|
سیاچن کاحل بھارت کے ہاتھ: پاکستان

17-09-07, 09:16 PM
سیاچن کاحل بھارت کے ہاتھ: پاکستان
بی بی سی.
پاکستان نے دنیا کے سب سےاونچے برفانی میدان جنگ سیاچن کو امن کا پہاڑ بنانے سے متلعق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کی تجویز کی حمایت کردی ہے۔
وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سیاچن کو امن کا پہاڑ بنانے کے بارے میں منموہن سنگھ کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا اُس وقت ہوگا جب دونوں ممالک اپنی افواج کی سرگرمیوں کو کنٹرول کریں۔
نقل مکانی سے متعلق عالمی ادارے کی جانب سے منعقد کردہ ایک سیمینار میں شرکت کے بعد صحافیوں کے مختلف سوالات کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سیاچن کا تنازعہ حل کرنے کے لیے پاکستان نے جامع اور مفصل تجاویز پر مبنی ایک ’پیکیج‘ بھارت کو پیش کردیا ہے اور وہ تنازعے کے حل کے لیے پرامید ہیں۔
تاہم انہوں نے بھارت کو سیاچن کا مسئلہ حل کرنے کے متعلق پیش کردہ تجاویز کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
خورشید محمود قصوری نے کہا کہ انہوں نے تفصیلی تجاویز پیش کی ہیں اور اب اس کے حل کا معاملہ بھارت کے ہاتھ میں ہے۔انہوں نے قبائلی علاقے وزیرستان میں امن معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حالات بہتر بنانے کے لیے محض فوجی کارروائی سے نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ وزیرستان امن معاہدے کے بعد سیکورٹی فورسز کو ہٹایا نہیں گیا بلکہ بعض چیک پوسٹوں سے انہیں آگے پیچھے کیا گیا ہے اور جب بھی ضرورت پڑے گی تو وہ کارروائی کریں گی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن کے لیے معاہدہ اہم ہے لیکن اگر اس میں کوئی کمزوری ہے تو اُسے دور کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کا ذکر کرتے ہو ئے کہا کہ پوری دنیا مانتی ہے: ’ ہم نے پینتیس لاکھ افغان پناہ گزینوں کو طویل عرصے تک پناہ دی۔ اب بھی لاکھوں پناہ گزیں پاکستان میں موجود ہیں اور ان کی واپسی کے لیےافغانستان کی حکومت برابر کی ذمہ دار ہے۔‘
افغانستان میں سرحد پار شدت پسندی کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے متعدد اقدامات کیے ہیں اور ایک ہزار چیک پوسٹ بناے ہیں۔ جبکہ افغانستان حکومت کے اقدامات کافی نہیں ہیں۔
ان کے مطابق اگر کچھ لوگ پاکستان سے افغانستان جاتے ہیں تو وہاں سے بھی کئی افغان باشندے پاکستان آتے ہیں اور سرحد پار شدت پسندی کو روکنا فریقین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
پاک افغان سرحد پر بارودی سرنگ بچھانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی حکومت نے انہیں متبادل سہولیات کے بارے میں مدد کی پیشکش کی ہے اور انہیں اب ان کے جواب کا انتظار ہے۔
ایک سوال پر خورشید محمود قصوری نے کہا کہ افغانستان کی معیشت کا پچاس سے اسی فیصد انحصار افیون کی کاشت پر ہے۔ ان کے بقول بدامنی پیدا کرنے میں سمگلروں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر
|
پاکستانی
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,292
شکریہ: 10,318
3,107 مراسلہ میں 7,465 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|