|
صدر پرویز کا میج خراب ہوگیا،عام انتخابات قابل اعتبار نہیں ہوں گے،امریکی اخبارات

05-11-07, 08:11 AM
پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے امریکی ذرائع ابلاغ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے صدر پرویز کا امیج خراب ہوگیا ہے اور اب پاکستان میں عام انتخابات قابل اعتبار نہیں ہوں گے۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے مقابلے میں عراق کی صورتحال بہتر لگتی ہے جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس عمل سے پرویز بینظیر کے درمیان مفاہمت کی امریکی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹائم میگزین کاتبصرہ ہے کہ جنرل مشرف نے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کیلئے جو اقدام کیا ہے اس نے پاکستان کو ایک آئینی بحران میں مبتلا کردیا ہے۔ ٹائم کے خیال میں اس کے نتیجے میں پاکستان میں القاعدہ کے حامیوں کے حملوں میں اضافے کاقوی امکان ہے۔ نیوز ویک نے اسلام آباد سے مغربی سفارتکاروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان کیلئے امریکا اور مغربی دنیا کی امداد خطرے میں پڑ گئی ہے لیکن یاد رہے کہ امریکی وزارت دفاع نے واضح بیان دیاہے کہ امداد جاری رہے گی۔ نیو یارک ٹائمز نے جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ‘ حزب اختلاف اور اسلام پسندعناصر کے دباؤ کی وجہ سے جنرل مشرف کی اتھارٹی کمزور ہورہی تھی اور ایمرجنسی کا نفاذ اس اتھارٹی کو بچانے کی کوشش ہے۔ دوسری جانب نیویارک ٹائمز نے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ وزیر خارجہ رائس نے ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت نہیں کی بلکہ جنرل مشرف کو اس بات کا کریڈٹ دیا کہ ماضی میں انہوں نے پاکستان کو جمہوریت کی طرف سے جانے کی کوشش کی تھی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی انتظامیہ پاکستان کے حالات اور خاص طور پر پاکستانی ملٹری کے ردعمل کا قریبی مشاہدہ کرتی رہے گی۔ اخبار کے خیال میں اس اقدام سے جنرل مشرف کے تحت ہونے والے الیکشن قابل اعتبار نہیں ہوں گے۔ اہم ڈیموکریٹ سینیٹر جوزف پائیڈن نے کہاکہ صرف جنرل مشرف پر انحصار کرنے کی امریکی پالیسی غلط ہے اور مشرف کی بجائے پاکستان کی حمایت کی پالیسی اختیار کرنا چاہئے۔ مسٹر بریس ریڈل کی رائے میں جنرل پرویز اور بینظیربھٹو کے درمیان مفاہمت کامقصدیہ تاثر دینا تھا کہ پاکستانی سیاست میں وسعت ہے۔ ایک ممتاز تھنک ٹینک کے ماہر اسٹیو کوہن نے کہا کہ پاکستانی امور کا کوئی ماہر یہ نہیں بتاسکتا کہ کل کیا ہوگا۔ پوسٹ نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ سفر کرنے والے ایک امریکی عہدیدار کا بیان دیا ہے جس نے کہا کہ اوپر والے کاشکر ہے کہ پاکستان کے مقابلے میں عراق کی صورتحال بہت بہتر لگتی ہے۔ واضح رہے کہ سینٹرل کمان کے ایڈمرل جون فالکن نے جنرل پرویز پر زور دیا تھا کہ وہ ایمرجنسی سے گریز کریں۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنے اولین اداریے میں اس حوالے سے سوال کیا ہے کہ کیاجنرل مشرف نے بش انتظامیہ کی وارننگ کو قابل اعتبار نہیں سمجھا تھایا جنرل پرویز کو نتائج کی پرواہ نہیں تھی۔ پوسٹ کی رائے میں اگر جنرل پرویز نے بش انتظامیہ کی وارننگ کو سنجیدہ نہیں سمجھا تو یہ بات قابل فہم ہے کیونکہ بش انتظامیہ جنرل پرویز کی ہر وعدہ خلافی کو برداشت کرتی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان صدر جارج بش کے اس عقیدے کی مثال بنتاجارہا ہے کہ مطلق العنانی انتہاپسندی کو جنم دیتی ہے چنانچہ اگر صدر بش نے خود اپنی تقاریر سنی ہوتیں تو پاکستان میں جو کچھ ہواہے صدر بش اس کی پیشگوئی کرسکتے تھے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|