|
صدر پرویز کے مخالفین نے قومی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت حاصل کرلی

20-02-08, 02:57 AM
صدر پرویز کے مخالفین نے قومی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت حاصل کرلی
اسلام آباد(رپورٹ......طارق بٹ ) پاکستان پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ (ن) اور اُن کی ہم خیال جماعتوں نے قومی اسمبلی میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل کرلی ہے جو آئین میں ترمیم کے لئے درکار ہوتی ہے اور اس کے برعکس صدر پرویزکی طرف سے شامل کرائی جانے والی آئینی ترامیم کے حامیوں کی تعداد272جنرل نشستوں میں سے تقریباً 50 ہے،جن میں زیادہ تر ق لیگ اور ایم کیو ایم کے ارکان شامل ہیں، تاہم مرکزی اور صوبائی سطح پر نئی صورتحال میں ایم کیو ایم اپنا ذہن تبدیل کرسکتی ہے دوسرے بلاک سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی ، ن لیگ ، عوامی نیشنل پارٹی اور 2 درجن کے قریب دیگر تمام نو منتخب ارکان قومی اسمبلی کم یا زیادہ معزول ججوں کی بحالی کے حامی ہیں، براہ راست لڑی جانے والی نشستوں میں ان کی اکثریت دو تہائی سے زائد ہے،اب تو یہ بھی واضح ہے کہ این اے 207لاڑکانہ اور این اے 119لاہور کی نشستیں کون حاصل کرے گا، قبائلی علاقے کی 2نشستیں اس کے علاوہ ہیں، جہاں بوجوہ الیکشن ملتوی کیا گیا، خواتین کی خصوصی نشستیں قومی اسمبلی میں ارکان کی بنیاد پر بالترتیب عام انتخابات جیتنے والی سیاسی پارٹیوں کو الاٹ کی جائیں گی اور ان کے نام سوموار کے الیکشن سے قبل سیاسی جماعتوں کی طرف سے الیکشن کمیشن کو فراہم کی جانے والی فہرستوں سے لئے جائیں گے، آزاد ارکان کا خواتین نشستوں کی نامزدگیوں میں کوئی کردار نہیں ہوگا، تاہم ان جیتنے والی جماعتوں کو سینٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے، جہاں ق لیگ کو معمولی برتری سے سادہ اکثریت حاصل ہے لیکن کیونکہ تبدیل شدہ صورتحال میں ق لیگ کا برقرار رہنا کچھ زیادہ ممکن نظرنہیں آتا، اس کے بیشتر سینیٹر ز(ن) لیگ میں شامل ہو سکتے ہیں جس سے فاتح پارٹیوں کو ایوان بالا میں بھی دو تہائی اکثریت حاصل ہو سکتی ہے، پیپلز پارٹی، ن لیگ اور مجلس عمل کے ارکان کی خاصی تعداد ایوان بالا میں موجود ہے، مطلوبہ تعداد حاصل کرلینے کے بعد یہ جیتنے والی سیاسی پارٹیوں پر ہے کہ وہ 3نومبر کے پی سی او کا خاتمہ اور آئین کو 12اکتوبر 1999ء کی پوزیشن پر بحال کرکے معزول ججوں کی بحالی کا متفقہ فیصلہ کریں، ن لیگ کی مہم کا یہ بڑا نعرہ رہا ہے، تاہم بینظیر بھٹو کی زندگی میں بھی اس ایشو پر پیپلز پارٹی کا نقطہ نظر مختلف رہا۔ آصف زرداری زیادہ مختلف نقطہ نظر نہیں رکھتے، 1998ء میں تمام پارلیمانی پارٹیوں نے متنازع 14ویں ترمیم کی منظوری کیلئے دونوں ایوانوں میں منٹوں میں اتحاد کرلیا تھا، اس اچانک شبخون پر اُس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ سجاد علی شاہ نے صدر فاروق لغاری کی تحریک پر نواز شریف سے سینگھ پھنسا لئے تھے، 14ویں ترمیم نے صدر کو 1973ء کے اصل آئین کی روح کے مطابق برائے نام سربراہ بنا دیا تھا۔ صدر پرویز مشرف نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ انتخابات کے بعد ان کی حمایت کی بنیاد اس طرح ختم ہو جائیگی جس سے صدرمملکت تنہا ہوگئے ہیں۔ ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ بلاشبہ انتخابی نتائج نے ہمیں حیران کردیا ہے صدر پرویز مشرف نے ذہن میں یہ کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ ق لیگ اس طرح ہارے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا خیال تھا کہ پیپلز پارٹی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریگی شاید قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ اکثریت والی واحد جماعت بن جائے تاہم ہم نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ خصوصاً (ن) لیگ پنجاب میں اس طرح بڑی کامیابی حاصل کریگی۔دوسری جانب یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ نواز شریف کی بینظیر بھٹو کی شہادت سے پہلے اور بعد میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مہذب سیاست نے بھی ووٹرز کے ذہنوں اور دلوں کو چھوا۔ ان کی بے نظیرکی شہادت کے بعد راولپنڈی کے ہسپتال میں فوری آمد جہاں بینظیر بھٹو کی میت پڑی تھی اور اس کے بعد نو ڈیرو جا کر آصف زرداری سے تعزیت کا ووٹرز نے خیر مقدم کیا۔ بینظیر بھٹو کی شہادت سے پیدا ہونیوالی ہمدردی کی لہر کی وجہ سے خصوصاً سندھ میں پیپلز پارٹی کیلئے نتائج بہتر آئے تاہم بڑے ایشوز جن میں معزول ججوں اور مشرف کے ساتھ تعلقات شامل ہیں کے حوالے سے موقف کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو پنجاب میں اتنی پذیرائی نہیں ملی ایک طویل مدت کے بعد حقیقی سیاسی قوتوں نے اظہارخیال کا موقع ملتے ہی اپنا جائز انتخابی حصہ حاصل کرلیا اور موجودہ انتخابات سے 1999ء کے وقت کے دو جماعتی نظام نے دوبارہ جڑیں پکڑ لی ہیں ۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|