واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


ضیاالحق نے جنرل چشتی سے کہا ‘مرشد مروا نہ دینا’

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-05-11, 10:18 PM   #1
ضیاالحق نے جنرل چشتی سے کہا ‘مرشد مروا نہ دینا’
گلاب خان گلاب خان آن لائن ہے 20-05-11, 10:18 PM

محمد حنیف

انیس سو ستتر میں چار اور پانچ جولائی کی درمیانی رات تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت الٹنے کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ آپریشن کا نام طے ہوچکا تھا، آپریشن فیئر پلے۔

آپریشن شروع ہونے سے چند لمحے پہلے فوج کے سربراہ جنرل ضیاءالحق اپنے دستِ راست اور راولپنڈی کے کور کمانڈر لیفٹینٹ جنرل فیض علی چشتی سے ملے۔ آپریشن کی جُزیات ایک بار پھر دہرائی گئیں اور جب فیض علی چشتی مشن پر روانہ ہونے لگے تو مستقبل کے مردِ مومن نے چشتی کے کان میں کہا ‘مرشد مروا نہ دینا’۔

یہ جنرل ضیاءالحق کا انداز دِلرُبائی تھا۔ وہ اپنے جونیئر کی انا کو ایسے سہلاتے کہ وہ اپنے آپ کو سینیئر محسوس کرنے لگتا اور وہ اپنے سینیئر کے قدموں سے ایسے لپٹتے کہ اسے اپنے اوپر خدا کا روپ اترتے ہوئے محسوس ہوتا۔

شاید جنرل ضیاء اندر سے ڈرپوک تھے ورنہ ڈرنے کی کوئی خاص بات نہیں تھی۔ جنرل فیض علی چشتی کی مونچھوں اور توپوں کے سامنے کون سی جمہوری حکومت ٹھہرسکتی تھی۔ چشتی نے نہ کسی کو مارا نہ کسی کو مروایا۔ پانچ جولائی کی صبح سحر خیزوں کو یہ مژدہ مِلا کہ ایک اور وردی پوش مسیحا نازل ہوچکا ہے۔

پانچ جولائی کی رات کو تو کوئی نہیں مرا لیکن آئندہ گیارہ برسوں میں بہت سے لوگ مارے گئے۔ پھانسی گھاٹوں پر، ٹھوڑی پھاٹک پر ، بوہری بازار میں، اوجھڑی کیمپ میں، طالبِ علم، مزدور، سیاسی کارکن اور کئی جوگھر سے بازار صرف دودھ خریدنے آئے تھےاور سینکڑوں ایسے تھے جو فوج کے عقوبت خانوں میں سالہاسال موت کی دعا مانگتے رہے۔

جنرل ضیاء جب تک حیات رہے، ہمسایہ ملک افغانستان کے بارے میں ان کی ایک ہی پالیسی تھی کہ افغانستان کی ہانڈی ابلتی رہے، ابل کر باہر نہ گرے ، لیکن یہ ضروری ہے کہ ہانڈی ابلتی رہے۔ افغانستان کی ہانڈی ابالتے ابالتے انہیں اپنے گھر میں لگنے والی آگ کی خبر نہ رہی۔ ان کے بعد آنے والوں نے اس ہانڈی کو ابالنے کے لیے اتنا ایندھن جھونکا کہ پاکستان میں لاکھوں چولھے ٹھنڈے ہوگئے۔ملک کی جان اس وقت چھوٹی جب مردِ مومن و مردِ حق اپنے ساتھ ایک درجن سے زائد جرنیلوں سمیت ایک فضائی حاثے میں ہلاک ہوئے۔ اناللہِ واِناعلیہِ راجعون۔

جنرل ضیاء کے انتقال کے تیئیس سال بعد پاکستانی قوم میں بڑا تفرقہ ہے۔ ‘بےغیرت گروپ’ ‘غیرت بریگیڈ’ سے نبرد آزما ہے۔ بلوچ بندوقیں اٹھائے پہاڑوں پر جا بیٹھے ہیں۔ سندھی کہتے ہیں کہ ایک بار پھر زیادتی کرو توہم تمہیں بتاتے ہیں۔ ملک کے طول و عرض پر پھیلے سینکڑوں لشکر ‘نصرمن اللہِ و الفتح قریب’ کی بشارت دیتے ہیں۔

امریکا کی عمر رسیدہ رکھیلیں طلاق کی بھی دعوے دار ہیں اور اس بات سے بھی انکاری ہیں کہ کبھی نکاح ہوا تھا۔ نسل در نسل امریکی مفادات کی دلاّلی کرنے والے اس بات پر گھتم گھتا ہیں کہ کمیشن کم کر دیا جائے یا پرانی تنخواہ پر کام کیا جائے۔ اور تو اور آئی ایس آئی چلانے والے اللہ کے پراسرار بندے بھی پارلیمنٹ کے دروازے بند کر کے کہتے ہیں کہ ’پتہ نہیں ہم کیا کرتے پھر رہے ہیں‘۔ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔

لیکن مذ کورہ بالاگروہوں میں ایک بات پراتفاق ہے کہ جنرل ضیا اور ان کا گیارہ سالہ دور حکومتِ پاکستان کے لیے تباہ کُن ثابت ہوا۔ جو زہریلے بیج اس دور میں بوئے گئے تھے وہ تن آور درخت بن چکے ہیں۔

جنرل ضیاءالحق کا کوئی لے پالک سیاستدان، فوج کا کوئی ریٹائرڈ یا حاضر سروس جنرل شاہ فیصل مسجد کے صحن میں اس کے مزار پر سینہ ٹھونک کر نہیں کہتا کہ وہ ضیاءالحق کے مشن کی تکمیل کرےگا۔ ضیاء دور کے درس پڑھ کر بڑے ہونے والے ٹی وی اینکرز بھی یہ نہیں کہتے پائےجاتے کہ کاش اگر جنرل ضیاء حیات ہوتےتو ہم یوں راندہءِ درگاہ نہ ہوتے۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سب کے سب مرحوم کے مشن کی تکمیل کے لیے جان ہتھیلی پر رکھے رواں دواں ہیں۔

جنرل ضیاء جب تک حیات رہے، ہمسایہ ملک افغانستان کے بارے میں ان کی ایک ہی پالیسی تھی کہ افغانستان کی ہانڈی ابلتی رہے، ابل کر باہر نہ گرے، لیکن یہ ضروری ہے کہ ہانڈی ابلتی رہے۔

افغانستان کی ہانڈی ابالتے ابالتے انہیں اپنے گھر میں لگنے والی آگ کی خبر نہ رہی۔ ان کے بعد آنے والوں نے اس ہانڈی کو ابالنے کے لیے اتنا ایندھن جھونکا کہ پاکستان میں لاکھوں چولھے ٹھنڈے ہوگئے۔

پارلیمنٹ کے بند دروازوں کے پیچھے ہمارے سیاسی اور فوجی سپہ سالاروں میں جو مکالمہ ہوا اس میں ہر ایک کی طبع کے مطابق گیڈر بھبھکیاں بھی ہیں اور سینہ کوبی کا سامان بھی ہے۔ اگر کسی بات کا ذکر نہیں ہے تو یہ نہیں ہے کہ تیس سال پہلے جو ہم نے اپنے ہمسائے میں آگ لگا کر ہاتھ تاپنے کی قومی سلامتی پالیسی بنائی تھی اس پر بھی ایک نظر ڈالیں یا نہیں۔

کیا کبھی کسی فوجی جنرل یا مدبر سیاستدان نے اس بات پرغور کیا ہے کہ ہمارے افغان بھائی کمیونسٹوں سے لے کر طالبان تک ہم سے اتنے متنفر کیوں ہیں؟

فوجی قیادت اور پارلیمان کے درمیان مکالمہ نہ جانے بارہ گھنٹے کیوں جاری رہا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ دروازے بند کرتے، گھٹنوں کے بَل گرجاتے اور گِڑگِڑا کرکہتے ‘مرشد مروا نہ دینا’۔
‭BBC Urdu‬ - ‮پاکستان‬ - ‮ضیاالحق نے جنرل چشتی سے کہا ’مرشد مروا نہ دینا‘‬
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,490
شکریہ: 1,545
2,973 مراسلہ میں 8,226 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 151
Reply With Quote
پرانا 20-05-11, 10:20 PM   #2
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,584
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اینٹی ضیاء اور اینٹی فوج تحریر ہے۔ اور کیا کہیں اس بارے میں۔
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (25-05-11), راجہ اکرام (25-05-11)
پرانا 20-05-11, 10:25 PM   #3
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,490
کمائي: 94,123
شکریہ: 1,545
2,973 مراسلہ میں 8,226 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ
کیا اس تحریر میں بہت ساری باتوں کو جھٹلایا جاسکتا ہے؟؟؟
گلاب خان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-05-11, 10:30 PM   #4
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,584
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : گلاب خان مراسلہ دیکھیں
محمد حنیف

انیس سو ستتر میں چار اور پانچ جولائی کی درمیانی رات تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت الٹنے کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ آپریشن کا نام طے ہوچکا تھا، آپریشن فیئر پلے۔

آپریشن شروع ہونے سے چند لمحے پہلے فوج کے سربراہ جنرل ضیاءالحق اپنے دستِ راست اور راولپنڈی کے کور کمانڈر لیفٹینٹ جنرل فیض علی چشتی سے ملے۔ آپریشن کی جُزیات ایک بار پھر دہرائی گئیں اور جب فیض علی چشتی مشن پر روانہ ہونے لگے تو مستقبل کے مردِ مومن نے چشتی کے کان میں کہا ‘مرشد مروا نہ دینا’۔

یہ جنرل ضیاءالحق کا انداز دِلرُبائی تھا۔ وہ اپنے جونیئر کی انا کو ایسے سہلاتے کہ وہ اپنے آپ کو سینیئر محسوس کرنے لگتا اور وہ اپنے سینیئر کے قدموں سے ایسے لپٹتے کہ اسے اپنے اوپر خدا کا روپ اترتے ہوئے محسوس ہوتا۔

شاید جنرل ضیاء اندر سے ڈرپوک تھے ورنہ ڈرنے کی کوئی خاص بات نہیں تھی۔ جنرل فیض علی چشتی کی مونچھوں اور توپوں کے سامنے کون سی جمہوری حکومت ٹھہرسکتی تھی۔ چشتی نے نہ کسی کو مارا نہ کسی کو مروایا۔ پانچ جولائی کی صبح سحر خیزوں کو یہ مژدہ مِلا کہ ایک اور وردی پوش مسیحا نازل ہوچکا ہے۔

پانچ جولائی کی رات کو تو کوئی نہیں مرا لیکن آئندہ گیارہ برسوں میں بہت سے لوگ مارے گئے۔ پھانسی گھاٹوں پر، ٹھوڑی پھاٹک پر ، بوہری بازار میں، اوجھڑی کیمپ میں، طالبِ علم، مزدور، سیاسی کارکن اور کئی جوگھر سے بازار صرف دودھ خریدنے آئے تھےاور سینکڑوں ایسے تھے جو فوج کے عقوبت خانوں میں سالہاسال موت کی دعا مانگتے رہے۔

جنرل ضیاء جب تک حیات رہے، ہمسایہ ملک افغانستان کے بارے میں ان کی ایک ہی پالیسی تھی کہ افغانستان کی ہانڈی ابلتی رہے، ابل کر باہر نہ گرے ، لیکن یہ ضروری ہے کہ ہانڈی ابلتی رہے۔ افغانستان کی ہانڈی ابالتے ابالتے انہیں اپنے گھر میں لگنے والی آگ کی خبر نہ رہی۔ ان کے بعد آنے والوں نے اس ہانڈی کو ابالنے کے لیے اتنا ایندھن جھونکا کہ پاکستان میں لاکھوں چولھے ٹھنڈے ہوگئے۔ملک کی جان اس وقت چھوٹی جب مردِ مومن و مردِ حق اپنے ساتھ ایک درجن سے زائد جرنیلوں سمیت ایک فضائی حاثے میں ہلاک ہوئے۔ اناللہِ واِناعلیہِ راجعون۔

