|
سیلاب کی تباہی 11-2010ء میں مہنگائی کی شرح 25 فیصد ہوجائیگی، وزارت خزانہ کی جائزہ رپورٹ

23-08-10, 03:21 AM
اسلام آباد (رپورٹ: … مہتاب حیدر) معلوم ہوا ہے کہ وزارت خزانہ نے ملک میں آنے والے سیلاب کے پیش نظر ایک جائزہ رپورٹ تیار کی ہے۔ یہ رپورٹ اگرچہ مایوس کن ہے لیکن اس میں حقیقی صورتحال کا احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2010-11ء میں جی ڈی پی کی شرح صفر فیصد جبکہ افراط زر کی شرح 25/ فیصد ہوجائے گی۔ سیلاب کی تباہ کاریوں سے پہلے جی ڈی پی کو 4.5/ فیصد پر لانے کا ٹارگٹ بنایا گیا تھا جبکہ افراط زر کی شرح 12.3/ فیصد سے کم کرکے 9.3/ فیصد پر لائی جانا تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے ملکی معیشت کو ہونے والا 751.5/ ارب روپے کا نقصان 4.5/ فیصد جی ڈی پی کو بہا لے جائے گا۔ پرنسپل اکنامک ایڈوائزر ثاقب شیرانی کی نگرانی میں وزارت خزانہ کی اکنامک ایڈوائزر ونگ کی تیار کردہ رپورٹ وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ جیسے اقتصادی ماہرین کو بھی پیش کی گئی۔ دی نیوز کو خصوصی طور پر حاصل ہونے والی رپورٹ کی نقل کے مطابق نقصانات کی ابتدائی طور پر ملنے والی اطلاعات کے پیش نظر 2010-11ء میں اقتصادی ترقی کی شرح حقیقی معنوں میں صفر فیصد ہوجائے گی یعنی یہ اپنے مقررہ ٹارگٹ سے 4.5/ فیصد پیچھے چلی جائے گی۔ ”پاکستان میں 2010ء کا سیلاب: میکرو اکنامک اثرات پر ابتدائی نظر“ کے عنوان سے تیار ہونے والی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے آنے والی تباہی کی مثال نہیں ملتی اور اس قدر بڑے پیمانے پر ہونیوالی تباہی ملکی معیشت کے منظر نامے پر قلیل اور وسط مدتی منفی اثرات مرتب کرے گی۔ سرکاری دستاویز کے مطابق، چونکہ تباہی کا سلسلہ تاحال جاری ہے، رپورٹ میں پیش کیے جانے والے اندازے ابتدائی ہیں اور ان کا مزید جائزہ لیاجا سکتا ہے۔ تاہم، یہ واضح ہے کہ جاری قدرتی آفت کے میکرو اکنامک ماحول، اقتصادی ترقی، افراط زر، مالی صورتحال، ادائیگیوں کے توازن، روزگار، آمدنی اور زندگی بسر کرنے کے طریقے اور غربت پر اثرات مرتب ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق سیلاب کا سب سے زیادہ منفی اثر کپاس کی فصل پر ہوگا۔ کپاس کی فصل GDP کا 40/ فیصد حصہ ہوتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2005ء میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں انفرا اسٹرکچر تباہ ہوا تھا جبکہ حالیہ سیلاب کے نتیجے میں ملک کی طبعی اور معاشرتی زخیرے اور انفرا اسٹرکچر جیسا کہ سڑکیں، پل اور کمیونیکیشن نیٹ ورک، پاور سیکٹر (جنریشن، ٹرانسمشن، ڈسٹری بیوشن)، اسکول، صحت کے مراکز، آبپاشی کا نظام وغیرہ سب تباہ ہوگیا ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی کی خبر
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|