|
سیاسی مشکلات کے حل کیلئے عوام اور پارلیمنٹ مناسب فورم ہے،جسٹس جاوید اقبال

26-10-07, 10:59 AM
اسلام آباد (نمائندہ جنگ) صدر جنرل پرویز مشرف کی اہلیت کے کیس کی سماعت کرنیوالے سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے سربراہ جج مسٹر جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیا یہ موجودہ پارلیمنٹ کے ممبران کا اخلاقی فرض نہیں تھا کہ وہ کہتے کہ ہماری مدت تو ختم ہو رہی ہے ہم صدر کو منتخب نہیں کرتے۔ سیاسی مشکلات کے حل کیلئے عوام اور پارلیمنٹ مناسب فور م ہیں، جسٹس رمدے نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہر چیز عوام پر نہیں چھوڑ سکتے، لوگ فیصلے کریں گے تو روس ، فرانس اور ایرا کی مثالیں اچھی نہیں ہیں،عدالت میں بیٹھ کر انقلاب کو روک رہے ہیں،صدر پرارٹیکل 63 لاگو نہیں ہوتا تو ایکٹ7 آف 2004ء کی کیا ضرورت تھی انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ عدالت انقلابی نہیں آئینی عدالت ہے لیکن ہماری ذمہ داری ہے کہ ہر چیز کو عوام پر نہ چھوڑیں۔ آج ہم یہاں بیٹھ کر انقلاب کو روک رہے ہیں۔ عدالتیں انقلاب کا راستہ روکتی ہیں۔ اگر لوگ فیصلے کریں گے تو پھر روس فرانس اور ایران کے انقلاب اچھی مثالیں نہیں ہیں۔ صدارتی امیدوار چوہدری اعتزاز احسن نے جمعرات کے روز اپنے دلائل مکمل کر لئے۔ فاضل عدالت نے مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔ کیس کی سماعت مسٹر جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں مسٹر جسٹس عبدالحمید ڈوگر مسٹر جسٹس خلیل الرحمن رمدے مسٹر جسٹس محمد نواز عباسی مسٹر جسٹس فقیر محمد کھوکھر مسٹر جسٹس ایم جاوید بٹر مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی مسٹر جسٹس راجہ فیاض احمد مسٹر جسٹس چوہدری اعجاز احمد مسٹر جسٹس سید جمشید علی اور مسٹر جسٹس غلام ربانی پر مشتمل گیارہ رکنی لارجر بنچ نے کی۔ چوہدری اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا جنرل پرویز مشرف آئندہ مدت کیلئے الیکشن لڑنے کے اہل نہیں ہیں ان پر آئین کے آرٹیکل 63 کا اطلاق ہو گا۔ وردی میں رہ کر صدارتی عہدے کیلئے امیدوار نہیں بنایا جا سکتا۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ مولویوں کے مطابق نماز کیلئے اہلیت ہے کہ بندے نے وضو کیا ہو اور وہ پاک بھی ہو۔ یہ کہتے ہیں کہ بندہ ناپاک ہے لیکن اس نے وضو کیا ہے۔ اگر بندہ ناپاک ہو اور اس نے وضو کیا ہو تو وہ نماز کیلئے اہل نہیں ہوگا۔اعتزاز احسن نے اپنے دلائل آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ قاضی حسین احمد اور وکلاء محاذ کے فیصلے پرانکیوریم ہیں اور ان میں سقم ہے۔ جسٹس ڈوگر نے کہا کہ قاضی حسین احمد فیصلے کو تو بعد میں کسی نے چیلنج نہیں کیا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ میرا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔ آرٹیکل 62 اور 63 کا امیدوار پر اکٹھے اطلاق ہو گا۔ اگر قاضی حسین احمد اور وکلاء محاذ کے مقدمات کے فیصلوں کو بھی اگر اپلائی کریں تو جنرل پرویز مشرف اہل نہیں ہیں کیونکہ ایکٹ7 آف 2004ء بھی آئین سے متصادم ہے۔ جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا وکلاء محاذ کیس میں تو ایکٹ7 آف 2004ء کو جائز قرار دے دیا تھا۔ چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ صدر پر آرٹیکل 63 اپلائی کریگا۔ آئین میں کوئی شق غیرموثر نہیں ہے۔ پارلیمنٹ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ صدر پر آئین کا آرٹیکل63 اپلائی کرتا ہے اسی لئے تو ایکٹ 2004ء لایا گیا۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نہ تو فیصلہ پرانکیوریم ہے اور نہ ہی اس فیصلے میں سقم ہے ۔جسٹس عباسی نے کہا کہ آپ ایک آزادانہ پٹیشن سے ایکٹ7 کو زندہ کر رہے ہیں۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ہر فیصلے میں کوئی نہ کوئی ابہام موجود ہوتا ہے جسٹس رمدے نے کہا کہ ہر معاملے کے ایک سے زیادہ زاویئے ہوتے ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ سرکاری ملازم پر یہ پابندی عائد ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال تک الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ تا کہ امیدوار اپنی آنکھوں سے افسری کو نکال دیں۔ اعتزازاحسن نے کہا کہ میرا موکل سپریم کورٹ کا ایک ریٹائر جج ہے جبکہ اس کا مخالف امیدوار وردی میں ہے۔ میری استدعا ہے کہ آپ ان کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کر دیں جہاں تک سیاست دانوں کی بات ہے وہ تو بے چارے ہوتے ہیں۔ آپ مت پوچھیں کہ الیکشن میں کن کن لوگوں کی ٹھوڑی کو ہاتھ لگانا پڑتا ہے۔ امیدوار پر دو سال کی پابندی کا مقصد ہی یہی ہے کہ کوئی امیدوار کسی متعلقہ اثر و رسوخ کو استعمال نہ کر سکے۔ آئین کے آرٹیکل 2(41) کے تحت جو شخص پارلیمنٹ کا الیکشن لڑنے کے اہل نہیں وہ صدر کے الیکشن کیلئے بھی اہل نہیں ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ عدالت کسی ذمہ داری سے انحراف نہیں کرے گی۔ ہر بات کا مکمل طور پر جائزہ لیا جائیگا۔ ہر ذمہ داری کو آئین اور قانون کے مطابق نبھائیں گے۔ چوہدری اعتزاز نے گزشتہ روز اپنے دلائل مکمل کر لئے۔ فاضل عدالت نے مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|