جنرل ضیاء کے انتقال کے تیئیس سال بعد پاکستانی قوم میں بڑا تفرقہ ہے۔ ‘بےغیرت گروپ’ ‘غیرت بریگیڈ’ سے نبرد آزما ہے۔ بلوچ بندوقیں اٹھائے پہاڑوں پر جا بیٹھے ہیں۔ سندھی کہتے ہیں کہ ایک بار پھر زیادتی کرو توہم تمہیں بتاتے ہیں۔ ملک کے طول و عرض پر پھیلے سینکڑوں لشکر ‘نصرمن اللہِ و الفتح قریب’ کی بشارت دیتے ہیں۔

امریکا کی عمر رسیدہ رکھیلیں طلاق کی بھی دعوے دار ہیں اور اس بات سے بھی انکاری ہیں کہ کبھی نکاح ہوا تھا۔ نسل در نسل امریکی مفادات کی دلاّلی کرنے والے اس بات پر گھتم گھتا ہیں کہ کمیشن کم کر دیا جائے یا پرانی تنخواہ پر کام کیا جائے۔ اور تو اور آئی ایس آئی چلانے والے اللہ کے پراسرار بندے بھی پارلیمنٹ کے دروازے بند کر کے کہتے ہیں کہ ’پتہ نہیں ہم کیا کرتے پھر رہے ہیں‘۔ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔

لیکن مذ کورہ بالاگروہوں میں ایک بات پراتفاق ہے کہ جنرل ضیا اور ان کا گیارہ سالہ دور حکومتِ پاکستان کے لیے تباہ کُن ثابت ہوا۔ جو زہریلے بیج اس دور میں بوئے گئے تھے وہ تن آور درخت بن چکے ہیں۔

جنرل ضیاءالحق کا کوئی لے پالک سیاستدان، فوج کا کوئی ریٹائرڈ یا حاضر سروس جنرل شاہ فیصل مسجد کے صحن میں اس کے مزار پر سینہ ٹھونک کر نہیں کہتا کہ وہ ضیاءالحق کے مشن کی تکمیل کرےگا۔ ضیاء دور کے درس پڑھ کر بڑے ہونے والے ٹی وی اینکرز بھی یہ نہیں کہتے پائےجاتے کہ کاش اگر جنرل ضیاء حیات ہوتےتو ہم یوں راندہءِ درگاہ نہ ہوتے۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سب کے سب مرحوم کے مشن کی تکمیل کے لیے جان ہتھیلی پر رکھے رواں دواں ہیں۔

جنرل ضیاء جب تک حیات رہے، ہمسایہ ملک افغانستان کے بارے میں ان کی ایک ہی پالیسی تھی کہ افغانستان کی ہانڈی ابلتی رہے، ابل کر باہر نہ گرے، لیکن یہ ضروری ہے کہ ہانڈی ابلتی رہے۔

افغانستان کی ہانڈی ابالتے ابالتے انہیں اپنے گھر میں لگنے والی آگ کی خبر نہ رہی۔ ان کے بعد آنے والوں نے اس ہانڈی کو ابالنے کے لیے اتنا ایندھن جھونکا کہ پاکستان میں لاکھوں چولھے ٹھنڈے ہوگئے۔

پارلیمنٹ کے بند دروازوں کے پیچھے ہمارے سیاسی اور فوجی سپہ سالاروں میں جو مکالمہ ہوا اس میں ہر ایک کی طبع کے مطابق گیڈر بھبھکیاں بھی ہیں اور سینہ کوبی کا سامان بھی ہے۔ اگر کسی بات کا ذکر نہیں ہے تو یہ نہیں ہے کہ تیس سال پہلے جو ہم نے اپنے ہمسائے میں آگ لگا کر ہاتھ تاپنے کی قومی سلامتی پالیسی بنائی تھی اس پر بھی ایک نظر ڈالیں یا نہیں۔

کیا کبھی کسی فوجی جنرل یا مدبر سیاستدان نے اس بات پرغور کیا ہے کہ ہمارے افغان بھائی کمیونسٹوں سے لے کر طالبان تک ہم سے اتنے متنفر کیوں ہیں؟

فوجی قیادت اور پارلیمان کے درمیان مکالمہ نہ جانے بارہ گھنٹے کیوں جاری رہا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ دروازے بند کرتے، گھٹنوں کے بَل گرجاتے اور گِڑگِڑا کرکہتے ‘مرشد مروا نہ دینا’۔
‭BBC Urdu‬ - ‮پاکستان‬ - ‮ضیاالحق نے جنرل چشتی سے کہا ’مرشد مروا نہ دینا‘‬
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : گلاب خان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ
کیا اس تحریر میں بہت ساری باتوں کو جھٹلایا جاسکتا ہے؟؟؟
وعلیکم السلام ورحمۃ اللٰہ

جھٹلایا جاسکتا ہے یا نہیں۔ البتہ بہت ساری باتوں کی کریڈیبلیٹی پر سوال اٹھایا جاسکتا ہے۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-05-11, 01:26 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,411
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انسان غلطی کا پتلا ہے مگر دنیا جو بھی کہے

پھر جنرل ضیاء آج بھی ھمارے اھل اسلام کے دل کی ڈھرکنوں میں بستے ہیں

اللہ ان کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دیں

وہ ڈرپوک تھا یا نہیں ؟؟
اگر وہ ڈر پوک تھا تو مشرف کی طرح وردی اتار کے باھر بھاگ جاتا کچھ دو کچھ لو کرکے
زندگی اللہ کی راہ میں قربان کیا اس کو شاید کسی کی اصطلاح میں ڈرپوک بولتے ہونگے

بہر حال جو فوت ہوگئے ان کے معاملات اللہ پر جھور دو

ابھی جو ہے اس کا تو آپ کچھ نہيں نگاڑ سکتے مردوں کے پیچھے پڑگئے

جس طرح صدر زرداری نے بے نظیر قتل کیس کا تو باب بند کردیا
اور جاکے بھٹو کا کیس ری اوپن کردیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غلام خان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (25-05-11), ھارون اعظم (26-05-11), راجہ اکرام (25-05-11)
پرانا 25-05-11, 04:24 PM   #6
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,231
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حنیف صاحب نے قلم کی جولانیاں دکھائی ہیں اور ضرورت سے زیادہ آگے نکل گئے۔۔ بعض باتیں سچ ہو سکتی ہیں لیکن جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ منہ بولتا ثبوت ہے کہ ""کہیں پے نگاہیں کہیں پے نشانہ""

کبھی ان سے گزارش کی جائے کہ قلم فروش صحافیوں پر بھی کچھ تحریر کریں تو پتہ چلے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ شاید یہ میدان مار جائیں۔ اور جو الفاظ انہوں نے اوپر استعمال کیے ہیں وہ الفاظ بھی دست بستہ معافیاں مانگ رہے ہوں کہ ہم پر رحم کیجیے لیکن ہمیں یہاں چسپاں نہ کیجئے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (26-05-11)
جواب

Tags
pakistan, ٹھوڑی, پاکستان, پاکستانی, لوگ, نظر, موت, مسجد, آپریشن, انداز, بھائی, خبر, خدا, دعا, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, رات, طلاق, طالبان, عقوبت, علی, عرض, صبح, صحن, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پاکستان میں خود کش حملوں کیلئے لڑکیاں خریدی جاتی ہیں،بھارتی اخبار عارف اقبال خبریں 7 19-04-11 11:39 PM
پاکستانی فنکاروں سے کام نہ لیں ورنہ سختی سے نمٹیں گے، شیوسینا کی بھارتی چینلز اور پروڈیوسرز کو دھمکی گلاب خان خبریں 0 21-02-11 06:52 AM
سڈنی ٹیسٹ آسٹریلیا کے نام،تاریخ بدلنے کے بھارتی کے بھارتی دعوے کھوکھلے نعرے ثابت ہوئے عبدالقدوس کھیل اور کھلاڑی 0 07-01-08 08:30 AM
واضح شکست دیکھ کر بینظیر پھرن لیگ کی کشتی میں سوار ہونا چاہتی ہیں،پرویز الٰہی خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 08:46 AM
جنرل پرویز ڈوبتی کشتی میں سوار ہیں، جسٹس وجیہہ خرم شہزاد خرم خبریں 0 21-11-07 08:29 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:32 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger