|
صوبوں سے امن وامان کی رپورٹ طلب،انتخابات سے متعلق حتمی فیصلہ آج ہوگا،الیکشن کمیشن

01-01-08, 10:18 AM
صوبوں سے امن وامان کی رپورٹ طلب،انتخابات سے متعلق حتمی فیصلہ آج ہوگا،الیکشن کمیشن
اسلام آباد، کراچی (نمائندہ جنگ، اسٹاف رپورٹر) عام انتخابات کے بارے میں حتمی فیصلہ آج منگل کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 8 جنوری کو انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے چاروں صوبوں میں الیکشن کمیشن کے دفاتر اور صوبائی حکومتوں سے نقصانات اور امن و امان سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت سندھ نے الیکشن کمیشن کو سفارش کی ہے کہ حملے جاری ہیں اور حالات ابھی تک خراب ہیں، حالات پرقابو پانے کیلئے تین سے چار ہفتے کا وقت لگے گا، الیکشن کمیشن کے دفاتر اور ریکارڈ جلادیئے گئے ہیں لہٰذا انتخابات ڈھائی تین ماہ کیلئے ملتوی کئے جائیں۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کا اجلاس پیر کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق کی صدارت میں ہوا جس میں ممبر الیکشن کمیشن جسٹس احمد خان لاشاری اور جسٹس نسیم سکندر نے شرکت کی۔ اجلاس میں موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا اور اس ضمن میں کوئی فیصلہ کرنے کیلئے صوبائی چیف سیکرٹریز سے پیر (31 دسمبر) کی شام چھ بجے تک رپورٹ طلب کی گئی۔ اجلاس میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی المناک موت پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے مرحومہ کی مغفرت اور سوگوارخاندان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی گئی۔ اس موقع پر چاروں صوبوں میں امن وامان کی صورتحال‘ صوبہ سندھ کے بعض اضلاع میں الیکشن کمیشن کے دفاتر‘ ریکارڈ‘ بیلٹ پیپرز اور بیلٹ بکس نذر آتش کئے جانے کے بارے میں غور کیا گیا۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں ابھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ان حالات میں انتخابات کا انعقاد ممکن ہے یا انہیں ملتوی کردیاجاناچاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبائی الیکشن کمیشنز اور چیف سیکرٹریزسے نقصانات‘ امن و امان کی صورتحال اور موجودہ حالات کے حوالے سے رپورٹس طلب کی ہیں جن کا جائزہ لینے کے بعد ہی انتخابات کے متعلق فیصلہ کیا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ کرنے سے قبل بہت سے امور پر غور کیا جارہا ہے۔ ہمیں انتخابات کے انعقاد یا التواء کے متعلق تمام امکانات کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ سندھ کے گیارہ اضلاع میں ہنگاموں اور تشدد کے واقعات میں الیکشن کمیشن کے دفاتر جلادیئے گئے تھے جس کی وجہ سے وہاں بیلٹ بکس‘ انتخابی فہرستوں سمیت تمام ریکارڈ جل گیا تھا اس کے علاوہ سرحد کے بعض اضلاع میں دہشت گردوں اور شرپسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے بعض حلقوں میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے جس پر الیکشن کمیشن نے پیر کو اپنے اجلاس میں ان تمام پہلوؤں پر غور کیا۔ الیکشن کمیشن آج اپنے اجلاس میں انتخابات کی نئی تاریخ کا اعلان کرے گا۔ ذرائع کے مطابق انتخابات چند ہفتوں کے لئے ملتوی کئے جانے کا امکان ہے۔ کراچی سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر واضح کردیا ہے کہ سندھ کے حالات عام انتخابات کے لئے موزوں نہیں ہیں۔ لہٰذا انتخابات ڈھائی تین ماہ کے لئے ملتوی کئے جائیں۔ سندھ حکومت کے انتہائی معتبر ذرائع نے ”جنگ“ کو بتایا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سندھ سمیت چاروں صوبوں کی حکومتوں سے پیر کو تحریری طور پر یہ رائے طلب کی تھی کہ عام انتخابات 8 جنوری 2008ء کو منعقد ہونے چاہئیں یا نہیں۔ ذرائع کے مطابق پیر کی شب ہی سندھ حکومت نے صوبے کی تمام اعلیٰ شخصیات سے مشاورت کے بعد اپنی رائے سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت سندھ نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ صوبے کے حالات بہت خراب ہیں اور فوج کی مدد کے بغیر حالات پر قابو پانا انتہائی مشکل ہورہا ہے۔ صوبے میں 35 سے زائد ریلوے اسٹیشنوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔ مختلف جگہوں سے ریلوے کی پٹڑیاں اکھاڑ دی گئی ہیں۔ صوبے بھر میں 40 کے قریب پولیس تھانوں پر حملے ہوئے ہیں اور حملوں کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ اکثر مقامات پر ٹیلیفون ایکسچینجز کو تباہ کردیا گیا ہے۔ بیشتر شاہراہوں پر ٹریفک بحال نہیں ہو سکا ہے۔ ڈی سی اوز اور دیگر انتظامی افسروں کے دفاتر جلا دئیے گئے ہیں۔ 8 سے 10 اضلاع میں الیکشن کمیشن کے دفاتر بھی تباہ کردئیے گئے۔ بیلٹ پیپرز اور بیلٹ بکس جلا دئیے گئے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ووٹرز خوفزدہ ہیں۔ وہ 8 جنوری کو انتخابات ہونے کی صورت میں باہر نہیں نکلیں گے۔ ذرائع کے مطابق حکومت سندھ نے یہ بھی موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت سندھ کو حالات پر قابو پانے کیلئے دو سے تین ہفتے درکار ہوں گے۔ اسی دوران محرم الحرام کا آغاز بھی ہو جائے گا۔ لہٰذا انتخابات کے پرامن انعقاد کیلئے ضروری ہے کہ انتخابات اس وقت تک ملتوی کئے جائیں‘ جب حالات معمول پر نہیں آجاتے۔ حکومت سندھ نے تجویز دی ہے کہ ڈھائی سے 3 ماہ کے لئے انتخابات کا التواء ہونا چاہیے۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|