واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


صبر سے کام لیجیے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-04-11, 12:32 PM   #1
صبر سے کام لیجیے
عدنان دانی عدنان دانی آف لائن ہے 07-04-11, 12:32 PM

فضل کریم کے پاس امریکی حکام کی جانب سےگزشتہ برس اکیس جولائی کو جاری کیا جانے والا رہائی کا پروانہ موجود ہے لیکن کابل کے شمال میں بگرام کے مقام پر قائم امریکی فوجی قیدخانے سے اُسے رہائی آج تک نہیں مل سکی۔
ستائیس سالہ فضل کریم روزانہ رہائی کی امید میں اٹھتے ہیں لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر وہ گھر نہیں جا پا رہے۔فضل کا تعلق سوات سے ہے لیکن ان کا خاندان طویل عرصے سے کراچی میں مقیم ہے۔
وہ کاروبار کے سلسلے میں شہر سے باہر بھی جایا کرتے تھے اور سنہ دو ہزار تین میں بھی اسی سلسلے میں گھر سے نکلے اور پھر لوٹ کر واپس نہیں آئے۔
اُن کے والد اُن کی واپسی کی امید دل میں ہی لیے سنہ دو ہزار آٹھ میں انتقال کرگئے۔فضل اسی جیل میں قید ہیں جس کے بارے میں امریکی تحقیقاتی ادارے سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا کا کہنا ہے کہ القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کو ابتدائی تفتیش کے لیے یہیں لایا جائے گا، اگر وہ کبھی گرفتار ہوئے تو۔
گزشتہ دسمبر قیدیوں کو پرانی جیل سے کئی کلومیٹر دور زیادہ جدید تعیمر شدہ قیدخانے میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ آڈیوویڈیو کا کاروبار کرنے والے فضل کریم کے گھر والوں کو سنہ دو ہزار پانچ میں ریڈ کراس کے ذریعے اُن کا ایک خط ملا جس سے ان کی بگرام میں موجودگی ثابت ہوئی۔ انہوں نے دورانِ حراست مار پیٹ کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
اس پاکستانی قیدی کے خلاف کبھی کوئی باضابطہ مقدمہ نہیں چلایا گیا۔ آزادی کا حکم نامہ مل جانے کے باوجود اسے رہائی نہ ملنے پر اس کی کیفیت کیا ہوگی اس کا اندازہ لگانا کوئی زیادہ مشکل نہیں۔ وہ اس طرح کی مشکل میں اکیلا نہیں ہے۔ خیال ہے کہ پاکستان کے لگ بھگ پچیس قیدیوں کے علاوہ یمن، تیونس اور کئی دیگر ممالک کے قیدی بھی اسی شش و پنج میں مبتلا ہیں۔
بگرام میں قید پچیس میں سے سات پاکستانیوں کی رہائی کے لیے سرگرم غیرسرکاری تنظیم رپریو کی نمائندہ سلطانہ نون نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ساتوں مؤکلوں کو رہائی کی خبر سنائی جاچکی ہے۔ ’یہ سب بےقصور ہیں کیونکہ اگر ان کے خلاف کچھ ثبوت ہوتے تو ان کے خلاف اب تک عدالتی کارروائی شروع کر دی گئی ہوتی۔‘
اُن کی رہائی میں تاخیر کی اصل وجہ معلوم نہیں ہوسکتی کیونکہ ان قیدیوں کے وکلاء کو بھی اب تک کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ سلطانہ نون کہتی ہیں کہ دونوں حکومتیں ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کر رہی ہیں۔ امریکی کہتے ہیں کہ پاکستان جواب نہیں دے رہا جبکہ پاکستان کہتا ہے کہ امریکی ان کی درخواست پر کوئی مثبت ردعمل ظاہر نہیں کر رہے ہیں۔ لیکن ذمہ داری دونوں کی ہے۔ ایک نے انہیں گرفتار کیا اور دوسرے نے انہیں قید کیا۔
بعض لوگوں کو شک ہے کہ حکومتِ پاکستان اُن کی واپسی میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ رپریو کی نمائندہ سلطانہ نون اس سے متفق ہیں۔’بلکل پاکستان اُن کی رہائی میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا۔ ان کے خاندان انہیں واپس لینے کو تیار ہیں۔‘فضل کریم کے بھائی فضل رحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شک کا اظہار کیا کہ ان کے بھائی کی رہائی میں اس مرتبہ تاخیر امریکی سی آئی اے کے اہکار ریمنڈ ڈیوس کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ’تین ہفتے قبل فضل سے فون پر بات ہوئی ہے اور تین مرتبہ بتایا جاچکا ہے کہ اُسے رہا کیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘امریکی محمکہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ ان افراد کی جلد رہائی کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ خبررساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے پینٹاگون کے ترجمان لیفٹنٹ کرنل تانیا بریڈشر نے بتایا کہ رہائی کے فیصلے کے بعد قیدیوں کی منتقلی کے لیے سفارت کوششیں کی جاتی ہیں۔ ’امریکہ کسی کو بلا ضرورت قید رکھنا نہیں چاہتا ہے۔‘
فضل رحمان کا کہنا ہے کہ اُن کے والد تو بیٹے کا منہ دیکھے بغیر فوت ہوگئے لیکن اب ان کی ضعیف والدہ کا ارمان ہے کہ اسے ایک مرتبہ دیکھ ضرور لے۔
فضل کریم کو گزشتہ برس جولائی کے بعد اکتوبر میں پھر رہائی کا حکم نامہ دیا گیا جس کے مطابق اسے جتنا جلد ممکن ہوسکا ان کے آبائی ملک منتقل کر دیا جائے گا۔ ’آپ کی منتقلی میں کچھ وقت لگا سکتا ہے برائے مہربانی جب تک انتظامات مکمل ہو جائیں صبر سے کام لیجیے۔‘
بی بی سی اردو
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا
مت سوچو !

 
عدنان دانی's Avatar
عدنان دانی
ذیلی ناظم

تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 202
Reply With Quote
عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (07-04-11)
پرانا 07-04-11, 12:45 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,854
کمائي: 278,136
شکریہ: 1,155
6,269 مراسلہ میں 14,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عدنان دانی مراسلہ دیکھیں
بعض لوگوں کو شک ہے کہ حکومتِ پاکستان اُن کی واپسی میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔
بی بی سی اردو
السلامُ علیکم

حکومتِ پاکستان ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کیلئے سنجیدہ تھی نہ اُسکی واپسی کی خواہاں، پھر یہ معاملہ ہی اور ہے۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-04-11, 04:41 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تُف ھے ھماری حکومت کی رحمدلی پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-04-11, 05:10 PM   #4
ذیلی ناظم

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,237
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وہ کیا ہے کہ زرداری صاحب بی بی کو قتل کرنے میرا مطبل ہے کہ شہید
ہونے کے بعد تھوڑے رحمدل ہو گئے ہیں
عدنان دانی آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
pakistan, کوشش, کوششیں, کلومیٹر, کراچی, پاکستانی, مکمل, منتقل, منتقلی, ممکن, آج, الزام, اردو, بھائی, جیل, جواب, جلد, حکم, خلاف, خبر, دل, درخواست, شہر, عدالتی, صبر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:24 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger