مختلف فیصلوں میں سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ غیر قانونی و غیر آئینی اقدامات پر استثنیٰ کی رعایت حاصل نہیں ہوسکتی
ظہور الٰہی کیس میں کہا گیا تھا کہ کوئی قانون سے بالا تر نہیں، نوابزادہ امان اللہ کیس میں بھی اسی نوعیت کے ریمارکس تھے
اسلام آباد (انصار عباسی) وزیراعظم گیلانی کے جمعہ کے بیان، کہ صدارتی استثنیٰ صرف پارلیمنٹ اور آئینی ترمیم کے ذریعے ختم ہوسکتا ہے، کے برعکس سپریم کورٹ آف پاکستان پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 248/ کے تحت یہ استثنیٰ غیر قانونی اور غیر آئینی سرگرمیوں کیلئے نہیں دیا جاسکتا۔ ایک مقدمہ میں سپریم کورٹ نے واضح انداز سے قرار دیا تھا کہ آئین اور نہ ہی قانون کے تحت یہ ممکن ہے کہ استثنیٰ کے دعویدار کسی شخص کو مجرمانہ اقدامات کرنے یا ایسے کام کرنے کی اجازت دیدی جائے جو قانون کے خلاف ہوں۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ”غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کیلئے استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا“۔ اگرچہ این آر او کے متعلق فیصلے میں سپریم کورٹ نے استثنیٰ کے معاملے پر غور کئے بغیر صدر زرداری کیلئے ایسی کسی رعایت کے متعلق بات نہیں کی لیکن عدالت عظمیٰ کے ماضی کے کچھ فیصلوں نے اس طرح کے استثنیٰ کی بنیاد اور اصول مقرر کردیئے ہیں اور از خود رعایت کی اجازت نہیں دیتا جس طرح ایوانِ صدر، وزیراعظم اور حکمران پیپلز پارٹی مطالبہ کر رہی ہے۔ ان فیصلوں پر یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں یا پارلیمنٹ نے کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ صرف سپریم کورٹ ہی خصوصی طور پر اس طرح کے استثنیٰ کے متعلق شقوں کی تشریح کرے اور یہ فیصلہ کرے کہ یہ رعایت کون حاصل کرسکتا ہے اور کون نہیں۔ ان فیصلوں میں تازہ ترین فیصلہ دسمبر 2009ء میں سنایا گیا تھا۔ یہ مقدمہ چیف جسٹس آف پاکستان کو 2007ء میں معطل کرنے کے متعلق تھا۔ فیصلہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے تحریر کیا تھا جو 13/ رکنی بنچ کے سربراہ تھے اور 20/ جولائی 2007ء میں یہ فیصلہ سنایا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 248/ کے تحت اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کو استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ اسی فیصلے میں جسٹس رمدے نے حوالہ دیا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 248/ کا معاملہ چوہدری ظہور الٰہی کے مقدمہ (پی ایل ڈی 1975ء ایس سی 383) میں بھی سامنے آیا تھا جس میں مذکورہ شق کے دائرہ کار اور گنجائش کا ذکر کیا گیا تھا کہ ”۔۔۔۔استثنیٰ کی شق کا انتہائی احتیاط اور سختی کے ساتھ مفہوم نکالنا چاہئے وہ بھی صرف اس وقت جب اس کا دعویدار اس کی شرائط پر پورا اترتا ہو، اس وقت تک استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا۔ استثنیٰ کی نوعیت اس عام اصول کے تحت دی جاتی ہے کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے“۔ اس معاملے کی مزید وضاحت اس طرح سے پیش کی گئی ہے، ”لہٰذا، چونکہ آئین اور نہ ہی کوئی قانون انہیں کوئی مجرمانہ اقدام کرنے کی اجازت دیتا ہے یا کوئی ایسا کام کرنے کی اجازت دیتا ہے جو قانون سے متصادم ہو ، کسی بھی غیر قانونی یا غیر قانونی اقدام کیلئے استثنیٰ حاصل نہیں ہوسکتا“۔ آرٹیکل 248/ کے معاملے میں سپریم کورٹ نے امان اللہ خان کے مقدمہ (پی ایل ڈی 1990ء ایس سی 1092) میں ایک مرتبہ پھر اس بات کو دہرایا کہ مذکورہ شقوں کی تشریح سختی کے ساتھ کی جانا چاہئے اور یہ کہا کہ ”اگر کسی فریق نے بدنیتی پر مبنی معلومات پر دلائل دیئے ہوں تو اسے خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا اس کے پاس دستیاب مواد پر، آئین کی دفاعی شقوں کی موجودگی کے باوجود وزیر کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے یا نہیں، کیونکہ اگر اس (وزیر) کے اقدامات تشریح شدہ شق کے دائرہٴ کار میں نہیں آتے تو اس پر بطور فریق مقدمہ چلایا جا سکتا ہے اور اس کارروائی کے متعلق تمام اعتراضات سے سماعت میں نمٹا جائے گا۔ فریق کی غیر حاضری میں، بدنیتی پر مبنی حقائق کے متعلق فیصلہ ریکارڈ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ریکارڈ کیا جانا چاہئے اور ریکارڈ نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔ آرٹیکل 248/ میں شامل ممانعت پر حاوی ہونے کیلئے قدرتی انصاف سے رجوع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی“۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ ”اگر اقدامات میں بدنیتی پر مبنی حقائق شامل ہیں تو مقرر کردہ اہلکاروں (Designated Functionaries) کو آئین کے آرٹیکل 248/ کے تحت تحفظ حاصل نہیں ہوگا ۔۔۔۔ جس معاملے میں زیر تحفظ اہلکاروں کے خلاف الزام بدنیتی پر مبنی حقائق کے تحت ہوں تو ایسی صورت میں ان پر بحیثیت فریق قانونی چارہ جوئی ہوسکتی ہے“۔ جسٹس رمدے کے فیصلے کے مطابق، اسی کیس میں نسیم حسین شاہ جن کی رائے اس مسئلے کے حل کیلئے اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے مطابق، ”لہٰذا اب اختیارات کا استعمال کرنے اور اپنے عہدے کی کارگزاری کی کارکردگی یا کارکردگی کی خاطر یا بظاہر اختیارات کے استعمال کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی صورت میں ہی وزیر کو استثنیٰ مل سکتا ہے۔ ایک وزیر کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ اختیارات کا استعمال کر رہا ہے جب اس کے اقدامات قانون کے تحت اسے دیئے گئے عہدے کے دائرے کے اندر ہوں لیکن اقدامات کرنے کیلئے اس کی نیت جائز اور اس دائرے کے تحت ہو جس کے اندر وہ موجود ہے۔ اگر اس کے برعکس اس کے اقدامات بدنیتی پر مبنی اور جعلی / بناوٹی ہوں تو ایسی صورت میں یہ سمجھا جائے گاکہ مذکورہ اہلکار کے اقدامات قانونی دائرے کے اندر نہیں ہیں اور اس کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کو کسی طرح کے استثنیٰ کا تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔ اور اگر یہ بات عیاں ہوگئی کہ وزیر نے اپنے عہدے کیلئے دستیاب اختیارات غیر قانونی طریقے سے استعمال کئے ہیں اور وہ درست نہیں ہیں تو ایسی صورت میں آئین کے آرٹیکل 248(1) میں دستیاب استثنیٰ ایسے اقدامات کو تحفظ نہیں دے گا“۔ اسی طرح کے خیالات کی عکاسی سپریم کورٹ نے نوابزادہ محمد عمر خان کے مقدمہ (1992ء ایس ایم سی آر 2450) میں کی تھی، جو ذیل میں پیش کئے جا رہے ہیں: ”دوسرے یہ کہ، بدنیتی پر مبنی حقائق شامل ہوں یا الزامات عائد کئے گئے ہوں، تو ایسی صورت میں یہ ضروری ہے کہ جن فریقوں پر بدنیتی پر مبنی یہ الزامات عائد کئے گئے ہیں ان پر بطور فریق مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ یہ اس آئینی تحفظ کے باوجود ہے جو ایسے اہلکاروں کو آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت حاصل ہے“۔ عدالتیں کسی بھی آئینی شق کی اس حد تک تشریح کرسکتی ہیں یا نہیں کہ وہ سادہ انداز سے پڑھنے میں بالکل ہی مختلف معلوم ہو؛ کے سوال پر سپریم کورٹ کا ایک اور مقدمہ (ملک غلام مصطفی کھر کا کیس … پی ایل ڈی 1989ء ایس سی 26) دیکھنا ضروری ہے؛ یہ کیس بھی چیف جسٹس کی معطلی کے کیس میں زیر بحث آیا تھا۔ اُس معاملے میں سپریم کورٹ اس عزم پر قائم ہوگئی کہ آئین کے تقدس کو برقرار رکھا جائے گا اور قابل مذمت، بے توقیر، قبیح اور قابل حقارت اقدامات، جن کی بنیاد نا انصافی اور غیر قانونی اقدامات ہوں؛ کو تحفظ دے کر آئین کو گندہ ہونے نہیں دیا جائے گا۔ ” لہٰذا یہ عدالت اپنے اس عزم کے اظہار میں ثابت قدم ہے کہ کسی بھی طرح کا استثنیٰ ایسے اقدامات کے تحفظ میں کافی ہوگا جو بدنیتی پر مبنی ہوں“۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ استثنیٰ کے متعلق اسی طرح کے سوالات مختلف مقدمات میں زیر غور آرہے ہیں لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے جو اصول اوپر بتایا گیا ہے وہ تاحال قائم ہے۔ جو مقدمات ریفر کئے گئے ان میں ”پیر صابر شاہ کا مقدمہ (پی ایل ڈی 1994ء ایس سی 73
؛ سردار فاروق احمد خان کا مقدمہ (پی ایل ڈی 1999ء ایس سی 57)؛ ظفر الحسن کا مقدمہ (پی ایل ڈی 1960ء ایس سی 113)؛ عبدالرؤف کا مقدمہ (پی ایل ڈی 1965ء ایس سی 671)؛ جمیل اصغری کا مقدمہ (پی ایل ڈی 1965ء ایس سی 69
؛ جمال شاہ کا مقدمہ (پی ایل ڈی 1966 ایس سی 1) شامل ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی 25 ستمبر 2010ء