی سربراہی اس وقت نوید خان کر رہے تھے نے دانستہ طور پر سہیل ضیاء بٹ کا نام شامل نہیں کیا اور نہ ہی معلوم ہو سکا کہ ایسا کیوں کیا گیا جبکہ زرداری گیلانی حکومت سے وابستہ تمام افراد کے نام شامل کئے گئے تھے یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت نیب کو سہیل ضیاء بٹ کو ملنے والی سزا کا علم نہ ہو اور موخر الذکر احکامات پر فہرست فراہم کی گئی ان افراد کو نیب آرڈیننس کے سیکشن31-A کے تحت سزا دی گئی تھی۔ این آر او کے تحت 31-Aکے ذریعے دی گئی تمام سزائیں ختم ہو گئی تھیں اور اب جبکہ این آر او کالعدم قرار دیا جا چکا ہے اور اس سے حاصل کئے گئے۔ فوائد کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اس نے ابتدائی فیصلے کو بھی ختم کر دیا جس کے مطابق کسی شخص کو اس کی غیر حاضری میں سزا نہیں دی جا سکتی کیونکہ اسے اپنے دفاع کا حق نہیں دیا گیا تھا ۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی