فاسٹ ٹریک مستقل رہائش کےلئے دو سال کے اندر کم از کم ایک کروڑ پونڈ کی سرمایہ کاری ضروری ہے
لندن (مرتضی علی شاہ) دولت مند پاکستانی امیر لوگوں کو متوجہ کرنے والی نئی امیگریشن سکیم میں دلچسپی لے رہے ہیں جو دنیا بھر سے دولت مندوں کو برطانیہ نقل مکانی پر آمادہ کرنے کے لئے شروع کی گئی ہے۔ درجنوں کروڑ پتی پاکستانیوں نے لندن میں ماہرین قانون اور وکلا کی فرموں سے رابطہ کیا ہے اور سپر فاسٹ ٹریک پر امیگریشن کے کیسز داخل کرنے کے لئے ان کی خدمات حاصل کی ہیں۔ نئی سکیم نے موجودہ سخت قوانین کو بالکل بدل دیا ہے۔ اس میں دولت مند غیر ملکیوں کو خصوصی ترغیبات دی گئی ہیں تاکہ وہ برطانیہ کی نقدی سے محروم معیشت کو سرمایہ منتقل کرسکیں۔ سکیم کے تحت فاسٹ ٹریک مستقل رہائش کے لئے دو سال کے اندر کم از کم ایک کروڑ پونڈ سرمایہ کاری ضروری ہے۔ جبکہ دیگر کٹیگریوں میں تین سال کے اندر 50 لاکھ اور پانچ سال کے اندر 10 لاکھ پونڈ کی سرمایہ کاری ضروری ہے۔ کنزرویٹو لبرل ڈیموکریٹ مخلوط حکومت کو سروسز سیکٹر کے اخراجات میں کٹوتیوں کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ بے روزگاروں کی تعداد 30 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور بہت سے کمپنیاں روزانہ بنیاد پر لوگوں کو نکال رہی ہیں۔ اس لئے بیرون ملک سے سرمایہ کی ترسیل برباد برطانوی معیشت کے لئے ہوا کا تازہ جھونکا ہے۔ کنزرویٹوز نے وعدہ کیا تھا کہ وہ امیگریشن میں غیرمعمولی کمی کریں گے۔ حکومت غیرملکی طلبہ کی تعداد میں غیرمعمولی کمی کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے لیکن اس سے فنڈز سے محروم یونیورسٹیاں بری طرح متاثرہوں گی جن کا بیرونی طلبہ پر انحصار ہے۔ ویزا کی اہلیت حاصل کرنے کے لئے سرمایہ کار مائیگرنٹ کو ملک میں چھ ماہ رہنا ضروری ہے پہلے نو ماہ رکنے کی شرط تھی۔ پاکستان، بھارت، روس اور مشرق وسطی کے ملکوں سے بہت سے دولت مند لوگ برطانیہ میں آباد ہونے کے اس نئے راستے کو استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایک کروڑ پونڈ کی سرمایہ کاری کے ذریعہ برطانیہ آنے والے پاکستانیوں کی تعداد تو بہت کم ہے لیکن 50 لاکھ اور دس لاکھ پونڈ کی سرمایہ کرنے والے پاکستانی سینکڑوں میں ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کے غیرمستحکم حالات کے پیش نظر برطانیہ ان سرمایہ کاروں کے لئے جنت کی حیثیت رکھتا ہے۔ لندن کے ایک وکیل نے تصدیق کی کہ لاہور اور کراچی کے کم از کم چھ پاکستانی سرمایہ کاروں نے نئی سکیم کے تحت برطانیہ نقل مکانی کے لئے ان سے رابطہ کیا ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی