ریمنڈڈیوس کی رہائی میں ناکامی پرامریکی ایجنسی پاکستان سے سخت ناراض ہے، ذرائع
واشنگٹن(آن لائن) ریمنڈ ڈیوس کو رہا کروانے میں ناکامی کے بعد امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے انتقام کے طور پر بیرون ملک خدمات انجام دینے والے پاکستان کے انٹیلی جنس اہلکاروں کو نشانہ بناسکتی ہے جو بطور سفارت کار کام کررہے ہیں۔ معتبر سفارتی ذرائع نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرنے کے مسلسل انکار کے بعد سی آئی اے پاکستان سے سخت ناراض ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکیوں کے بدلے انتقام کا آسان شکار بیرون ملک خصوصاً امریکا، یورپ اور افغانستان میں خدمات سرانجام دینے والا انٹیلی جنس اسٹاف ہوسکتا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ وہائٹ ہاوس اور محکمہ خارجہ نے پاکستانی سفیر حسین حقانی کی تمام سرکاری دعوتیں منسوخ کردی ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے تمام اداروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حسین حقانی سے ملاقات سے قبل وہائٹ ہاوس سے کلیئرنس لیں۔ ذرائع نے یہ بھی یاد دہانی کروائی کہ حسین حقانی کو سینیٹر کیری کے پاکستان آنے سے قبل بھی دو دفعہ وہائٹ ہاوس طلب کیا گیا اور ان کو دو دفعہ طلب کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دباو کے پیچھے سی آئی اے کا ہاتھ ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی