2013ء میں عہدے کی مدت مکمل کرنے کے بعد ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں صدر زرداری پر مقدمہ چل سکتا ہے، عدالت سے اس وقت تک فیصلے پر عملدرآمد روکنے کی درخواست کی جائے
سپریم کورٹ کے احکامات آئین ِ پاکستان کے مطابق نہیں ہیں، ریکارڈ واضح ہے کہ مقدمات جعلی اور سیاسی محرکات پر قائم ہوئے ، دھماکا خیز پیش رفت پر چیف جسٹس نے دورہٴ امریکا منسوخ کردیا
اسلام آباد (رؤف کلاسرا) وفاقی وزارت قانون کے نافرمان آقاؤں نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو دوٹوک الفاظ میں تحریری بیان بھیجا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف سپریم کورٹ کے این آر او کے متعلق فیصلے کی روشنی میں صرف اسی صورت میں مقدمہ چل سکتا ہے جب وہ بحیثیت صدر اپنے عہدے کی مدت پوری کرلیں اور سپریم کورٹ کے ججوں سے درخواست کی جائے کہ وہ 2013ء تک اس وقت تک کیلئے فیصلے پر عملدرآمد روک
با قیصفحہ5 نمبر32
دیں جب تک صدر مملکت ایوانِ صدر سے باہر قدم نہ رکھ دیں۔ اس سلسلے میں زبردست پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری، جنہیں 25/ ستمبر کو اپنی اہلیہ کے ہمراہ پاکستانی عدلیہ اور موجودہ سیاسی نظام کے متعلق لیکچر دینے کیلئے امریکا جانا تھا، نے این آر او مقدمات کے فیصلے پر عملدرآمد اور ملک میں ہونے والی ڈرامائی پیش رفت کی وجہ سے اپنا دورہ امریکا اچانک منسوخ کردیا ہے۔ اسی دوران 52/ صفحات پر مشتمل سمری، جس کی نقل جمعہ کو سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی، میں وزیراعظم گیلانی کو دو مشورے دیئے گئے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دو تجاویز کمرہ عدالت میں طوفان برپا کردیں گی کیونکہ جج صاحبان شاید انہیں پسند نہ کریں۔ کئی اندرونی ذرائع کے مطابق، سپریم کورٹ اور حکومت کے درمیان 16/ دسمبر 2009ء کو این آر او کے متعلق فیصلہ آنے کے بعد شروع ہونے والی رسہ کشی بالآخر اب آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے کیونکہ اب گنتی شروع ہوگئی ہے اور ماضی کے برعکس حکومت نے بھی میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنے کی بجائے ”کرو یا مرو“ کی پالیسی اختیار کرلی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم گیلانی کو بھیجی گئی سمری میں چند دلائل موجود تھے جن کے حوالے سے وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے چند وفاقی وزراء کے ساتھ پیش ہو کر اس وقت وضاحت پیش کی تھی جب سپریم کورٹ نے انہیں طلب کیا تھا۔ آفیشل سمری میں این آر او مقدمات کا مکمل پس منظر پیش کیا گیا ہے حتیٰ کہ اس سمری میں مختلف مواقعوں پر عدالتوں کی جانب سے سنائے جانے والے فیصلے بھی سمری کا حصہ بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، سابق سیکریٹری قانون عقیل مرزا کے ذریعے جمع کرائی گئی درخواستوں اور مختصر فیصلوں کے بعد جمع کرائے گئے وزارت قانون کے جوابات کو بھی اس دھماکا خیز سمری کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اب تو وزیراعظم گیلانی بھی ذہنی طور پر اپنے محصور صدر کو بچانے کیلئے کسی بھی مہم جوئی کا سامنا کرنے کو تیار ہوچکے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسٹر زرداری کو بحیثیت صدر مکمل آئین پاکستان کے تحت استثنیٰ حاصل ہے اور سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت سوئس حکام کو خط لکھنے کیلئے وہ کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ سمری میں وزیراعظم گیلانی کو بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات آئینِ پاکستان کے مطابق نہیں ہیں اور اگر ان پر عمل کیا گیا تو پاکستان کو جمہوری طور پر منتخب ہونے والے اپنے صدر کو دوسرے ملک کے حوالے کرنا پڑے گا اور یہ 180/ ملین عوام کیلئے مشکل سے حاصل کی گئی آزادی سے دستبردار ہونے کے مترادف ہوگا۔ وزارت قانون کے سیکریٹری مسعود چشتی نے اپنی سمری میں وزیراعظم کو یہ بھی بتایا ہے کہ ایک ریاست سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ جمہوری انداز سے منتخب ہونے والے اپنے صدر کو کسی کے حوالے کردے گی؛ ریاست کا صدر مسلح افواج کا سپریم کمانڈر بھی ہے۔ سمری میں وزیراعظم گیلانی کو کچھ آپشنز بھی دیئے گئے ہیں جن کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ایک بڑا طوفان برپا کردیں گے کیونکہ امکان ہے کہ سپریم کورٹ ان تجاویز کو پسند نہیں کرے گی۔ اپنے پہلے آپشن میں وزارت قانون نے کہا ہے کہ سوئس مقدمات کے حوالے سے تحقیقات پہلے ہی بند کی جا چکی ہیں اور سوئس پراسیکیوٹر بھی یہ بات کہہ چکے ہیں جس کی توثیق سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان کرچکے ہیں۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر قانون اور آئین کے مطابق صرف اسی صورت میں عمل کیا جا سکتا ہے جب صدر زرداری منتخب صدر کی حیثیت سے اپنے عہدے کی مدت مکمل کرلیں گے اور سپریم کورٹ سے درخواست کی جاسکتی ہے کہ وہ اس وقت تک اپنے فیصلے پر عمل درآمد روک دے۔ مزید برآں، سمری میں وزیراعظم کے علم میں یہ بات بھی لائی گئی ہے کہ این آر او کے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کیا گیا ہے۔ لہٰذا، مزید کوئی اقدام کرنا باقی نہیں رہ گیا۔ سمری میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی آزادی کی بنیاد اس کے نظریات ہیں جس کے تحت منتخب نمائندے اس کے تحفظ کا اختیار صدر مملکت کے عہدے کو دیتے ہیں اور فی الوقت یہ عہدہ آصف علی زرداری کے پاس ہے۔ لہٰذا غیر ملکی سرزمین پر پاکستان کے آئینی طور پر منتخب صدر کے خلاف عدالتی کارروائی 180/ ملین پاکستانی عوام کی آزادی سے دستبرداری کے مترادف ہوگا۔ صدر زرداری کے خلاف سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی مزید وجوہات بیان کرتے ہوئے سمری میں بتایا گیا ہے کہ آئین کے مطابق، پارلیمنٹ ایک منتخب صدر اور دو ایوانوں (قومی اسمبلی اور سینیٹ) پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ اتحاد ناقابل تقسیم ہے۔ ان تینوں عناصر کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرنے کی کوئی بھی کوشش آئینی انتظامات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا۔ آئین پاکستان کی اسکیم اور اس کا ڈھانچہ صدر پاکستان کے حوالے سے واضح تصویر پیش کرتا ہے۔ لہٰذا صدر مملکت کے عہدے کی نفی کی جا سکتی ہے اور آزادی کے تحفظ اور ملک کے اتحاد کی خاطر نہ ہی انہیں نمائندگی کی اس صلاحیت سے انہیں محروم کیا جا سکتا ہے۔ اس عہدے کو عدالتی کارروائی کے نذر کرنے سے آئینی طور پر بنائے گئے اور جمہوری انداز سے ڈیزائن کئے گئے ریاستی اتحاد کو خطرہ لاحق ہوجائیگا۔ سمری میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی آزاد ریاست اس بات کی متحمل نہیں ہوسکتی کہ وہ آسانی سے اپنی آزادی سے دستبردار ہوجائے اور یہ آئین کے برخلاف ہے۔ سوئس حکام کی جانب سے عدالتی کارروائی بند کرنے، جس کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی گئی، کے واقعہ نے اپنی حتمی صورت اختیار کرلی ہے لہٰذا یہ مقدمات دوبارہ کھولنے کا کوئی منطقی جواز باقی نہیں ہے اور مزید یہ ان کی کوئی علاقائی افادیت بھی موجود نہیں ہے۔ سمری میں بتایا گیا ہے کہ سوئس قوانین کے مطابق یہ مقدمات دوبارہ بحال بھی نہیں ہوسکتے کیونکہ مذکورہ ملک کے سرکاری وکیل نے اپنی بات واضح کردی ہے لہٰذا کوئی مزید اقدام نہیں کیا سکتا۔ سمری کے مطابق، اس کے برعکس کوئی اقدام کرنے کی کوشش نقصان دہ اور پاکستانی عوام کیلئے ہزیمت کا باعث بن سکتی ہے۔ سمری میں مزید بتایا گیا ہے کہ عملی لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ معاملہ ماضی کا حصہ اور ایک بند فائل بن چکا ہے اور اس پر مزید کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ سمری کے مطابق آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت کسی شخص کو جسے گرفتار کیا گیا ہو، مذکورہ گرفتاری کی وجوہ سے جس قدر جلد ہوسکے، آگاہ کئے بغیر نہ تو نظر بند رکھا جائے گا اور نہ اسے پسند کے کسی قانون پیشہ شخص سے مشورہ کرنے اور اس کے ذریعے صفائی پیش کرنے کے حق سے محروم کیا جائے گا۔ سمری میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ ماضی کے نظریے پر عمل میں ناکام ہوگئی ہے اور مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کارروائی بند کردی گئی۔ سمری کے مطابق، سپریم کورٹ نے یہ کہنے میں غلطی کردی کہ اس وقت اے جی پر یہ لازم تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں وہ ہدایت نامہ یا اس اتھارٹی کو پیش کرے جس کے حوالے سے مختلف حکام / عدالتوں اور غیر ملکی عدالتوں بشمول سوئٹزرلینڈ کو خطوط لکھے جاتے تھے۔ عدالت ہذا نے اس بات کی تعریف نہیں کی کہ اسی منطق کی بنیاد پر اس وقت کے اے جی نے اصل درخواست پر 1997ء میں کارروائی شروع کرنے کیلئے سوئس حکام کو جب خط لکھا تھا تو یہ اقدام کسی قانونی جواز کے بغیر تھا اور اس کا کوئی قانونی اثر نہیں تھا۔ سمری میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی علاقائیت سے ماورا بین الاقوامی قانون کے نظریے کی رو سے سپریم کورٹ سے یہ کہنے میں غلطی ہوئی کہ اس کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ وفاقی حکومت کو پاکستان سے باہر درخواستوں، دعووں اور مقدمات و کارروائیوں کو بحال کرنے کا حکم جاری کرے۔ 7/ اکتوبر 1997ء کو اس وقت کے اے جی کی جانب سے لکھے گئے خط میں نام نہاد باہمی معاونت کے نام پر بینظیر بھٹو اور بیگم بھٹو کے خلاف شریک ملزمان کے ساتھ جعلی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ اس وقت کی حکومت کی بدنیتی اس خط سے واضح ہوجاتی ہے کہ جس میں یہ واضح طور پر درج ہے کہ یہ خط پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر سیف الرحمن (سابق چیئرمین احتساب بیورو) کی ایماء پر لکھا گیا تھا۔ ریکارڈ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بینظیر بھٹو اور بیگم بھٹو کو مقدمات میں پھنسایا گیا تھا اور یہ سب سیاسی محرکات کا نتیجہ اور بدلے کا شاخسانہ تھے۔ وزیراعظم گیلانی کو بتایا گیا ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی جانب سے میثاق مدینہ کے تحت مدینہ منورہ میں اٹھائے گئے اقدامات اور 1973ء کے آئین کے آرٹیکل 2-A کی روشنی میں عدالت میں مزید کوئی بڑی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔ جس فیصلے کی نظرثانی کی جا رہی ہے اس میں بات کو نوٹ کرنے میں ناکامی ہوئی لہٰذا یہ جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم گیلانی کو سمری میں بھی بتایا گیا ہے کہ قانون کی کتاب کے حوالہ جات تو بہت پیش کئے جاتے ہیں لیکن جمہوریت یا پارلیمنٹ کی بالادستی کے باب کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اس کتاب کے تحت اگر عدالت کالے کو سفید اور سفید کو کالا قرار دے تو اسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ پہلو ایک غلطی ہے جسے ایک ایسے ملک میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جہاں آئین کے تحت سیاسی نظام کی بنیاد پارلیمانی جمہوریت ہے۔ لہٰذا، این آر او نے اہم سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو پاکستان واپس آنے کا اہل بنایا اور انہیں آزاد اور منصفانہ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی اور فوجی آمریت سے اختیارات لے کر جمہوریت کے قیام میں مدد دی۔ مصالحت کے اس عمل نے نتیجتاً ملک میں جمہوریت کی بحالی کی وجہ فراہم کی۔ این آر او کے نتیجے میں جمہوریت آنے سے پوری قوم کو فائدہ پہنچا ہے، ایک فوجی آمر نے اپنی وردی چھوڑی اور حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین برداشت کا بہتر سیاسی ماحول پیدا ہوا۔ مزید اہم یہ ہے کہ آزاد عدلیہ سے پوری قوم کا فائدہ ہو رہا ہے۔ سمری میں بتایا گیا ہے کہ یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ چند رہنماؤں (شہبا ز اور نواز شریف) نے قومی مصالحتی آرڈیننس سے پہلے پاکستان واپسی کی کوشش میں پہلے لاہور اور اس کے بعد اسلام آباد میں لینڈنگ کی لیکن انہیں واپس بھگا دیا گیا اور کسی میں ہمت نہیں تھی کہ وہ انہیں جلاوطن کرنے والے شخص کے پنجوں سے آزاد کرائے۔ سمری میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے یہ تجویز پیش کرنے میں بھی غلطی کی کہ این آر او اطلاق عام جرائم پر نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، اگر عالمی سطح پر تسلیم کئے جانے والے جرائم میں معافی دی جا سکتی ہے تو اس بات کا جواز نہیں ہے کہ قومی مصالحت کے نام پر دیگر نوعیت کے مقدمات ختم نہیں کئے جا سکتے۔ جو بات قابل غور ہے وہ مبینہ جرائم کی بجائے نشانہ بنایا جانا ہے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اسی طرح کے الزامات کا سامنا کرنے والے سیاسی رہنماؤں کو معافی دیدی جاتی تھی اور انہیں آزاد کرکے غیر ملکی دوروں کی بھی اجازت دی جاتی تھی حتیٰ کہ عدالتوں سے ان کی سزائیں بھی معطل نہیں کرائی جاتی تھیں۔ وزیراعظم گیلانی کو بتایا گیا ہے کہ اگر این آر او کا کوئی حصہ غیر آئینی تھا تو سپریم کورٹ کو چاہئے تھا کہ وہ مکمل طور پر اسے ختم کرنے کی بجائے اس میں تبدیلیوں یا ترامیم کی تجویز پیش کرتی اور ایسا پہلے بھی کئی معاملات میں کیا جا چکا ہے۔ اس سلسلے میں صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں منظور کئے جانے والے حسبہ بل کی مثال تازہ ترین ہے اور اس کا حوالہ پیش کیا جا سکتا ہے۔ اہم اور قابل غور بات یہ ہے کہ فیصلے پر نظر ثانی قرآن اور سنت کے اصولوں کے خلاف ہے اور عدالت ہذا نے بینظیر بھٹو کے کیس میں اس بات کو تسلیم کیا ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی