حکومت پارٹی کےخلاف نیب کو استعمال کررہی ہے،جے یو آئی اپنے ٹرمپ کارڈ سے حکومت کو اپنے انداز میں جواب دے سکتی ہے
اسلام آباد (انصار عباسی) جے یو آئی (ف) جس کے پی پی پی سے قائم اتحاد سے علیحدگی کے بعد گیلانی حکومت کی جانب سے نیب کے ذریعے ہاتھ مروڑے جارہے ہیں، وہ اس بہترین پوزیشن میں ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 248 کو اسلام کے خلاف قرار دلوا کر حکومت کے خلاف جوابی حملہ کردے۔ اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنی تقرری کے وقت اور اتحادی ساتھی کی حیثیت سے مولانا محمد شیرانی آرٹیکل 248 کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جانچنے کا سوال اٹھانے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے تاہم اب اپنی پارٹی کے اتحاد سے علیحدہ ہوجانے اور نیب کے اس فیصلے کے بعد کہ جے یو آئی کی لیڈرشپ کے خلاف مقدمات شروع کئے جائیں گے، جے یو آئی (ف) کے پاس اپنا ٹرمپ کارڈ مو جود ہے جس کے ذریعے وہ حکومت کو اس کے اپنے انداز میں جواب دے سکتی ہے۔ اپنی تقرری کے وقت مولانا شیرانی نے اس نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سی آئی آئی آئین کے آرٹیکل 248 پرفیصلہ دےگی، اگر یہ معاملہ کونسل کو حکومت یا پارلیمنٹ کی جانب سے بھیجا گیا تاہم اس وقت وہ اپنے طور پر یہ معاملہ سی آئی آئی کے سامنے غور کے لئے پیش کرنے سے جھجک رہے تھے۔آئین کا آرٹیکل 248 صدر، وزیر اعظم، گورنروں، وزرائے اعلیٰ، وفاقی اور صوبائی وزراءاور دیگر کے استثنیٰ کے حوالے سے ہے تاہم فی الوقت یہ سب سے زیادہ صدر آصف علی زرداری کے حو الے سے برمحل ہے جنہیں گزشتہ دسمبر میں سپریم کورٹ کی جانب سے این آر او کے کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد سے بیرون ملک اور ملک میں کرپشن کے متعدد مقدمات کا سامنا ہے لیکن وہ کسی عدالت کے سامنے پیش ہو نے کے لئے تیار نہیں ہیں۔اس خیال سے کہ انہیں آئین کے آرٹیکل 248کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کو آئین کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو ایسی سفارشات بھیجے جس میں وہ طریقے اور ذریعے بیان کئے گئے ہوں،جن سے پاکستان کے مسلمان اپنی زندگی انفرادی اور اجتماعی طور پر ہر پہلو سے قرآن و سنّت سے اخذ کردہ اسلام کے تصور اور اصولوں کے مطابق بسر کرسکیں۔ اسے یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ ایسی سفارشات مرتب کرے جن کے تحت موجودہ قوانین کو جانچ کر اس کی تصدیق کی جاسکے کہ آیا وہ اسلام کی ہدایات کے مطابق ہیں اور جس پر عمل درآمد سے اسے جانچنے کے اقدامات روبہ عمل لائے جاسکیں گے۔ اسلامی فقہ کی روشنی میں دین میں استثنیٰ قسم کی کسی چیز کی گنجائش موجود نہیں ہے جس سے صدر اور دیگر کلیدی حکام 1973ءکے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحت مستفید ہورہے ہیں۔ این آر او کیس میں اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے اسلامی تعلیمات کا حوالہ بھی دیا ہے اور فیصلہ سنایا ہے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔ جے یو آئی (ف) کے جانے کے بعد نیب نے رسمی طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ جے یو آئی (ف) کے سابق وزیر رحمت اللہ کاکڑ کے خلاف دارالخلافہ کے نو اح میں گورنمنٹ ہاﺅسنگ اسکیم کیلئے 3 ہزار کنال زمین کی خریداری کے مقدمے میں تفتیش کا آغاز کررہی ہے یہ ایک حیران کن اتفاق ہے کہ نیب کے کے پی چیپٹر نے حال ہی میں بیورو کے ہیڈکوارٹر اسلام آباد سے رابطہ کیا ہے کہ وہ ملٹری ہیڈکوارٹر (جی ایچ کیو) کو لکھے کہ وہ ملٹری کی 12 سو کنال زمین کی الاٹمنٹ کینسل کرے جو جے یو آئی (ف) کے ٹاپ لیڈروں کو 2004ءمیں اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل مشرف نے الاٹ کی تھی۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی