دونوں رہنماوں کی ملاقات میں طے ہوا کہ ن لیگ سے سیاسی تعلقات کار میں کمزوری یا پنجاب حکومت سے علیحدگی میں پہل نہیں کرینگے، میثاق جمہوریت کا جنازہ نہیں نکلناچاہئے، پی پی قیادت
پیپلز پارٹی پنجاب حکومت سے الگ نہیں ہوگی، ن لیگ چاہے تو کردے، پارٹی رہنما مخالفانہ بیانات نہ دیں، صدر زرداری
قومی امور پر مفاہمت کی پالیسی مسائل کا بہترین حل ہے، صدر کی زیرصدارت مشاورتی اجلاس میں ن لیگ کے 10 نکاتی ایجنڈے پر پیشرفت کا جائزہ، شاہ محمود قریشی کے بیانات پر بھی گفتگو
اسلام آباد (طاہر خلیل) ن لیگ کے 10نکاتی ایجنڈے پر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے درمیان جمعرات کو اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں سیاسی ماحول میں مدت کو کم رکھنے اور مفاہمت و مصالحت کی پالیسی جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر اور وزیراعظم کی ملاقات میں طے ہوا کہ ن لیگ سے سیاسی تعلقات کار میں کمزوری یا پنجاب حکومت سے علیحدگی میں پہل نہیں کرینگے۔ صدر اور وزیراعظم کی یہ ملاقات ایک مخصوص ایجنڈے پر مرکوز تھی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق صدر اور وزیراعظم کی ملاقات کی خصوصی اہمیت اس تناظر میں تھی کہ صدر نے قبل ازیں ن لیگ کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا جبکہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پرائم منسٹر ہاوس میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے ملاقات کی۔ قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان اور سینیٹر اسحاق ڈار بھی بات چیت میں شریک ہوئے۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان معاشی حالت کی بہتری، کرپشن کے خاتمے اور بہتر طرز حکمرانی (گڈگورننس) کے حوالے سے 10 نکاتی ایجنڈے پر حالیہ دنوں میں کافی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ ن لیگ نے وفاقی حکومت کو اپنے 10 نکاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے 45 دن کی مہلت دی تھی جس مین 48 گھنٹے کا اضافہ کیا گیا اور یہ مہلت آج (جمعہ کو) ختم ہونے کو ہے۔ ن لیگ نے پنجاب میں اپنی حلیف پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت پر واضح کردیا ہے کہ وہ ایجنڈے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد پنجاب میں پیپلزپارٹی کو ساتھ لے کر نہیں چل سکتی جبکہ پی پی پی کی قیادت بھی واضح کرچکی ہے کہ میثاق جمہوریت کا جنازہ نہیں نکلنا چاہئے اور دونوں بڑی جماعتوں نے چار سال قبل میثاق جمہوریت کی صورت میں جس جمہوری سمجھوتے پر دستخط کئے تھے۔ اس کا احترام اور عملدرآمد پیش نظر رہنا چاہئے۔ قبل ازیں صدر آصف علی زرداری کی زیرصدارت مشاورتی اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال اور ن لیگ کے 10 نکاتی ایجنڈے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ صوبائی رابطے کے وزیر سینیٹر میاں رضا ربانی، وزیر داخلہ رحمن ملک، وزیر قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان اور حکمران پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات قمر زمان کائرہ ایوان صدر کے مشاورتی اجلاس میں شریک ہوئے۔ مشاورتی اجلاس میں میاں نواز شریف کی طرف سے حکومت کو 10 نکاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے مہلت کے خاتمے اور حکومت کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ قومی امور پر مفاہمت کی پالیسی حکومت کا نصب العین ہے اور مفاہمانہ حکمت عملی ہی مسائل کا بہترین حل ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر نے پی پی پی کور کمیٹی کے فیصلے کی تجدید کی کہ پی پی پی پنجاب حکومت سے الگ نہیں ہو گی۔ ن لیگ پی پی پی کو الگ کرنا چاہتی ہے تو کرلے، ذرائع کے مطابق صدر نے اپنے پارٹی لیڈروں کو ہدایت کی کہ وہ ن لیگ کے خلاف بیانات سے گریز کریں۔ علاوہ ازیں وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے بھی ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور ن لیگ کی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کی رپورٹ صدر کو پیش کر دی۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ حکومتی ٹیم کے سربراہ تھے جنہوں نے ن لیگ کی ٹیم کے ساتھ 10 نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کی ہے۔ اس رپورٹ میں ڈاکٹر حفیظ شیخ نے 10 نکاتی مطالبات پر عملدرآمد کی تفصیلات اور ن لیگ کے تحفظات بھی پیش کئے ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ مشاورتی اجلاس میں شاہ محمود قریشی کے حالیہ بیانات پر بھی بات ہوئی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم اور میاں شہباز شریف کی ملاقات میں دونوں لیڈروں نے اصولی طور پر طے کیا ہے کہ محاذ آرائی کی بجائے بات چیت سے مسائل کو حل کرنے کی سیاسی حکمت عملی کو جاری رکھیں گے۔ اس حوالے سے دونوں جماعتیں آج اپنے جماعتی لیڈروں سے مشاورت کریں گی۔
اسلام آباد (رانا غلام قادر،نیوز رپورٹر) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے مسلم لیگ (ن) کی ٹیم نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی قیادت میں ملاقات کی ہے جسے دارالحکومت کے سیاسی حلقوں نے حالیہ تناو کے بعد ایک بڑا بریک تھرو قرار دیا ہے۔ یہ برف اس وقت پگھلی جب وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان اور سینیٹر اسحاق ڈار کے ہمراہ جمعرات کی شب وزیراعظم ہاوس جا پہنچے۔ ملاقات میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دیئے گئے دس نکاتی ایجنڈے پر حکومتی ٹیم سے مسلم لیگ (ن) کے اب تک ہونے والے مذاکرات کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اس موقع پر کہا کہ عظیم تر قومی مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ سیاسی پختگی اور بصیرت کا اظہار کیا جائے اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لئے مضبوط بنا دیں۔ فراہم کرنے کے لئے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان ڈائیلاگ کا عمل جاری رکھا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے قومی ایشوز کے حل کے لئے ہمیشہ تمام حلقوں سے آنے والی تجاویز کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے مفاہمت کی پالیسی پر کاربند رہنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں بھی ملک کو درپیش چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کے لئے رواداری کی پالیسی کو جاری رکھا جائے گا۔ وزیراعظم گیلانی نے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مذاکرات کے نتائج پر بعض تحفظات دور کرنے کے لئے حکومتی ٹیم کے سربراہ وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو بلایا جنہوں نے اس ملاقات کو جوائن کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا کہ وہ وزیراعظم گیلانی سے ہونے والی بات چیت کو مسلم لیگ (ن) کی ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس میں رکھیں گے جو جمعہ کے روز طلب کیا گیا ہے۔ ملاقات رات 8 بجے سے 10 بجے تک جاری رہی اور ملاقات کے اختتام پر فریقین ہشاش بشاش اور پراعتماد نظر آرہے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے پنجاب میں اتحاد کو بچانے کے لئے بعض شخصیات دونوں جانب سے سرگرم عمل ہیں جو ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان ٹکراو اور تصادم کو روکنا چاہتی ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی