|
صدر پرویز نے قوم سے تمام وعدے پورے کردیئے، الطاف حسین

18-12-07, 07:26 AM
لندن (پ ر) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور کسی بھی ملک یا بین الاقوامی ادارے کو قومی ہیرو ڈاکٹر قدیر خان تک رسائی کی اجازت دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے یہ بات ایک انٹرویو میں بات چیت کرتے ہوئے کہی، ملک میں ایمرجنسی کے خاتمے کے حوالے سے الطاف حسین نے کہا کہ صدر پرویز مشرف نے نہ صرف ایمرجنسی ختم کی ہے بلکہ انہوں نے قوم سے جتنے وعدے کئے تھے، وہ پورے کئے ہیں، جنرل پرویز مشرف نے 12اکتوبر 1999ء کو جب اقتدار سنبھالا اور الیکشن کرانے کا وعدہ کیا تو انہوں نے وہ وعدہ پورا کیا، پارلیمنٹ نے تمام تر رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود پانچ سال تک کام کیا اور اپنی مدت پوری کی، صدر مشرف نے ایمرجنسی ختم کرنے، آئین بحال کرنے اور وردی اتارنے کا وعدہ کیاتھا، اسے بھی پورا کیا۔ آج پرویز مشرف وردی اتار کرسویلین صدر بن چکے ہیں۔ نئے آرمی چیف نے چارج سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا سیاست میں عمل دخل ہونا نہیں چاہئے لیکن اس کی ذمہ داری کسی ایک فرد پر نہیں ڈالی جاسکتی، اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل پرویزمشرف کا دور فرشتوں کا دور نہیں تھا لیکن اگر ملک کی 60سالہ تاریخ میں جنرل پرویز مشرف کے دور کا دیگر جرنیلوں کے دور سے موازنہ کیا جائے تو ان کا دور دیگر جرنیلوں کے دور سے بہتر رہا۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں ماضی کی فوجی حکومتوں کی طرح انتقامی سیاست کا رویّہ نہیں اپنایا بلکہ صبر و تحمل اور برداشت سے کام لیا، جس کی مثال ماضی میں دیکھنے میں نہیں آئی۔ الطاف حسین نے کہا کہ صدر پرویز مشرف نے صبر و برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو ملک میں آنے کی اجازت دی۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے تمام مطالبات پورے ہوگئے ہیں، لہٰذا تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو 8جنوری کو ہونے والے انتخابات میں حصہ لینا چاہئے اور جو سیاسی و مذہبی جماعتیں کہتی ہیں کہ صدر پرویز مشرف غیر آئینی صدر ہیں اس لئے ان کی صدارت میں ہونے والے انتخابات میں حصہ نہیں لیا جائے گا تو ان جماعتوں نے صدر پرویز مشرف کی صدارت میں ہونے والے 2002ء کے عام انتخابات میں کیوں حصہ لیا تھا؟ آئندہ سیاسی منظر نامہ کے بارے میں سوال کے جواب میں الطاف حسین نے کہا کہ الیکشن میں خواہ مسلم لیگ ق ہو، مسلم لیگ ن ہو، پیپلزپارٹی ہو یا ایم کیوا یم ہو کوئی بھی جماعت ہو انتخابات میں جس کی اکثریت ہو، حکومت اس کے حوالے کرنا چاہئے لیکن اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کچھ لوگ الیکشن کا بائیکاٹ کر رہے ہیں کچھ احتجاجاً حصہ لے رہے ہیں کچھ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے کاغذات مسترد ہوگئے ہیں پھر بھی ہم حصہ لے رہے ہیں، اس صورتحال میں شائد کوئی بھی پارٹی دو تہائی اکثریت یا بڑی اکثریت حاصل نہ کرسکے۔ اس سوال کے جواب میں کہ انتخابات بائی ڈیزائن ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ الزام لگانا آسان بات ہے لیکن عوام دیکھ رہے ہیں اور زمینی حقائق یہ ہیں کہ مسلم لیگ کل ایک تھی، آج دو ہیں اسی طرح پیپلز پارٹی کل تک ایک تھی آج دو ہیں، پنجاب کے شہروں میں نواز شریف اور دیہی علاقوں میں مسلم لیگ ق کو زیادہ سپورٹ حاصل ہے اسی طرح پیپلز پارٹی کو سندھ اور پنجاب میں جو سپورٹ 2002ء میں یا اس سے پہلے تھی، اس میں کافی حد تک کمی ہوئی ہے ان حالات میں کوئی بھی ایک پارٹی دو تہائی اکثریت کیسے حاصل کرسکتی ہے لہٰذا یہ کہنا کہ انتخابات بائی ڈیزائن ہو رہے ہیں، اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کیلئے حکومت پرالزام لگانا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن سے پہلے دھاندلی کی بات کرنا ملک کے سیاسی کلچر کا حصہ رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں فوجی حکومت یا آمریت نہیں، لہٰذا یہ کہنا کہ آمریت کی وجہ سے ملک ٹوٹ جائے گا مناسب نہیں ہے انہوں نے کہا کہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان کی جیو پولیٹیکل اسٹرٹیجک سچویشن یہ ہے کہ انڈیا، ایران اور افغانستان سے تعلقات بہتر نہیں ہیں اور چین سے تعلقات پہلے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں بھی نیو کلیئر ٹیکنالوجی ہے لیکن وہاں کیلئے امریکا یا عالمی ادارے نہیں کہتے کہ نیو کلیئر سائنسدانوں تک ہماری رسائی ہو لیکن پاکستان کیلئے نیو کلیئر ٹیکنالوجی حاصل کی جائے تو کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر قدیر تک ہمیں رسائی دی جائے، انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو صدر پر یہ الزام لگایا جا تا ہے کہ وہ امریکا کے ایک فون پر لیٹ گئے اور دوسری طرف ایک جماعت کی رہنما یہ کہتی ہیں کہ امریکا کو پاکستان میں کارروائی کی اجازت دیدیں گے، ڈاکٹر قدیر تک رسائی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے ڈاکٹر قدیر ہمارے ہیرو ہیں، جنہوں نے ڈاکٹر ثمر مند مبارک، دیگرسائنسدانوں اور پوری ٹیم کے ساتھ ملکر کرملک کو ایٹمی طاقت بنایا لہٰذا کسی بھی ملک یا بین الاقوامی ادارے کو ڈاکٹر قدیر تک رسائی کی اجازت دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|