|
شہر بھر میں آٹے کی شدید قلت،منہ مانگے داموں پر فروخت،شہری پریشان

05-01-08, 09:37 AM
شہر بھر میں آٹے کی شدید قلت،منہ مانگے داموں پر فروخت،شہری پریشان
کراچی (رپورٹ:… رفیق بشیر) عید کی تعطیلات اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد احتجاج کی وجہ سے شہر میں آٹے کی سپلائی بحال نہیں ہوسکی جس کے باعث مارکیٹ میں آٹے کی شدید قلت پائی جاتی ہے اور منافع خور منہ مانگے دام وصول کررہے ہیں۔ حکومت سندھ کے احکامات پر لگنے والے سستے آٹے کے اسٹال بھی مکمل طور پرنہیں لگ پارہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے خوف زدہ ماحول کے باعث مارکیٹ میں افراتفری کا عالم ہے۔ جس گاہک کی ضرورت دو تھیلے کی ہے وہ چار تھیلے خریدنے کی کوشش کررہا ہے جس کے باعث مارکیٹ میں آٹے کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے۔ محکمہ خوراک نے فلور ملوں کو گندم کا کوٹہ 70 ہزار ٹن سے بڑھا کر 90 ہزار ٹن کردیا ہے جو کراچی کی ضرورت کے لئے کافی ہے۔ فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ گندم و آٹے کی قلت نہیں ہے عوام میں پائی جانے والی بے چینی کی باعث ڈیمانڈ اور سپلائی کا مسئلہ ہے۔ تاہم بعض فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ محکمہ خوراک نے کسی جامع پالیسی کے بغیر نان فنشکنل فلور ملوں کو بھی کوٹہ دے دیا ہے جو مارکیٹ میں مہنگے داموں گندم فروخت کررہے ہیں۔ تقریباً 10 دن سے زائد تعطل کے دوران فلور ملوں میں پیداواری عمل بند رہنے کے باعث سپلائی بھی معطل رہی جس کے باعث مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور سپلائی میں بہت ”گیپ“ آگیا ہے اور بیشتر علاقوں میں آٹا دستیاب نہیں ہے۔ محکمہ خوراک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں گندم اور آٹا وافر مقدار میں موجود ہے۔ تاہم پورے شہر میں سپلائی کے لئے دو روز لگیں گے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ ایک تو دس روز سے زائد دنوں تک آٹے کی سپلائی نہیں ہوئی اور دوسری جانب یکم جنوری کے بعد ماہانہ خریداری کا دباوٴ آگیا ہے جس کے باعث آٹے کی قلت ہے۔ دکانداروں نے آٹے کی فراہمی صرف ان گاہکوں کو جاری رکھی ہے جو ماہانہ راشن کے خریدار ہیں۔ محکمہ خوراک نے آٹے کے 10 کلو تھیلے کے کی قیمت 160 روپے مقرر کی ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں آٹا 25 روپے کلو اوراس دوران علاقائی چکیوں پر فی کلو آٹا28 روپے تک فروخت ہورہا ہے۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ کے چیئر مین عنصر جاوید کا کہنا ہے کہ حکومت ”لبرل پالیسی“ کے تحت گندم کی فراہمی شروع کردے تو ایک دم قیمت نیچے آجائے گی۔ بروکرز گندم کی قیمت میں من مانا اضافہ کررہے ہیں حکومت بروکرز کی اجارہ داری ختم کرنے کے لئے مارکیٹ میکنزم کے تحت قیمت مقرر کر کے گندم فراہم کرے تاکہ ملز مالکان کے لئے قیمت میں اضافے کا خدشہ ختم ہوجائے۔ جمعہ کو گندم کی اوپن مارکیٹ میں سو کلو بوری کی قیمت 2050 روپے سے2100 روپے تک رہی جبکہ اس دوران پنجاب میں سو کلو گندم کی بوری کی قیمت 1900 سے2000 روپے تک رہی ہے۔اس دوران کراچی میں ڈھائی نمبر چکی آٹے کی 80 کلو بوری کی قیمت 1650 روپے رہی۔بدھ سے یوٹیلٹی اسٹورز کھل گئے ہیں اوریوٹیلٹی اسٹورز پر یومیہ دس کلو وزن کے 400 تھیلے 130 روپے پر فروخت ہورہے ہیں۔ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے زونل منیجر مسعود نیازی کا کہنا ہے کہ پالیسی کے تحت ایک یوٹیلٹی اسٹورز پر 4 سو تھیلے یومیہ فروخت ہورہے ہیں۔ تاہم یوٹیلٹی اسٹورز نے ہر گاہک کو مجموعی خریداری کے ساتھ ایک تھیلا فراہم کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ کراچی رئٹیلر گروسزگروپ کے سیکرٹری فرید قریشی کا کہنا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں آٹا 25 روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے جبکہ 160 روپے میں تھیلا موجود ہے لیکن لوگوں نے اس میں مشکلات پیدا کردیں ہیں۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|