واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


صفحہ اول پر” پاکستان سے محبت کرو“ کا اشتہار شائع کیا، ایم ڈی بھارتی اخبار

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-03-11, 05:29 AM   #1
صفحہ اول پر” پاکستان سے محبت کرو“ کا اشتہار شائع کیا، ایم ڈی بھارتی اخبار
گلاب خان گلاب خان آن لائن ہے 10-03-11, 05:29 AM

اشتہار چھپنے کے بعد بچوں نے پوچھا میری نوکری باقی ہے یا نہیں،روی دھری وال، سیمینار سے خطاب
کراچی (نمائندہ جنگ) ٹائمز آف انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر اور انٹرنیشنل نیوز پیپرز مارکیٹنگ ایسوسی ایشن کے صدر روی دھری وال نے کہا ہے کہ ٹائمز آف انڈیا ایک بڑا برانڈ اس لیے بنا کہ اس کا ایجنڈا قارئین ہیں، ہم نے قارئین کی ضرورت کو مدنظر رکھا، ”امن کی آشا“ کی مہم چلاکر ہم خوش ہیں، اس مہم پر قارئین نے مثبت ردعمل ظاہر کیا اور اس مہم سے قارئین کے ساتھ ہمارا رشتہ گہرا ہوا، اخبار کے صفحہ اول پر ”پاکستان سے محبت کرو“ کا اشتہار شائع کیا، اشتہار چھپنے کے بعد بچوں نے پوچھا میری نوکری باقی ہے یا نہیں، وہ منگل کو مقامی ہوٹل میں ”جنگ“ گروپ کی جانب سے ”ٹائمز آف انڈیا ایک برانڈ کیسے بنا“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کررہے تھے، یہ تقریب ”امن کی آشا“ کے تحت ہونے والے دوسرے اسٹرٹیجک سیمینار کا حصہ تھی، جنگ کے گروپ منیجنگ ڈائریکٹر شاہ رُخ حسن نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے صدر حمید ہارون نے اختتامی کلمات ادا کیے، حبیب بینک کے علی مستنصر نے پرنٹ میڈیا کے مستقبل کے حوالے سے بعض مکانات پر بات کی، اس تقریب میں مختلف اخبارات کے ادارتی اور مارکیٹنگ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہم افراد اور ایڈورٹائزنگ ایجنسیز کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، روی دھری وال نے ٹائمز آف انڈیا کے ایک بڑے اور کامیاب اخبار بننے کی کہانی انتہائی متاثر کن پریذٹیشن میں بیان کی اور بتایا کہ یہ 173سال پرانا اخبار ہے، اس کی پہلی اشاعت 1838ءمیں سامنے آئی تھی اس وقت اس کی 44لاکھ کاپیاں شائع ہوتی ہیں اور بھارت کے 16شہروں سے یہ اخبار بیک وقت نکلتا ہے جبکہ اس کے 6وائر ایڈیشن ہیں یہ بھارت کا سب سے بڑا اور دُنیا کا دوسرا بڑا اخبار ہے، اُنہوں نے کہا کہ بھارت کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، ملک میں خواندگی کی شرح 61 فی صد ہے جبکہ اخبارات کی رسائی 40 فی صد خواندہ آبادی تک ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اخبارات کی سرکولیشن میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، ہمیں قارئین اور ایڈورٹائزرز کی معاونت حاصل رہی ہے، اُنہوں نے کہا کہ جب میں نے ٹائمز آف انڈیا گروپ میں شمولیت اختیار کی تو اخبار کے مالک نے مجھے ایک بات کہی کہ ”ہمارے اخبار کو لوگ ایک برانڈ تصور کریں“ اور آج یہ سب سے بڑا برانڈ ہے اُنہوں نے کہا کہ ہمارا مطمع نظر یہ تھا کہ کیسے ایک قوم کی تعمیر کی جائے، ہمارا فوکس مڈل کلاس تھی اور ہے ہم نے اخبار کی قیمت بھی مناسب رکھی، بھارت میں میک برگر کی قیمت 25 روپے ہے اور ٹائمز آف انڈیا کی قیمت ڈھائی روپے ہے یعنی ایک میک برگر کی قیمت کا دسواں حصہ اخبار کی قیمت ہے، اُنہوں نے بتایا کہ 1988-93ءکے درمیان اخبار کی قیمت دو روپے تھی جو اُس وقت کے حساب سے زیادہ تصور کی جارہی تھی جس کی وجہ سے سرکولیشن کم ہوگئی ہم نے اخبار کی قیمت نصف کردی جس سے سرکولیشن بڑھی، سرکولیشن میں اضافے سے اشتہارات میں اضافہ ہوا جس کی قیمت کی کمی کا نہ صرف ازالہ ہوگیا بلکہ منافع کا تناسب بھی بڑھا، اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اخبار کا حجم بھی مناسب رکھا، امریکا اور یورپ میں اخبارات کا حجم زیادہ ہوتا ہے، نیویارک ٹائمز کے سو سے زیادہ صفحات ہوتے ہیں اور اُس کی قیمت ڈیڑھ ڈالر ہوتی ہے، قاری اخبار کا دسواں حصہ بھی نہیں پڑھ سکتا لیکن وہ پورے اخبار کے ڈیڑھ ڈالر ادا کرتا ہے، ٹائمز آف انڈیا کے 32صفحات کی ڈھائی روپے قیمت رکھی گئی ہے، اُنہوں نے کہا کہ قاری کی سوچ ہماری سوچ ہے، ہم نے قاری کو مدنظر رکھا ہے، اخبار کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں ہے، ہمارا ایجنڈا صرف قارئین ہیں اُنہوں نے کہا کہ اخبارات کوئی فیصلہ (ججمنٹ) نہیں دیتے، یہ حقائق بیان کرتے ہیں اور اپنی آرا ¿ دیتے ہیں ہم اگر کسی ایک کا نقطہ ¿ نظر شائع کرتے ہیں تو اُس کے مخالف نقطہ ¿ نظر کو بھی جگہ دیتے ہیں، روی دھری وال نے کہا کہ ہم چیزوں کو مثبت انداز میں پیش کرتے ہیں، سونامی کے باعث ہونے والی تباہی میں بھی ہم نے ایسی اسٹوریز تلاش کیں جن سے مثبت سوچ کی عکاسی ہوتی تھی، ہم نے آبادی میں تشویش ناک اضافے کی خبر اس سُرخی کے ساتھ شائع کی کہ ”خدا کا شکر ہم آبادی کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے“ ہم اُمید افزا پہلو اُجاگر کرتے ہیں اور مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں، اُنہوں نے کہا کہ ہم اپنے قاری کے ساتھ تعلقات کا بھی جائزہ لیتے رہتے ہیں اس ضمن میں مختلف شعبوں کی ممتاز شخصیات کو بلاکر ایڈیٹرز کے ساتھ اُن کی طویل میٹنگ کراتے ہیں ہر سال کسی شہر میں اخبار کے زیراہتمام کوئی پروگرام منعقد کرتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ لوگ اخبار کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں، لائیو پروگرامز میں لوگوں کو شریک کرتے ہیں، اُنہوں نے کہا کہ بھارت میں قیادت کا نہ صرف فقدان پیدا ہورہا ہے بلکہ یہ قیادت زوال پذیر ہورہی ہے، اخبارات کو اس صورت حال سے نمٹنے کی ضرورت ہے، ہم لیڈر پیدا کررہے ہیں، ایک دن ایسا آئے گا، جب ہم بھارت کا وزیراعظم پیدا کریں گے، یہ لیڈرشپ (قیادت) ہمارے قارئین کی بہتر تربیت سے پیدا ہوگی اور لوگ محسوس کریں گے کہ کیسا لیڈر ہونا چاہیے، ایک دن ہم ارکان پارلیمنٹ اور اُن کے حلقوں کی ریٹنگ بھی کریں گے، اُنہوں نے کہا کہ بھارت کا ایک مسئلہ خواندگی ہے اس وقت بھارت میں شرح خواندگی 61 فی صد ہے لیکن اب بھی ہم دُنیا سے بہت پیچھے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کی آبادی کے تناسب سے ہمارے اخبار کی سرکولیشن کم ہے اگر خواندگی میں اضافہ ہو تو لوگ زیادہ اخبار پڑھنے کے قابل ہوں گے، اس لیے ٹائمز آف انڈیا نے خواندگی کا ایک پروگرام شروع کیا ہے، اخبار کا معیار بہتر بنانے اور اُسے برقرار رکھنے کے حوالے سے روی دھری وال نے کہا کہ ہم بہترین لکھنے والوں کی تحریریں حاصل کرتے ہیں اس کے علاوہ قارئین کی دلچسپی کے الگ ایڈیشن اخبار کے ساتھ ہفتہ بھر دیتے ہیں، ان ایڈیشنز کی قیمت اخبار کی قیمت کے علاوہ ہوتی ہے، ٹائمز آف انڈیا گروپ کے اپنے ٹی وی چینلز، ریڈیو سٹیشن دیگر زبانوں میں اخبارات، آن لائن ایڈیشنز بھی ہیں لیکن ان تمام کا مقصد یہ ہے کہ ٹائمز آف انڈیا کو سپورٹ اور مضبوط کیا جائے، اُنہوں نے کہا کہ ہم ایک کمرشل ادارہ ہیں اور ہمارا مقصد پیسہ بنانا ہے، ہماری 1900 افراد پر مشتمل سیل ٹیم ہے جو انڈیا میں سب سے بڑی ٹیم ہے، ہم اشتہارات میں آئیڈیاز پر کام کرتے ہیں، کسی برانڈ کو جامہ نہیں بلکہ اختراعی ہونا چاہیے، یہ برانڈ چاہے ایڈیٹوریل ہو یا نیوز ہو یا کوئی اور، ہم نے ایک دن اخبار کے ہر صفحہ پر فوکس ویگن کے اشتہار دیے، بعض صفحات کو درمیان میں کاٹ کر کار بنائی گئی، ہم بعض کلائنٹس کو پیشکش کرتے ہیں کہ وہ اشتہارات کے لیے نقد رقم نہ دیں بلکہ ہم اُن کی تین سال کے لیے مہم چلائیں گے، جیسے جیسے اُن کا کاروبار بڑھتا جائے، وہ ہمیں ایکوئٹی میں ادائیگی کرتے جائیں اُنہوں نے کہا کہ بھارت ایک سرکس کی مانند ہے، ہم مسکراہٹ ، اُمید اور فن دیتے ہیں، ہم لوگوں کو بتاتے ہیں کہ زیادہ سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں اُنہوں نے سوشل میڈیا کی ضرورت کو بھی تسلیم کیا اور کہا کہ پرنٹ میڈیا کو اچھی ساکھ کا حامل، قابل اعتماد اور لوگوں سے جڑا ہوا ہونا چاہیے، اُنہوں نے کہا کہ اخبار میں زیادہ اشتہارات کا ہونا قارئین کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے، قارئین اشتہارات کو پسند کرتے ہیں، ہم ایڈیٹر کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے، یہ ایڈیٹرز کا ادارہ ہے جو ہر چیز کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، اُنہوں نے کہا کہ ٹائمز آف انڈیا نے ”امن کی آشا“ مہم شرو ع کرنے کا جو فیصلہ کیا، وہ بہت مشکل فیصلہ تھا، ہم نے اخبار کے صفحہ اول پر ”پاکستان سے محبت کرو“ کا اشتہار شائع کیا تو اُس سے پہلے ممبئی کا واقعہ رونما ہوچکا تھا ہم کوئی اور بات کررہے تھے اور پورا انڈیا کچھ اور سوچ رہا تھا، اشتہار شائع ہونے کے بعد میرے بچوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میری نوکری باقی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ایک فیصلہ لے لیا تھا اس مہم کے مثبت نتائج نکلے اس مہم کی وجہ سے قارئین کے ساتھ ہمارا رشتہ گہرا ہو گیا، ہم نے جو کچھ بھی کہا، اس پر ہم خوش ہیں۔
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,486
شکریہ: 1,537
2,973 مراسلہ میں 8,226 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 188
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-03-11), ارشد کمبوہ (10-03-11), عبدالقدوس (10-03-11)
پرانا 10-03-11, 07:38 AM   #2
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,792
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,297 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
کیا اس خبر کا کوئی لنک مل سکتا ہے۔
شکریہ
ارشد کمبوہ آف لائن ہے   Reply With Quote
ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (10-03-11)
پرانا 11-03-11, 04:00 AM   #3
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,486
کمائي: 94,121
شکریہ: 1,537
2,973 مراسلہ میں 8,226 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ارشد کمبوہ مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
کیا اس خبر کا کوئی لنک مل سکتا ہے۔
شکریہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ
بھائی جنگ ویب سائٹ کا لنک حاضر ہے

صفحہ اول پر” پاکستان سے محبت کرو“ کا اشتہار شائع کیا، ایم ڈی بھارتی اخبار
گلاب خان آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, فن, کراچی, پاکستان, پسند, وزیراعظم, لوگ, نیوز, نوکری, محبت, آبادی, آج, بہترین, بچوں, تلاش, حال, حسن, خوش, خبر, سال, علی, صفحہ, صفحات, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
برطانوی فوج نشانہ بازی کی مشق مساجد پر کرتی ہے حیدر خبریں 6 12-04-10 05:53 PM
اموی دور میں ثقافتی ، سماجی و معاشرتی زندگی طارق راحیل سیاست 0 02-01-09 09:42 PM
جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو ابن جلال خبریں 0 11-10-08 11:03 PM
افغانستان میں بھارتی افواج کی تعیناتی شروع، آئندہ 4 ماہ پاکستان کیلئے خطرناک champion_pakistani خبریں 4 18-09-08 10:08 AM
تنگ پگڈنڈی ۔۔۔۔۔ سرِ کُہسار بل کھاتی ہوئی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 0 01-07-08 05:00 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:22 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger