|
صرف10ارکان اسمبلی نے 10لاکھ روپے سے زائد ٹیکس دیا

24-12-10, 03:12 AM
181ارکان اسمبلی ٹیکس دیتے ہی نہیں، ایم کیو ایم کے سہیل منصور ٹیکس دینے میں سر فہرست اسلام آباد (عمر چیمہ )قومی اسمبلی کے صرف 10ارکان ہیں جنہوں نے 10لاکھ روپے سے زیادہ ٹیکس دیا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے موجودہ نظام میں سوائے اسمبلی قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا کے جن کے 2008ءمیں ٹیکس گوشوارے 10,45,427روپے تھے کے پاس کوئی نمایاں عہدہ نہیں ہے ۔ 2008ءکے عام انتخابات لڑنے سے اب تک قومی اسمبلی کے 181ارکان نے کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا ۔ رکن اسمبلی ہونے کے ناطے وہ نہ صرف ایوان میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے ہوتے بلکہ پورے پاکستان میں ان کا ٹیکس سب سے زیادہ ہوتا۔ کراچی سے ایم کیو ایم کے اکیلے خواجہ سہیل منصور نے 2008ءمیں 70,758,463روپے ٹیکس ادا کیا ۔ پارلیمینٹ میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے ایم کیو ایم کی مخالف پارٹی اے این پی کے رکن اسمبلی ہیںکم سیاسی قد کاٹھ والے وزیر مسعود عباس جو کہ اے این پی کے پلیٹ فارم سے سے منتخب ہوئے انہوں نے 20,210.004 روپے ٹیکس ادا کیا جب کہ ان کے پارٹی رہنما اسفند یار ولی نے کوئی ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے۔سابق وفاقی وزیر اور فنکشنل مسلم لیگ کے رکن اسمبلی جہانگیر ترین زیادہ ٹیکس دینے والوں میں چوتھے نمبر پر ہیںانہوں نے 1,825,211روپے ٹیکس ادا کیا جب کہ پیپلز پارٹی کے کسی بھی رہنما نے ایک کروڑ سے زائد ٹیکس ادا نہیں کیا ۔باقی ماندہ پانچ ارکان اسمبلی جن کا ٹیکس10لاکھ سے زائد ہے ان میں سے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے 1,045,427، شہناز وزیر علی نے 1,115,408، حمیر حیات بخاری نے 1,118,943، چوہدری افتخار نذیر نے 1,138,778اور نواب علی نے 1,607,439روپے ٹیکس ادا کیا جب کہ 181ارکان اسمبلی نے کوئی ٹیکس نہیں دیا ۔ ان میں سے جن ارکان نے ٹیکس دیا اور کتنا دیا ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے ۔وہ ارکان اسمبلی جنہوں نے ایک پیسہ بھی ٹیکس نہیں دیا ۔ان میں سے نمایاں اسفند یار ولی، خود کو سب سے زیادہ امیر کہنے والے رکن اسمبلی محبوب اللہ خان، فیصل کریم کنڈی، مولانا عطاءالرحمن ، مولانا فضل الرحمن ، انجینئر امیر مقام ، نجم الدین خان،لال محمد خان، نورالحق قادری، نذرمحمد گوندل، سردار آصف احمد علی،سید صمصام بخاری ، منظور وٹو، خرم جہانگیر وٹو، یوسف رضا گیلانی ، تہمینہ دولتانہ ، حنا ربانی کھر، جمشید دستی، ریاض پیرزادہ،حامد سعید کاظمی ، مخدوم شہاب الدین، علی محمد مہر، شاہد بھٹو ، امین فہیم ، نوید قمر، یوسف تالپور ، ہمایوں عزیز کرد، ڈاکٹر آیت اللہ درانی ، جسٹس ریٹائرڈ فخر النساءکھوکھر،میمونہ ہاشمی ، نوشین سعید، نفسیہ شاہ ، فرزانہ اصفہانی ، حاجی غلام بلور اور شہباز بھٹی ہیں ۔اس کیٹگری میں شامل دوسرے لوگوں میں نور عالم خان ، ارباب ظہیر خان، طارق خٹک ، اعتماد خان، پرویز خان، دلاور شاہ، اجمل خان، حیدر علی شاہ ، سردار مشتاق ، فیاض محمد خان، نو از خان، عبدالمتین، مظفرالملک،سید علاﺅالدین، شہزاد محی الدین ، ملک عظمت خان، بلال رحمان،ساجد حسین طوری، جواد حسین ، کامران خان، مولانا عبدالمالک وزیر ، اخوندزادہ ظفر بیگ،محمد صفدر ، ملک ابرار احمد، حاجی پرویز خان ، راجہ صفدر ، راجہ اسد ، غیاث احمد میلہ ، سید جاوید حسین شاہ ، طارق باجوہ ،ملک نواب شیر وسان، راحیلہ پروین ، سید عنایت علی شاہ ، فرخندہ امجد ، بیرسٹر عثمان ابراہیم، رانا نذیر احمد، مدثر قیوم نہرا، جسٹس (ر) افتخار چیمہ، سائرہ تارڑ، جمیل ملک ، طارق تارڑ، رانا عبدالستار، سمیرا ناز، چوہدری طارق انیس، بلال یاسین، چوہدری نصیر بھٹہ ،ملک افضل کھوکھر، رانا افضل حسین ، چوہدری برجیس طاہر، سعید ظفر، مظہر حیات خان، رانا اسحاق،کیپٹن (ر)غلام مجتبیٰ کھرل، سجاد الحسن ، لیاقت علی خان، دیوان عاشق بخاری، صدیق خان بلوچ ، حیات اللہ خان ، پیر اسلم بودلہ ،سید عمران شاہ، غلام فرید کاٹھیا، زاہد اقبال، نعمان لنگڑیال، سردار منصب ڈوگر، سلمان محسن، رانا زاہد حسین، نذیر احمد جٹ، عظمی دولتانہ، محمود حیات عرف ٹوچی خان، خواجہ شیراز، دوست محمد مزاری، محسن قریشی، معظم جتوئی، عبدالقیوم جتوئی، ثقلین بخاری، عارف عزیز شیخ، عامر حیات وارن، میاں عبدالستار، جاوید اقبال، نعمان اسلام شیخ، میاں عبدالحق عرف میاں مٹھو، نذیر احمد بگھیو، عامر مگسی، میر نصراللہ خان، غلام مصطفی جتوئی، فضل شاہ جیلانی، شمشاد ستار، غلام علی نظامی، منور تالپور، ارباب ذکاءاللہ، غلام حیدر، عبدالغنی تالپور، طلعت اقبال محسر، روشن دید جنیجو، عبدالوحید سومرو، شیخ صلاح الدین، فرحت محمود خان، سفیان یوسف، ڈاکٹر ندیم احسان، عبدالرشید، سید آصف حسین، ساجد احمد، ناصر شاہ عرف سید عباس، سردار عمر گوریج، مولوی رازالدین، مولوی عصمت اللہ، میر احمد خان بگٹی، تاج محمد جمالی، عثمان ایڈووکیٹ، احسان اللہ ریکی، یعقوب بزنجی، پلواشہ محمد زئی، قدسیہ ارشاد، طاہرہ اورنگزیب، نگہت پروین میر، خالدہ منصور، شہناز سلیم، سبین رضوی، ثریہ اصغر، تسنیم صدیقی، شاہین اشفاق، ڈاکٹر ناہید شاہد علی، عمران سعید جمیل، شگفتہ صدیق، رینا کماری، جمیلہ خورشید بیگم، مہر النساءآفریدی، فرحت بیگم، زبیدہ جلال، ظل ہما، لال چند، ڈاکٹر مہیشا کمار، ڈاکٹر نیلسن عظیم اور ڈاکٹر عریشہ کمار شامل ہیں۔ 24ارکان اسمبلی جو 100سے 10,000روپے تک ٹیکس دیتے ہیں۔ اس گروپ میں نمایاں انسانی حقوق کے وزیر ممتاز عالم گیلانی، وزیر ٹیکسٹائل رانا فاروق سعید، وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ، وزیر امور خارجہ نوابزادہ ملک احمد، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرمین فرزانہ راجہ، ماروی میمن اور عبدالقادر پٹیل ہیں۔ دوسرے جو ان میں شامل ہیں وہ شیخ روحیل اصغر، ڈاکٹر امتیاز بخاری، اختر اقبال قادری، عبدالوسیم، رانا تنویر حسین، پروین محمود بھٹی، صلاح الدین، صاحبزادہ مرتضیٰ امین، عمر سہیل ضیاءبت، مرتضی جاوید عباسی، محمود بشیر ورک، سردار عرفان ڈوگر، نزہت صادق، فوزیہ اعجاز، بلال ورک، عبدالغفور چودھری طور، اقلیتی رکن اسمبلی درشن ہیں۔ 13ارکان اسمبلی جو 10,001سے 20,000 روپے تک ٹیک دیتے ہیں۔ اس کیٹگری میں شامل اہم شخصیات میں سابق صدر مرحوم فاروق لغاری، مشیر وزیر اعظم عاصمہ عالمگیر، چودھری وجاہت حسین، انجینئر خرم دستگیر، ڈاکٹر چوھدری طارق فضل اور منیر اورکزئی سمیت وسیم اختر شیخ، روبینہ قائم خوانی، حاجی ا کرم انصاری، شیریں ارشد، ملک شاکر بشیر، شوکت اللہ اور شکیلہ خانم شامل ہیں۔ 33ارکان اسمبلی نے 20,001سے 30,000 تک انکم ٹیکس دیا ان میں اکثریت ایسے ارکان کی ہے جن کا 24232 روپے ٹیکس ان کی اسمبلی کی تنخواہوں میں سے کاٹا گیا۔ ان میں وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف، پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر امتیاز صفدر وڑائچ، وزیر سماجی بہبود ثمینہ خالد گھرکی، صدر زرداری کی بہن ڈاکٹر عذرا فضل، وزیر کھیل آفتاب شاہ جیلانی، صدر زرداری کی پولیٹیکل سیکرٹری رخسانہ بنگش، پیپلزپارٹی کی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب، وزیر مواصلات ڈاکٹر ارباب عالمگیر، فوزیہ حبیب، ظفر علی شاہ، جاوید ہاشمی، خواجہ آصف، عابد شیر علی، خواجہ سعید رفیق، کشمالہ طارق، حیدر عباس رضوی، صاحبزادہ فضل کریم اور خواجہ محمد خان ہوتی سمیت لیاقت عباس بھٹی، اقبال محمد علی، سیف الدین کھوسہ، اختر خادم عرف خادم حسین، مولانا محمد قاسم، ایاز شیرازی، عائشہ ناصر، مولوی آغا محمد، عامر جاموٹ، جدام میگریو، شیر محمد بلوچ، آصف توصیف، میاں مرغوب، ارشد لغاری اور رمیش لال شامل ہیں۔ 11 ارکان نے 30,001 سے 40,000 روپے ٹیکس ادا کیا جن میں وفاقی وزیر خورشید شاہ، وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان، وزیر مملکت مہرین انور راجہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی، پبلک اکاﺅنٹس کی ممبر یاسمین رحمن، مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار مہتاب خان عباسی، سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال سمیت ثمینہ مشتاق، ڈاکٹر دونیہ عزیز، منور لال، عبدالقادر خان زادہ، اعجاز ورک اور صائمہ اختر بھروانہ شامل ہیں 7 افراد نے 4,0001 سے 50000 روپے تک جو کہ وزیر مملکت برائے ریلوے افضل سندھو، نسیم اختر چوہدری، سردار شاہ جہاں یوسف، ڈاکٹرا یوب شیخ، محمد فیض ٹمن، جاوید لطیف، حنیف عباسی اور سعید اقبال ہیں۔جن 6 ارکان نے 50,001 سے 60000 روپے تک ٹیکس ادا کیا ان میں چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے انسانی حقوق ریاض فتیانہ، فرزانہ مشتاق اور کنیز فضہ جونیجو شامل ہیں چار ارکان نے 60,001 سے 70,000 روپے تک ٹیکس دیا ان میں سردار ایاز صادق، جاویدا نور چوہدری، بیگم عشرت اشرف اور غلام دستگیر کے نام ہیں خوش بخت شجاعت 70,000 سے 80,000 روپے تک ٹیکس دا کرنے والی واحد رکن ہیں تین ارکان نے 80,001 سے 90,000 روپے تک ٹیکس ادا کیا ان میں وزیر مملکت برائے داخلہ تسنیم قریشی، ق لیگ کی سمیرا ملک اور ایم کیو ایم کے وسیم اختر شامل ہیں۔ق لیگ کے پارلیمانی لیڈر چوہدری پرویزالٰہی اور سعود مجید 90,001 سے ایک لاکھ تک ٹیکس دینے والوں میں شامل ہیں۔ 17 ارکان نے ایک لاکھ ایک روپے سے دو لاکھ روپے تک ٹیکس ادا کیا ان میں صدر زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، آفتاب شیرپاﺅ، ایرا کے چیئرمین حامد یار ہراج، معروف کالم نگار ایاز امیر اور سابق وزیر قانون زاہد حامد، سابق چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ انور علی چیمہ، کشور زہرہ، خانزادہ خان، غلام بی بی بھروانہ، جعفر لغاری، اسرار تین، بیگم شہناز شیخ، غوث بخش مہر، شیخ آفتاب احمد ، عبدالمجید خان اور ابراہیم جتوئی شامل ہیں دو لاکھ ایک روپے سے تین لاکھ روپے تک ٹیکس ادا کرنے والے چھ ارکان میں ق لیگ کے رہنما فیصل صالح حیات، وزیر مملکت نبیل گبول، سابق وزیر اطلاعات شیری رحمن، بشریٰ گوہر، رشید اکبر خان اور عاصم نذیر کے نام ہیں۔ غلام مصطفی شاہ، انوشہ رحمن اور انجم عقیل تین لاکھ ایک روپے سے پانچ لاکھ روپے تک ٹیکس دینے والے ارکان شامل ہیں سات ارکان نے پانچ لاکھ ایک روپے سے دس لاکھ روپے تک ٹیکس دیا ان میں شاہد خاقان عباسی، سردار سلیم حیدر خان، حمزہ شہباز ، عطیہ عنایت اللہ، وقاص اکرم شیخ، ہمایوں سیف اللہ اور وزیر دفاع احمد مختار شامل ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,486
شکریہ: 1,537
2,973 مراسلہ میں 8,226 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|