|
صورتحال بہتر ہوتے ہی ایمرجنسی اٹھالی جائے گی،اسمبلیوں کی مدت میں توسیع مشاورت سے ہوگی،شوکت عزیز

05-11-07, 07:48 AM
وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ غیرمعمولی حالات میں غیرمعمولی اقدامات اور ایمرجنسی کا نفاذ ضروری تھا۔صورتحال بہتر ہوتے ہی ایمرجنسی اٹھالی جائے گی، اسمبلیوں کی مدت میں توسیع سے مشاورت ہوگی،اسمبلی کی مدت میں ایک سال توسیع ہو سکتی ہے، ایمرجنسی کی آئین میں گنجائش موجود ہے۔ملک میں ایمرجنسی کے باوجود میڈیا آزاد ہے۔ اس کانفاذضروری تھا، اس پر کوئی بڑا ردعمل ہوا نہ فوج کو کہیں استعمال کیا، اس اقدام سے حکومتی عملداری بحال ہوگی،پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج فارغ ہوگئے ہیں، صدر کے دو عہدوں کا کیس عدالت میں ہے وہی فیصلہ کریگی، بین الاقوامی برادری نے حسب توقع ردعمل ظاہر کیا، انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں حکومت، عدلیہ انتظامیہ اور مقنّنہ کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ ملے گا اور انتہا پسندی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ وہ اتوار کو ملک میں پی سی او اور ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس میں غیرملکی میڈیا کے نمائندوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات محمد علی درانی وزیر مملکت اطلاعات طارق عظیم اورسیکرٹری اطلاعات سید انور محمود بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایمرجنسی کے اعلان کے باوجود ملک میں کہیں بھی فوج استعمال نہیں کی گئی۔ آئندہ چند روز میں عام انتخابات کے بارے میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ میڈیا ضابطہ اخلاق کی پابندی کرتے ہوئے اپنا کام کرے۔ ذرائع ابلاغ کیلئے پیرا میٹرز طے کرنا حکومت کا کام ہے۔ حکومت صحافت کی آزادی اور فروغ کیلئے کوشاں ہے۔ پریس آرڈیننس میں ترامیم کے باوجود اخبارات اب بھی اپنی مرضی سے خبریں شائع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی ٹی وی چینلز کی بندش کے معاملے پر حکومت اور براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن اور دیگر متعلقہ تنظیموں کے درمیان دو روز کے اندر بات چیت شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ضرورت ہو گی ایمرجنسی برقرار رہے گی۔ موجودہ ایمرجنسی کے حوالے سے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے بھی فوری اقدام پر زور تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک بھر میں چار سے پانچ سو افراد گرفتار کئے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں 45 افراد کی گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں سیکورٹی کے جو چینلجز درپیش ہیں پاکستان اس سے بخوبی آگاہ ہے اور پاکستان خطے میں امن اور سلامتی کا ماحول چاہتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے بعض علاقوں میں انتظامیہ مفلوج ہو کر رہ گئی تھی اور سرحد کے کچھ علاقوں میں انتہا پسندی اور شدت پسندی کی وجہ سے حکومت کی رٹ کمزور ہو گئی تھی۔ آرمی چیف کے عبوری حکم سے حکومت کی عملداری بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر معمولی اقدامات کے باوجود وزیراعظم وفاقی کابینہ گورنر صوبائی وزرائے اعلیٰ اور حکومت کے دوسرے عہدیدار اپنا کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اظہار رائے کی آزادی کو ذمہ داری سے ادا کرنا چاہئے۔ پچاس سے زائد ٹی وی چینلز کام کر رہے ہیں۔ جہاں تک نجی چینلز کی نشریات بند کرنے کا تعلق ہے پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن اور دیگر تنظیموں کے ساتھ دو دن کے اندر بات چیت ہو گی۔ ذرائع ابلاغ کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا گیا ہے اس کی پابندی کریں۔
بشکریہ
جنگ
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|