|
صدر نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لے لیاتو ان کیساتھ کام کرسکتے ہیں،امین فہیم،مواخذے کیلئے ہماری دو تہائی اکثریت نہیں، زرداری

26-02-08, 02:25 AM
صدر نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لے لیاتو ان کیساتھ کام کرسکتے ہیں،امین فہیم،مواخذے کیلئے ہماری دو تہائی اکثریت نہیں، زرداری
اسلام آباد ( جنگ نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ صدرنے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لے لیا تو ان کے ساتھ کام کر سکتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کو طاقتور بنانا ہمارا آئینی حق ہے، فوج اور عوام کے ساتھ مل کر چلنے سے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی، آٹا ‘گیس‘بجلی اور گھی کے مسائل بھی حل کرنا ہونگے،پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہاکہ صدر کے مواخذے کیلئے پارلیمنٹ میں ہماری دو تہائی اکثریت نہیں ہے ،انہوں نے کہا کہ صدرپرویز کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ چاہتے ہیں اور ہمیں محاذ آرائی کی بجائے صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہو گا،انہوں نے واضح کیا کہ وزارت عظمیٰ کے حوالے سے صوبہ پرستی پر یقین نہیں رکھتا،تفصیلات کے مطابق مخدوم امین فہیم نے جرمن ریڈیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کو حکومت بنانے کا حق ہے کیونکہ عوام نے اس پر اعتماد کا اظہار کیا ہے،انہوں نے کہا کہ آٹا،گیس،بجلی، گھی،گوشت اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ بڑے مسائل ہیں جن سے ہمیں مستقبل میں نمٹنا ہے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم پالیسیاں بنائیں گے جو دیرپا ہوں گی اور عوام کو ان پالیسیوں اور سیاسی صورتحال سے باخبر رکھا جائے گا۔فوج کا اپنا کردار ہے اگر فوج اور عوام ایک دوسرے کے لئے برداشت کی پالیسی اختیار کریں تو اس سے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو طاقتور بنانا ہمارا آئینی حق ہے ہم عوام کیلئے پارلیمنٹ کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے کی کوشش کریں گے۔ہم پارٹی منشور کے مطابق تبدیلیاں لائیں گے اگر کسی کو کوئی اعتراض ہو تو وہ بتا سکتا ہے اور اچھی چیز کو ہم سپورٹ کریں گے۔ عدلیہ کی بحالی کے مطالبے کے بارے میں امین فہیم نے کہا کہ یہ فیصلہ پارلیمنٹ میں طے کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے اور ہم پارلیمنٹ سے ہی یہ مسئلہ حل کرائیں گے۔ہم چاہتے ہیں کہ عدلیہ کو مالی طور پر خود مختار بنانے کیلئے قانون سازی کی جائے اور جج آئین کے مطابق کام کریں۔ امین فہیم نے کہا کہ آئین اور جمہوریت کی بحالی پیپلز پارٹی کی اولین ترجیح ہے، ہماری جدوجہد کے باعث صدر مشرف وردی اتارنے پر مجبور ہوئے، صدر مشرف پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو ہم ان کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہیں، عوام نے پیپلز پارٹی پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے، اب ہم پر فرض عائد ہوچکا ہے کہ ہم بھی عوام کے اعتماد پر پورا اتریں حکومت بنانے کے بعد سب سے پہلی ترجیح عوام کو سہولیات فراہم کرنا اور عوام کی خوہشات کے مطابق آئین 1973ء اور جمہوریت کی بحالی ہے ابھی حکومت سازی کا مرحلہ مکمل نہیں ہوا اور ہمیں امید ہے کہ ایک مدت کے بعد ہم ملک میں فوج کا سیاست سے کردار ختم کرنے میں کامیاب ہو جائینگے جمہوریت اپنی پوری آن وشان کے ساتھ نافذ ہوگی۔دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ صدر پرویز مشرف سے ورکنگ ریلیشن شپ چاہتے ہیں، صدر کے مواخذے کیلئے ہمارے پاس پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔ امریکی میگزین کو ایک انٹرویو میں آصف علی زرداری نے کہا کہ ہمارا اولین مقصد جمہوریت کی طرف خوش اسلوبی سے منتقلی ہے، ہم ملک کو متحد رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ اسے شدید چیلنجوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جمہوریت قائم کرنی ہے اور اس کیلئے ہمیں محاذ آرائی کی بجائے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مخدوم امین فہیم ہماری جماعت کے سینئر رہنما ہیں اور وہی اس وقت وزارت عظمیٰ کے امیدواروں میں سب سے آگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے امیدوار کے نام کا اعلان اس وقت کیا جائے گا جب ان کی جماعت کو حکومت بنانے کی دعوت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی امریکہ کیساتھ تعاون بڑھائے گی۔ پاکستان کو انتہا پسندوں کی طرف سے خطرات کا سامنا ہے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ ہم امریکہ کیلئے نہیں، اپنے لئے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت عسکریت پسندوں کیساتھ مذاکرات کرے گی، قبائلی علاقوں میں رہنے والے افراد تک پہنچیں گے اور قبائلیوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے ہم وہاں جمہوریت قائم کریں گے اور سیاسی اصلاحات کریں گے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ ان کا وزیراعظم بننے کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ اس کی بجائے وہ جماعت کو منظم کرینگے اور حکومت کی مدد کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت کا سربراہ ہونے کے باوجود انہوں نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا کیونکہ الیکشن میں حصہ لینے سے پارٹی اور حکومت کی رہنمائی کرنا زیادہ اہم ہے اور اگر جماعت نے فیصلہ کیا تو ضمنی الیکشن میں ضرور حصہ لیں گے۔انہوں نے بھارتی اخبار کو بھی انٹرویو دیا اس دوران انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی بھارت کے ساتھ امن عمل میں پیش رفت کرے گی ،انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے ایشو پر نواز شریف ہمارے ساتھ ہیں ،انہوں نے مزید کہاکہ میں وزارت عظمیٰ کے حوالے سے صوبہ پرستی پر یقین نہیں رکھتا۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|