|
صدر پرویز دونوں عہدے نہیں رکھ سکتے،الیکشن کا فوری اعلان کریں،بش

08-11-07, 01:59 PM
واشنگٹن(ایجنسیاں)امریکی صدر بش نے صدر پرویزکو واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ ملک میں وقت پر پارلیمانی انتخابات یقینی بنائیں اور آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں ،فرانسیسی صدر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے صدر پرویز کو کی جانے والی فون کال کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ میں نے ان کو بلا تکلف کہہ دیا ہے کہ ایک وقت میں آ پ دونوں عہدے اپنے پاس نہیں رکھ سکتے ،صدر پرویز میری بات سمجھتے ہیں وہ امریکا کی بات سمجھتے ہیں، میں نے کھلے الفاظ میں ان تک یہ بات پہنچا دی ہے کہ ہم الیکشن کے انعقاد پر یقین رکھتے ہیں اور ایسا جلد ہونا چاہئے۔فرانسیسی صدر نکلولس سرکوزی نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوارن صدر بش سے سوال کیا تھا کہ پاکستان اور برما کے بارے میں امریکا کا دوہرا معیار کیوں ہے، جواب میں صدر بش نے کہا کہ بر مااور پاکستان کا معاملہ الگ الگ ہے پاکستان جمہوریت کے راستے پر گامزن ہے جبکہ برما اب ڈیموکریسی کی پٹری پر چڑھے گاانہوں نے کہا کہ میں نے بہت سادہ اور آسان لفظوں میں صدر پرویز سے کہہ دیا ہے کہ وہ الیکشن کا فوری اعلان کریں صدربش نے اس موقع پر ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں امن کی خاطر وہ اپنا ایٹمی پرگرام ترک کر دے۔صدر بش نے اس دوران افغان سرحد کے قریب انتہا پسندی اور دہشتگردی کی وارداتوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔دریں اثناء وہائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا نے پاکستان کو دی جانے والی امداد معطل کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں غور شروع کردیا ہے اور کہاہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف ہمارے صبر کا امتحان نہ لیں، امریکی تحمل لامحدود عرصے کیلئے نہیں اور اپنے وعدے کے مطابق وردی اتاریں، پاکستان کو جمہوری راستے پرجلد واپس آنا ہوگا۔دوسری جانب ایوان نمائندگان کے ارکان نے پاکستان میں ایمرجنسی کے خلاف امریکی کانگریس میں قرارداد پیش کرنے کا اعلان کیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ترجمان وائٹ ہاؤس نے صدر پرویز مشرف کو خبردار کیا کہ امریکی تحمل لامحدود عرصے کیلئے نہیں اور وہ ان سے جمہوریت کی راہ پر جلد واپسی کی توقع کرتا ہے۔دوسری جانب قومی سلامتی کونسل کے ترجمان گورڈن جان ذرو نے کہا صدر جنرل پرویز مشرف کو فوری طور پر گرفتار لوگوں کو رہا، سڑکوں پر لوگوں پر تشدد بند، جمہوری آزادیوں کو بحال اور جمہوریت کے راستے پر جلد لوٹنا ہو گا۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان سین مک کارمک نے بینظیر کی جانب سے عوامی سطح پر احتجاج کے اعلان کے نتیجہ سے تشدد کے مزید بھڑکنے سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا عوام کو اپنے جذبات کے اظہار کا حق ہوناچاہئے، ہم نے پاکستان کے سیاسی نظام کے اس منفرد پرآشوب دور میں تمام فریقوں کو پرسکون رہنے کی تلقین کی۔ دوسری جانب امریکہ نے پاکستان کو دی جانے والی اربوں ڈالر کی امداد معطل کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں غور شروع کر دیا ہے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان سین مک کارمک نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف پر ایمرجنسی اٹھانے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور بش انتظامیہ پاکستان کی امداد معطل کرنے کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خارجہ، وائٹ ہاؤس اور دیگر سرکاری ادارے یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا پاکستان نے کسی امریکی قانون یاضابطے کی خلاف ورزی کی ہے جس کے نتیجے میں امداد معطل کی جا سکے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|