آئل ٹینکر چاروں صوبوں میں پھنسے ہیں کراچی میں دستیاب نہیں، گلگت، بلتستان میں صورتحال زیادہ گھمبیر ، ہوائی جہازوں کے ذریعے فراہمی کا امکان نہیں
اسلام آباد (دلشاد عظیم) بدترین سیلاب کی آفت نے ملک بھر میں تیل کی دستیابی اور ترسیل کے عمل کو بری طرح متاثر کردیا ہے جس کے نتیجے میں تیل کے استعمال میں 50 فیصد کمی واقع ہوگئی ہے۔ منگل کو وزارت پٹرولیم کے ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے کہ محدود تعداد میں آئل ٹینکر کراچی میں دستیاب ہی نہیں یا وہ سیلاب کی وجہ سے پٹرول پمپوں تک نہیں پہنچ پارہے جبکہ ہوائی جہازوں کے ذریعے پٹرول کی ترسیل کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں جیسا کہ وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل سید نوید قمر ایک دو روز پہلے کہہ چکے ہیں، نقل و حمل کے مسائل پہلے سے متاثرہ اور تباہ حال علاقوں کیلئے مزید مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں جہاں سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں اور حکام سپلائی کے عمل میں تیزی لانے کیلئے متبادل انتظامات کر رہے ہیں۔ سڑکوں اور پلوں کی تباہی کے باعث آئل ٹینکر کراچی نہیں پہنچ پا رہے زیادہ تر چاروں صوبوں میں سیلاب سے پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔ ملک کے دوسرے حصوں کی نسبت گلگت، بلتستان میں صورتحال زیادہ گھمبیر ہے سیلاب نے ملک بھر میں تیل سپلائی کے چین کو بری طرح متاثر کردیا ہے۔ متعلقہ حکام سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق حکومتی ملکیتی پٹرول پمپوں پر پٹرول کی فروخت میں پچاس فیصدکمی آچکی ہے۔ حکام کے مطابق ہمارے پاس آئندہ دنوں کی تصویر زیادہ اچھی نہیں ہے کیونکہ سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ پٹرول کی طلب و رسد میں توازن یقینی بنانے کیلئے شاہرات کی بحالی اور سیلاب سے پیدا ہونے والی رکاوٹیں دور کرنا یا متبادل انتظامات کرنا ضروری ہوگا اس وقت جیکب آباد جیسے علاقوں کیلئے ہوائی جہازوں کے ذریعے پٹرول کی سپلائی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ جہاں پٹرول پمپ لوگوں کو انتہائی مہنگے داموں پٹرول فروخت کررہے۔ ہیں ایک اعلیٰ افسر کے مطابق موجودہ صورتحال میں حکومت کے پاس پٹرول ہوائی جہازوں کے ذریعے پہنچانے کی کوئی سہولت ہے اور نہ ہی وہ اس کے اخراجات برداشت کرسکتی ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں افواج پاکستان کے ہیلی کاپٹر پہلے ہی ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے حکام نے ایک سوال پر بتایا کہ چاروں صوبائی چیف سیکرٹریوں اور ان کے ماتحت محکموں کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ تیل کی دستیابی اور سپلائی کے حوالے سے درپیش مسائل سے آگاہ کریں اور خصوصاً اس صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں پر خصوصی نظر رکھی جائے۔ وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے ترجمان نے رابطہ کرنے پر ملک بھر میں سیلاب کی تباہی کے باعث پٹرول کی ترسیل اور دستیابی کے حوالے سے مشکلات کی تصدیق کی اور کہا کہ دستیابی سے زیادہ تیل کی ترسیل بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے اس لئے وزارت عوام کو پٹرول کی فراہمی کیلئے کوئی بھی دوسرا راستہ اختیار کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریگی۔ ترجمان نے اتفاق کیا کہ سیلاب سے تباہ حال دور دراز علاقوں میں آئل ٹینکر ہی دستیاب نہیں ہیں۔اس کے علاوہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پٹرول کااستعمال بھی خاصی حد تک کم ہوگیا ہے انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ ہماری جرنیلی سڑک سیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہے اس لئے ہم جلد تیل سپلائی کے مسئلے کو حل کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارکو میں پانی داخل ہونے سے بھی تیل کی فراہمی کو بڑا دھچکہ لگا ہے تاہم پارکو کے حکام نے ہمارے کارکنوں کی معاونت سے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تباہ شدہ مصنوعات کی استعمال کیلئے ترسیل یقینی بنائی ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی کی خبر