|
صدر پرویز سے تعاون کرو ورنہ این آر او ختم ہو جائے گا،پیپلز پارٹی کو پیغام

21-02-08, 02:32 AM
صدر پرویز سے تعاون کرو ورنہ این آر او ختم ہو جائے گا،پیپلز پارٹی کو پیغام
اسلام آباد(رپورٹ …حامد میر) بش انتظامیہ پیپلزپارٹی کو صدر پرویز مشرف کے ساتھ کام کرنے کیلئے ”ورکنگ ریلیشن شپ “ قائم کرنے پر زور دے رہی ہے۔ذرائع کے مطابق صدر پرویز مشرف کے قریبی ذرائع نے متنبہ کیا ہے کہ پیپلزپارٹی کے پاس ہمارے ساتھ تعاون کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ دوسری صورت میں این آر او ختم ہو سکتا ہے اورپیپلزپارٹی کے شریک چےئر مین کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سفارتکار نے دی نیوز کو بتایا کہ امریکا نے صدر پرویز مشرف پر 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کررکھی ہے اور ہم کسی کو اتنی بڑی سرمایہ کاری تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،یہ بھی معلوم ہواہے کہ بش انتظامیہ پرویز مشرف کو نہ صدر دہشتگردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ وہ انہیں امریکا میں آئندہ صدارتی انتخاب سے قبل نئے کشمیر منصوبے کے نفاذ کیلئے بھی برقرار رکھنا چاہتی ہے۔پاکستانی رائے دہندگان کی جانب سے صدر پرویز کیلئے ایک بہت بڑی ”نہ“ کے اعلان کے باوجودبش انتظامیہ اب بھی پرویز مشرف کی صدارت کواپنے لئے بہترین چوائس تصور کرتی ہے۔ذرائع کے مطابق صدرپرویز مشرف اور آصف علی زرداری کے مابین موجود خلیج پاٹنے کی کوشش کی جارہی ہے، قبل ازیں 27 دسمبر کو بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری صدر پرویز کو ” گورباچوف“ کہہ چکے ہیں۔صدر پرویز کے ایک قریبی مشیر طارق عزیز نے 18 فروری کے انتخابات سے چند دن قبل ہی اپنا نیا کشمیر پلان مکمل کیا، حال ہی میں انہوں نے دبئی میں بہت سے دن گزارے جہاں وہ بھارت کی مر ضی سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے اہم کشمیر ی رہنماؤں سے ملے۔صدر پرویز مشرف رواں برس اپریل میں نئی سیاسی حکومت کی حمایت سے کشمیر کے حوالے سے نئے اقدامات کا منصوبہ رکھتے تھے تاہم 18 فروری کو ان کے منصوبے بکھر کر رہ گئے۔صدر پرویز مشرف یہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ 18 فروری کا فیصلہ نہ صرف ان کے اپنے خلاف بلکہ ان تمام پالیسیوں کے خلاف فیصلہ ہے جو انہیں نے بش انتظامیہ کے دباؤ میں آکر تشکیل دیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ درحقیقت پرویز مشرف فی الوقت پاکستان کے سب سے غیر مقبول شخص ہیں لیکن وہ اب بھی نئی دہلی اور وائٹ ہاؤس میں سب سے زیادہ مقبول رہنما ہیں۔اعلیٰ ترین بھارتی رہنماؤں نے 18 فروری سے قبل عالمی میڈیا کو ایسے کئی اشارے دیئے تھے جن کا مقصد یہ تھا کہ بھارت پاکستان میں کسی بھی دوسرے شخص کی نسبت پرویز مشرف کو پسند کر تا ہے۔اب لگتا ایسا ہے کہ بش انتطامیہ بینظیر بھٹو کے قتل کی اقوام متحدہ سے بین الاقوامی تحقیقات کرانے کا مطالبہ ماننے پر تیار ہوجائیگی اور جواباً پیپلزپارٹی سے صدر پرویز مشرف کیلئے حمایت طلب کی جائیگی۔ادھر نواز شریف نے بش انتطامیہ تک پیغام پہنچا دیا ہے کہ اگر چہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے خلاف نہیں ہیں لیکن یہ جنگ پاکستان کیلئے ہونا چاہئے امریکا کیلئے نہیں۔نواز شریف نے بش انتظامیہ سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ پاکستانی سیاست میں مداخلت نہ کرے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|