|
صدر چاہیں بھی تو افتخار چوہدری کو چیف جسٹس نہیں بنا سکتے، لطیف کھوسہ

13-09-08, 08:45 PM
صدر چاہیں بھی تو افتخار چوہدری کو چیف جسٹس نہیں بنا سکتے، لطیف کھوسہ
لاہور (زیڈ ایف نیوز) اٹارنی جنرل آف پاکستان سردار لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری چاہیں بھی تو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کر کے بھی چیف جسٹس نہیں بنا سکتے، موجودہ چیف جسٹس کا اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے تقرر کیا تھا اور مسلم لیگ (ن) سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے صدر مان کر ان کے مواخذے کا عمل شروع کیا، موجودہ صورت حال میں وزیراعظم کے پاس کچھ بھی نہیں، آئینی ترامیم آئندہ سال مارچ سے پہلے نہیں ہو سکتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ آصف زرداری چاہیں بھی تو معزول جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کر کے بھی چیف جسٹس نہیں بنا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان عبدالحمید ڈوگر کا تقرر اس وقت کے صدر مشرف نے کیا تھا کوئی مانے یا نہ مانے مشرف اس وقت صدر تھے اور انہیں صدر مان کر ہی مسلم لیگ ن سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے ان کے مواخذے کا عمل شروع کیا۔ سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ معزول ججوں کی بحالی کا عمل ختم نہیں ہوا کئی معزول ججوں نے بحالی کےلئے حکومت سے رابطہ کیا ہے۔ اٹارنی جنرل کے مطابق موجودہ آئینی صورتحال میں وزیراعظم کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تمام اختیارات صدر آصف علی زرداری کے پاس ہیں اسمبلی توڑنے سمیت پاک فوج کے سربراہوں کے تقرر اور اہم آئینی عہدوں پر تقرریوں کے اختیارات اس وقت تک صدر کے پاس رہیں گے جب تک آئین میں ترمیم نہیں کی جاتی اور یہ ترمیم مارچ 2009ءسے پہلے نہیں ہو سکتی۔
|
ابن جلال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|