|
صدر پرویز آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں، ایمرجنسی ختم کئے بغیر آزادانہ انتخابات نہیں ہوسکتے ،ترجمان وائٹ ہاؤس

14-11-07, 02:01 PM
نیویارک، واشنگٹن ( ایجنسیاں، نمائندہ جنگ) امریکا نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف انتخابات سے پہلے ایمرجنسی اٹھا لیں اور انہیں بیک وقت صدر اور آرمی چیف بھی نہیں ہونا چاہئے، ایمرجنسی اٹھائے بغیر آزادانہ انتخابات ممکن نہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان ڈانا پیرینو نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ صدر بش چاہتے ہیں پاکستان میں منصفانہ انتخابات سے پہلے ایمرجنسی اٹھا لی جائے، صدر جنرل پرویز مشرف کو فوجی عہدہ بھی چھوڑ دینا چاہئے۔ صدر بش سمجھتے ہیں کہ صدر پرویز مشرف کو بیک وقت صدر اور آرمی چیف نہیں ہونا چاہئے، امریکا درخواست کرتا ہے کہ پاکستان میں تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں صورت حال بہتری کی طرف جارہی ہے اور صدر بش چاہیں گے کہ پاکستان میں ایمرجنسی ختم کر دی جائے اور ملک میں آئین دوبارہ بحال ہو جائے ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ پاکستان میں صورت حال کے بارے میں پیش گوئی کرنا آسان نہیں ہے کہ کیا ہو گا کیا ہونے والا ہے ہم ہر کسی پر زور دے رہے ہیں کہ موجودہ بحران سے نکلنے کے لئے ضبط و تحمل اور عدم تشدد کا مظاہرہ کیا جائے۔ دریں اثناء واشنگٹن سے نیر زیدی کے مطابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی رائے میں پاکستان میں ایمرجنسی کے پکڑ دھکڑ کے ماحول میں پاکستان میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات نہیں ہوسکتے۔ صدر بش اسی ہفتے اپنا ایک ایلچی پاکستان بھیج رہے ہیں جو جنرل پرویز مشرف سے روبرو بات چیت میں یہ واضح کرے گا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا جنرل پرویز کے الیکشن کے اعلان سے اس وقت تک مطمئن نہیں ہوگا جب تک وہ ایمرجنسی نہیں اٹھا لیتے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی انتظامیہ نے اس ایلچی کے مشن کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ عوامی بیانات میں وائٹ ہاؤس اب بھی جنرل پرویز مشرف کی حمایت کر رہا ہے اور وزارت دفاع اب بھی یہی سمجھتی ہے کہ القاعدہ سے جنگ کیلئے جنرل پرویز ہی بہترین آپشن ہیں لیکن ایک سینئر امریکی افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ بش انتظامیہ کو یہ پریشانی ہے کہ جنرل پرویز کے غلط اقدامات کے نتیجے میں ان کی اتھارٹی کی بنیاد اتنی کمزور ہوجائیگی کہ انہیں اقتدار چھوڑنے پر مجبور کردیا جائیگا۔ صدر بش اس تبدیلی کیلئے تیاری کے طور پر پاکستان کی حمایت اور جنرل پرویز کی حمایت میں فرق واضح کر رہے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے درمیان محاذ آرائی سے بھی امریکی حکام کیلئے پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ نیویارک سے عظیم ایم میاں کے مطابق ”جنگ“ کے رابطہ کرنے پر امریکی دفتر خارجہ نے خصوصی ایلچی کے پاکستان بھیجے جانے سے متعلق خبر کے بارے میں تصدیق یا تردید کئے بغیر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمرجنسی کی موجودگی میں انتخابات کا انعقاد عالمی اور پاکستانی سیاسی حلقوں میں شبہات پیدا کر رہا ہے۔ ادھر پاکستان میں میڈیا پر پابندیوں کے تسلسل، ججوں کی برطرفی، ایمرجنسی کے نفاذ اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف عالمی اور امریکی تنظیمیں نیویارک میں امریکی قونصلیٹ کے سامنے ایک مشترکہ احتجاجی ریلی منعقد کریں گی جس میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، امریکن نیشنل لائرز گلڈ اور سینٹر فار کانسٹی ٹیوشنل رائٹس کے نمائندے شریک ہونگے۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|