|
سیاچین سیاحت: بھارت نے پاکستانی اعتراضات کو نظر انداز کر دیا

20-09-07, 08:47 AM
پاکستان کے اعتراضات کے باوجود بھارت متنازعہ سیاچین گلیشیئر میں سیاحت کے منصوبے کو پایہٴ تکمیل تک پہنچائے گا۔
بھارتی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ سیاحوں کے ایک گروہ کو ہوائی سفر کے ذریعے لیہ کی طرف لے جایا جائے گا، جہاں پر بلند سطح کی آب و ہوا سے مانوس ہونے کے بعد سیاح سیاچن گلیشیئر کے لیے پیدل روانہ ہوں گے۔
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ شہریوں کو گلیشیئر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کے اُس منصوبے کا حصہ ہے جِس کے تحت اس علاقے کو سیاحت کے لیے کھولا جائے گا۔
1984ء جب ہندوستانی افواج کی طرف سے 6300 میٹر اونچے گلیشیئر پر قبضہ کرنے کے بعد سے اب تک وہاں دونوں اطراف سے ہزاروں سپاہی ایک دوسرے کے خلاف مورچہ بند ہیں۔ برفانی چوٹیوں کے درمیان گھرے ہوئے اس مقام کو دنیا کا بلندترین میدانِ جنگ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے کہ دشمن کی گولیوں سے اتنے سپاہی ہلاک نہیں ہوتے جتنے موسم کی شدت کے ہاتھوں ہلاک یا ہاتھ پاؤں سے معذور ہو جاتے ہیں۔
جب بھارت کی طرف سے سیاچین کو سیاحت کے لیے کھولنے کی خبر آئی تو پاکستان نے اس پر یہ کہہ کر اعتراض کیا کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے اور اس اقدام سے دونوں ملکوں کے درمیان جاری مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچے گا۔
تاہم بھارتی وزارتِ دفاع کے ترجمان کرنل ایس کے سَکھوجا کا کہنا ہے کہ سیاحت کا منصوبہ رہے گا اس علاقے سے مانوس فوجی شہری کوہ پیماؤں کے ہمراہ ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاچن کو سیاحوں کے لیے کھولنے کا عمل بھارت کی طرف کشمیر کے علاقے میں دفاعی اہمیت کے حامل گلیشیئر پر اپنے حق کو منوانے کی کوشش ہے۔
بھارت کرناڈ نئی دہلی کے پالیسی ریسرچ ادارےمیں دفاعی تجزیہ کار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت اس سے یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ سیاچین متنازعہ خِطّہ نہیں ہےاور یہ ہندوستانی علاقے کا حصہ ہے، جب کہ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے۔
کرناڈ کا خیال ہے کہ پاکستان اِس لیے اعتراض کر رہا ہے کہ اس خطے میں کوہ پیماؤں کی آمدورفت اور سیاحت سے ان کے سیاچین پر دعوے کو ٹھیس پہنچے گی۔
بھارتی وزیرِ اعظم من موہم سنگھ نے کہا تھا کہ سیاچن کو ’امن کا پہاڑ‘ قرار دے دینا چاہیئے۔
دونوں ممالک نے گلیشیئر سے افواج کے انخلا کے لیے مذاکرات کیے ہیں، تاہم اِس ضمن میں اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو پائی۔
بھارت اور پاکستان نے تین برس قبل سست رو مذاکراتی عمل شروع کیا تھا، جس کی وجہ سے تناؤ میں کمی آئی اور متنازعہ سرحد پر آئے دن کی گولہ باری ختم ہوگئی، تاہم دونوں ممالک کشمیر کے علاقے پر اپنے متضاد دعوؤں کا تصفیہ کرنے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں کر پائے۔
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر
|
پاکستانی
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,292
شکریہ: 10,318
3,107 مراسلہ میں 7,465 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|