15 مارچ سے فیصلے پر عملدرآمد ہوگا، رحمن ملک کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ
اسلام آباد (طاہر خلیل) حکومت نے این او سی کے بغیر صحافیوں، سرکاری ملازمین اور فنکاروں سمیت عام لوگوں کے بھارت سفر پر پابندی لگا دی ہے۔ وزارت داخلہ میں جمعرات کو وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملکی سلامتی اور قومی وقار کے تحفظ کی خاطر سرکاری ملازمین، صحافیوں اور فنکاروں کے غیرملکی دوروں کو باضابطہ بنایا جائے گا۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 15 مارچ سے فیصلے پر عملدرآمد ہوگا اور یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ بھارت جانے والے تمام لوگوں کو وزارت داخلہ سے این او سی لینا ضروری ہوگا۔ اس ضمن میں خارجہ، ثقافت، تعلیم اور اطلاعات و نشریات وزارتوں سے تفصیلات طے کرنے کے بعد ضروری ہدایات جاری کردی جائیں گی۔ سرکاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ غیرملکی سفر پر جانے والے افراد کو متعلقہ ملکی قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ وزیرداخلہ رحمن ملک نے ایک روز قبل قومی اسمبلی میں فنکاروں کے غیرملکی دوروں کے لئے این او سی لازمی قرار دیا تھا۔ راحت فتح علی خان اور وینا ملک کے بھارت کے حالیہ دوروں میں پاکستان کے وقار کو نقصان پہنچنے کے بعد حکومت کو یہ اقدام کرنا پڑا تھا۔ تاہم اب اس فہرست میں صحافیوں اور سرکاری ملازمین کو بھی شامل کردیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں بلیو پاسپورٹ رکھنے والے تمام سرکاری ملازمین کو غیرملکی سفر اور پہلے مرحلے میں بھارت جانے سے قبل جس کا اطلاق 15 مارچ سے شروع ہوگا سے قبل متعلقہ اپنی اور داخلہ وزارتوں کا این او سی حاصل کرنا ہوگا جبکہ صحافت اور میڈیا کے شعبے سے وابستہ افراد کو وزارت اطلاعات، غیرملکی سکالر شپ پر جانے والوں کو وزارت تعلیم سے اور وزارت ثقافت سے این او سی لینا ہو گا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی