نجی سکولوں کی درجہ بندی کرلی گئی، 500 روپے سے کم فیس لینے والے اسکولوں سے ٹیکس نہیں لیا جائےگا، علم الدین بھُلو
کراچی (محمد عسکری .... اسٹاف رپورٹر) سندھ حکومت نے صوبے کے سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد اور بحالی کے لئے سندھ کے نجی اسکولوں پر سیلاب ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے نجی اسکولوں کی درجہ بندی کر لی گئی ہے۔ یہ ٹیکس صرف ایک مرتبہ لیا جائے گا۔ صوبائی سیکریٹری تعلیم علم الدین بھلو نے ”جنگ“ کو بتایا کہ یہ ٹیکس 500یا اس سے کم ماہانہ فیس لینے والے اسکولوں پر نافذ نہیں ہوگا کیونکہ کم فیس لینے والے نجی اسکول تعلیم عام کرنے میں حکومت کی مدد کر رہے ہیں اور ان کا مقصد کمرشل کم اور خدمت زیادہ ہے تاہم 500 روپے ماہانہ سے زائد فیس لینے والے اسکولوں کی درجہ بندی کر لی ہے اور اس کی سمری تجویز کی صورت میں پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ بھیج دی گئی ہے۔ ”جنگ“ کو معلوم ہوا ہے کہ نجی اسکولوں سے سیلاب ٹیکس کی وصولی کے لئے نصف درجن سے زائد درجہ بندی کی گئی ہے جس کے تحت 5 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک ٹیکس وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سندھ میں نجی اسکولوں کی تعداد 10 ہزار سے زائد ہے جن میں 3 ہزار سے زائد نجی اسکول ایسے ہیں جن کی ماہانہ فیس 4 ہزار سے لے کر 20 ہزار روپے ماہانہ ہے۔ درجنوں نجی اسکولوں کی داخلہ فیس ایک لاکھ روپے سے زائد ہے جبکہ کمپیوٹر، لائبریری اور سیکورٹی اور سالانہ چارجز کے نام سے ہزاروں نجی اسکول علیحدہ فیسیں لیتے ہیں۔ صرف کراچی میں سٹی اسکول کی درجنوں شاخیں غیر رجسٹرڈ ہیں جس کی وجہ سے رجسٹریشن کی فیس بھی قومی خزانے میں جمع نہیں ہو رہی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ اسکولز سندھ کا کنٹرول غیر موثر ہونے کی وجہ سے سندھ میں گزشتہ ایک سال کے دوران اپنی ماہانہ ٹیوشن فیس میں 11 تا 60 فیصد اضافہ کیا ہے جبکہ قواعد کی رو سے کوئی نجی اسکول محکمہ تعلیم کی اجازت کے بعد ہی 5 فیصد فیس بڑھا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی نجی اسکول سیکورٹی ڈپازٹ لے سکتا ہے نہ ہی کمپیوٹر اور لائبریری کے نام پر فیس لی جا سکتی ہے۔ اس طرح داخلہ فیس بھی 3 ماہ کی ٹیوشن فیس سے زیادہ نہیں ہوسکتی مگر سندھ میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ نجی اسکولز من مانی کارروائیاںکر رہے ہیں اور ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ اسکولز کی کارروائی صرف نوٹس دینے تک محدود ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی