سعیداللہ گوندل اورخالدبشیر پیشی کے بعد کمرہ عدالت سے نکل کراپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر چلے گئے‘ تفتیشی افسرمنہ دیکھتارہ گیا
آرپی اونے واقعے کانوٹس لیتے ہوئے لاپرواہی پرایس ایچ اوتھانہ صدربیرونی‘ اے ایس آئی اور 2 کانسٹیبلوں کومعطل کردیا
راولپنڈی(اپنے رپورٹرسے‘ سٹاف رپورٹر) لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس اعجازاحمدنے 11 لاپتہ افرادکے مقدمہ میں اڈیالہ جیل کے سابق سپرنٹنڈنٹ سعید اللہ گوندل اورڈپٹی سپرنٹنڈنٹ خالد بشیرکی ضمانتیں خارج کردیں جس کے بعدکمرہ عدالت سے نکل کردونوں ملزمان اپنی گاڑیوں میںبیٹھ کر فرار ہو گئے۔ مقدمہ کا تفتیشی منہ دیکھتارہ گیا۔ تھانہ صدربیرونی کے مقدمہ میں سعید اللہ گوندل اورڈپٹی سپرنٹنڈنٹ خالدبشیر نے ماتحت عدالت سے ضمانتیں کرالی تھیں جس کیخلاف ایک لاپتہ شخص شفیق الرحمان کے بھائی عتیق الرحمن نے محمدالیاس چوہدری ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے ذریعے لاہورہائی کورٹ راولپنڈی میں منسوخی ضمانتوں کےلئے درخواست دائرکررکھی تھی۔ بدھ کوعدالت عالیہ نے فریقین کے وکلاءکے تفصیلی دلائل کے بعد درخواست منظورکرتے ہوئے ضمانتیں خارج کردیں۔ بعدازاں سعیداللہ گوندل اور خالد بشیرکمرہ عدالت سے نکل کر پارکنگ میں آئے اوراپنی گاڑیوں میں بیٹھ رہے تھے کہ مقدمہ کے تفتیشی نے آگے ہونے کی کوشش کی تودونوں سابق افسران نے اس کونظراندازکیا اور اپنی گاڑیوں میں چلے گئے۔ درخواست گزار عتیق الرحمان نے تفتیشی افسر سے استفسارکی کہ ملزمان کو پکڑا کیوں نہیں تو اس نے کہا کہ ان کے ہمراہ پولیس اہلکارہیں۔ ملزمان کے جانے کے بعد تفتیشی افسر بھی چلاگیا۔ ادھرآرپی اونے عدالت عالیہ سے ضمانت منسوخی کے بعد سپرنٹنڈنٹ اورڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے فرار ہونے کے واقعہ کانوٹس لیتے ہوئے غفلت اورلاپرواہی برتنے پرایس ایچ اوتھانہ صدربیرونی‘ ایک اے ایس آئی اور دوکانسٹیبلوں کوفوری طورپرمعطل کردیا۔ آرپی اوراولپنڈی ڈی آئی جی حامد مختارگوندل نے واقعہ کاسخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ اوتھانہ صدر بیرونی طاہرمحمود‘ اے ایس آئی محمدشیراز‘ کانسٹیبلراکرم اورعدنان کومعطل کرکے لائن تبدیل کردیا ہے۔ آرپی اونے ایس پی صدرڈویژن ملک سکندرحیات کو انکوائری افسرمقررکردیا ہے جبکہ ملزمان کی جلداز جلد گرفتاری کےلئے ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی