واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


شہباز بھٹی کے قتل کا محرک مذہبی نہیں سیاسی ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-03-11, 04:56 AM   #1
شہباز بھٹی کے قتل کا محرک مذہبی نہیں سیاسی ہے
گلاب خان گلاب خان آن لائن ہے 04-03-11, 04:56 AM

انارکی اورانتشار کا فائدہ اپنی سیاسی عملداری بڑھانے میں مصروف انتہا پسندوں کو پہنچتا ہے
حکومتیں تحفظ اورانصاف کی فراہمی میں ناکام ہوں تو خلاءپیدا ہوتا ہے، تجزیاتی رپورٹ
اسلام آباد (فرخ سلیم) ہر قتل کا کوئی محرک ہوتا ہے جس کو ڈھونڈ کر قاتل کو بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔ شہباز بھٹی کے قتل کا مذہب کے ساتھ تعلق نہیں کیونکہ خصوصاً اسلام سمیت کوئی مذہب قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کا محرک یقیناً سیاسی ہے۔ شہباز بھٹی کے قتل سے اٹھنے والی لہروں سے انارکی اور انتشار کے احساسات ہوتے ہیں۔ اس انارکی اور انتشار کا فائدہ کن کو ہوتا ہے؟ جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ ان غیر ریاستی قوتوں کو جو کہ انارکی اور انتشار کے ماحول میں پھلتی پھولتی ہیں۔ بلا شبہ اقوام متحدہ کے 192 رکن ممالک میں سے صرف صومالیہ، سوڈان، افغانستان، عراق، یمن اور پاکستان ایسی ریاستیں ہیں جہاں دہشت گرد ہر سال اتنے زیادہ لوگوں کو قتل کردیتے ہیں۔ 2010ء میں خیبر تا کراچی پاکستان بھر میں 49 خودکش حملوں، بم دھماکوں اور دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں میں 7435 ہلاکتیں ہوئیں۔ سوچنا یہ ہے کہ ان ملکوں کے درمیان کون سا خطرہ مشترک ہے۔ ابتدائی طور پر یہ تمام ریاستیں اپنے شہریوں کو جانی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ دوئم یہ اپنے شہروں کو معاشی تحفظ بھی فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ آخری بات مشترکہ یہ ہے کہ ان تمام ممالک کی حکومتیں اپنے معاشروں میں اپنی اپنی گورننس کے ذریعے انصاف بھی فراہم نہیں کررہیں۔ جب ایک حکومت اپنے شہروں کو تحفظ فراہم کرنے کے قابل نہیں ہوتی تو وہاں ایک خلاء پیدا ہوتا ہے جو کہ ”سکیورٹی گیپ“ کی جانب بڑھتا ہے جب کوئی حکومت اپنے شہریوں کو انصاف نہیں دے پاتی تو حیثیتوں کا خلاء پیدا ہوتا ہے اور تب یہ خلاء انتہاپسند تنظیمیں پُر کرتی ہیں۔ صومالیہ، سوڈان، افغانستان، عراق، یمن اور پاکستان جہاں یہ خلاء انتہاپسند تنظیموں پُر کرتی رہی ہیں اور کررہی ہیں۔ پاکستان میں ایسے عناصر پہلے ہی کم از کم 20 ہزار مربع کلو میٹر کو کنٹرول کرتے ہیں اور اب سیاسی عملداری بڑھانے پر لگے ہیں۔ پاکستان میں یہ دیوانوں کی طرح ہیں۔ عراق میں زرقاری طرز کا طریقہ تھا۔ پاکستان میں یہ عناصر مذہبی، نسلی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم ہوئے۔ معاشرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انارکی اور انتشار پھیلا کر اپنی سیاسی جگہ بڑھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ قاتلوں کے اصل مقاصد سیاسی ہیں۔ پاکستان کے اندر موجود عناصر لوگوں کو مارنا، ذبح کرنا اور سولی پر چڑھانا چاہتے ہیں تاکہ پاکستانی ریاستی کا جواز ختم کرکے اپنا نظام قائم کرسکیں۔ بد قسمتی سے ریاست کے محافظ اپنے اعمال سے دراصل ریاست کا جواز ختم کرنے کے کام میں مددگار ثابت ہورہے ہیں۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,483
شکریہ: 1,535
2,972 مراسلہ میں 8,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 293
Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
ام حازم (12-03-11)
پرانا 12-03-11, 01:50 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مراسلات: 296
کمائي: 4,385
شکریہ: 5
147 مراسلہ میں 234 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تحريک طالبان پاکستان نے منسٹر شہباز بھٹی کے قتل کی ذمہ داری لی اور وہ اپنے سياسی مقاصد دہشت گردی سے آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہيں۔ يہ وہ دہشت گرد تنظيم ہے جس نے انسانوں کو ويڈيو کيمرے کے سامنے قتل کيا ہے اور پشاور ميں نماز جنازہ پڑھنے والوں کے درميان ہونے والے خودکش حملہ کی زمہ داری لی ہے! انہيں تو "تحريک ظالمان پاکستان" کہنا چاہيے۔
اوارا اجنبی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-03-11, 04:45 AM   #3
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 94
کمائي: 970
شکریہ: 994
56 مراسلہ میں 119 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا واقعی وہ تحریک طالبان پاکستان ہی ہیں‌؟؟؟؟؟؟؟؟

کتنے عظیم لوگ ہیں‌اپنے آپ کو خود ہی بدنام کر رہے ہیں‌اور نتیجہ پھر بھی وہی ڈاک کے تین پات ۔ خیر ہو سکتاہے آگے چل کر نتیجہ بھی بدل جائے
۔
ام حازم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-03-11, 02:12 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مراسلات: 296
کمائي: 4,385
شکریہ: 5
147 مراسلہ میں 234 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جيسے ميں نے پچھلی پوسٹ ميں لکھا تھا کہ تحريک طالبان پاکستان نے منسٹر شہباز بھثی کے قتل اور کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اب ميں آپ کی بات سمجھنا چاہتا ہوں "ڈاک کے تين پات؟"
اوارا اجنبی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-03-11, 10:37 AM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,226
شکریہ: 25,210
16,394 مراسلہ میں 41,641 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ڈاک کے تين پات
یہ تین پات ڈاک کے ہوتے ہیں یا ’’ڈھاک‘‘ کے؟
ڈاک کا تو ٹکٹ ہوتا ہے میرے خیال میں
راجہ اکرام آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-03-11, 11:55 AM   #6
Senior Member
 
موجو's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 434
کمائي: 9,654
شکریہ: 1,636
320 مراسلہ میں 941 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
اصل میں ٹکٹ بھی تو پتے کی طرح ہی ہوتا ہے
پر وہ درختوں اگر لگتا ہوتا محکمہ ڈاک کی چھٹی ہوجاتی۔
__________________
قولوا لناس حسنا (لوگوں سے اچھی بات کہو(
موجو آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-03-11, 01:36 AM   #7
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مراسلات: 20
کمائي: 521
شکریہ: 0
9 مراسلہ میں 14 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام حازم مراسلہ دیکھیں

کتنے عظیم لوگ ہیں‌اپنے آپ کو خود ہی بدنام کر رہے ہیں‌
۔
مجھے تو خیر انسانی سائیکالوجی کے بارے میں علم نہیں ہے لیکن میرے خیال میں جو لوگ کسی تشدد کے واقعہ کے بعد اسکی ذمہ داری لیتے ہیں وہ 'بدنامی' کا نہیں سوچتے ہیں۔ ان قاتلون کے لئے شاید یہ ایک طرز ہے اپنے کرتوتوں پے فخر جتانے کا۔ اپنی طاقت کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ اپنے دشمن پر حاوی ہونے کا راگ الاپتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟ کیا ایسا ممکن نہیں؟
Bechain_Rooh آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-03-11, 04:04 AM   #8
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,509
کمائي: 118,687
شکریہ: 13,530
4,912 مراسلہ میں 16,705 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تاش کے تین پات اہم ہوتے ہیں بادشاہ، ملکہ، غلام۔
ڈاک کے تین پات کی وضاہت دستیاب ھے۔
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-03-11, 10:12 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مراسلات: 296
کمائي: 4,385
شکریہ: 5
147 مراسلہ میں 234 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ سب کی پوسٹ کا شکريہ، ميں اب سمجہ گیا "ڈاک کے تين پات" کا مطلب! اس قتل اور دہشت گردی کے حالات اور حقائق ميں۔
اوارا اجنبی آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, ہوتے, ہوتا, ہے۔, کوئی, کنٹرول, کراچی, کرتے, گرد, پہلے, پاکستان, پاکستانی, اقوام متحدہ, اجازت, اسلام, بڑھانے, بے, ثابت, جواب, خودکش, دے, سال, طور, عناصر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
انگلینڈ سیریزکےتیسرے ون ڈے میں پاکستان کی ٹیم کے خلاف سپاٹ فکسنگ کے شواہد نہیں ملے:آئی سی سی جاویداسد خبریں 0 13-10-10 11:27 PM
جلا گھر کسی کا ۔۔ ۔کسی کی سیاست میں ”بہار “ آگئی جاویداسد خبریں 0 24-09-10 04:24 PM
کسی سیاسی جماعت کو وکلا تحر یک پر اثر انداز نہیں ہو نے دینگے،بار کونسلوں ک عبدالقدوس خبریں 0 22-06-08 08:42 PM
حکومت تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں سیاسی مواقع فراہم کرے، یورپی مبصر مشن عبدالقدوس خبریں 0 06-01-08 07:15 AM
سیاسی رہنماؤں کو ڈیڈ لاک سے بچنے کو کہاہے،پاکستان کو سیاسی گر داب سے نکا لنا چاہتے ہیں،تر ک صدر خرم شہزاد خرم خبریں 0 06-12-07 09:03 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:04 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger