|
صحافی گورنر ہاؤس جاکر یادداشت پیش کرنا چاہتے تھے، پولیس نے اچانک تشدد شروع کردیا

21-11-07, 08:43 AM
کراچی (اسٹاف رپورٹر) آزادی صحافت پر پابندی کے خلاف پی ایف یو جے کی احتجاجی مہم کے ضمن میں کراچی میں قائم کردہ میڈیا کوآرڈینیشن کمیٹی کی جانب سے منگل کی سہ پہر 3 بجے کراچی پریس کلب سے ایک بڑی ریلی نکالی گئی۔ اس ریلی کو گورنر ہاؤس جاکر ایک یادداشت پیش کرنی تھی لیکن ریلی پریس کلب سے نکل کر تقریباً 150 میٹر کے فاصلے پر واقع پیٹرول پمپ کے قریب پہنچی تھی کہ پولیس نے اس کے راستے میں رکاوٹیں لگاکر سڑک بند کردی‘ شرکائے ریلی نے رکاوٹیں عبور کرکے آگے بڑھنا چاہا تو پولیس نے ان پر تشدد اور بہیمانہ لاٹھی چارج شروع کردیا‘ اسی دوران پولیس نے صحافیوں کو اٹھا اٹھا کرپولیس وین میں ڈالنا شروع کردیا اور 150 سے زائد کو درخشاں‘ ڈاکس‘ فیریئر‘ کلفٹن اور جیکسن تھانوں میں منتقل کردیا۔ تھانوں میں تمام صحافیوں کی جامہ تلاشی لی گئی اور ان کے موبائل فون جمع کرلئے گئے۔ بعدازاں رات 9 بجے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی خصوصی ہدایت پر صحافیوں کو رہا کرنے کا مژدہ سنایا گیا تاہم پولیس نے 5 صحافیوں نجیب احمد‘ اے ایچ خانزادہ‘ موسیٰ کلیم‘ اصغرعمر اور غلام مصطفی کو رہا کرنے سے انکار کردیا جس پر دیگر تمام صحافیوں نے بھی رہا ہونے سے گریز کیا‘ بالآخر تمام صحافیوں کی رہائی کے احکامات ملتے ہی تمام صحافی کلفٹن تھانے میں جمع ہوئے جہاں سے جلوس کی شکل میں پہلے وہ پریس کلب اور پھر جنگ اور جیو کے دفاتر پہنچے اور جنگ گروپ سے اظہار یکجہتی کیا۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|