| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 326
|
||||
|
|
#2 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,692
کمائي: 29,819
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اللہ سب سے بڑا ہے |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
کہاں ہیں رٹے رٹائے طوطے
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا |
| کمائي نے ننھا بچہ کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 21-12-11 | شمشاد احمد | ہا ہا ہا ۔۔۔۔ طوطے۔۔۔ خوب كہي | 150 |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 766
کمائي: 12,969
شکریہ: 1,216
532 مراسلہ میں 1,581 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دوست نہ ہونے میں اور دشمن ہونے میں بہت فرق ہے ۔
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,396
کمائي: 96,016
شکریہ: 52,538
11,184 مراسلہ میں 35,273 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امریکی کہاوت ہے کہ جو ہمارا دوست نہیں ، وہ ہمارا دشمن ہے۔
یہی وجہ ہے کہ راہ چلتے اجنبیوں کو بھی پتھر مارتے ہیں کہ تم نے ہمیں سلام کیوں نہیں کیا۔ جیو امریکہ یار میں سوچتا تھا کہ پاکستان میں ہی شاید "یہ جو دس کروڑ گدھے ہیں"۔۔۔ لیکن نہیں ۔۔۔۔ امریکہ میں ذہنی گدھوں کی تعداد پاکستان سے زیادہ ہے۔ ہماری قوم عقل میں امریکیوں سے زیادہ ہی ہے۔ بس حالات کی ماری ہویی ہے۔ ورنہ امریکی حکمرانوں نے ہم سے زیادہ ہی چولیاں ماری ہیں پھر بھی امریکی عوام کو سمجھ نہیں آتی۔ زرداری کرپشن کر کے ملک کو تباہ کر رہا ہے تو امریکی حکمران افغانستان میں جنگ کر کے اپنے بندے مراوا ور اپنی معشیت کا کباڑہ کروا رہے ہیں،۔ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 682
کمائي: 12,905
شکریہ: 0
368 مراسلہ میں 710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امريکی نائب صدر جو بائيڈن نے طالبان کے حوالے سے جو بيان ديا ہے وہ کوئ نئ پاليسی نہيں ہے۔ ان کا حاليہ بيان ہمارے اس ديرينہ موقف کی توثيق تھا کہ جو مسلح گروپ دہشت گردی کو ترک کر کے امن معاہدوں کا حصہ بننا چاہتے ہيں اور قانونی طريقے سے سياسی دائرے ميں شامل ہونا چاہتے ہيں انھيں اس کا پورا موقع ديا جاۓ گا۔ اور يہ پاليسی افغانستان اور پاکستان دونوں ممالک کے گروپوں کے ليے يکساں ہے۔
يہاں ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ يہ امريکی حکومت کی جانب سے کوئ نئ حکمت عملی نہيں ہے۔ جولائ 2010 ميں بھی 5 طالبان کے نام اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کی اس لسٹ سے حذف کيے گۓ تھے جن پر پہلے پابندياں عائد کی جا چکی تھيں۔ امریکی حکومت نے ہميشہ يہ موقف اختيار کيا ہے کہ ہم ہر اس عمل اور کوشش کی حمايت کريں گے جو دہشت گردی سے جنم لينے والے تشدد کے خاتمے کی جانب پيش رفت کرنے ميں مدد گار ثابت ہو۔ اگر گفت وشنيد کا مقصد يہ ہو کہ مسلح افراد کو قانونی اور سياسی دائرہ عمل ميں لايا جا سکے اور اس کے نتيجے ميں افغانستان اور اس کے اداروں کی ترقی اور استحکام کے عمل کو آگے بڑھايا جا سکے تو يقينی طور پر اس کا فائدہ تمام فریقين کو ہو گا۔ بنيادی نقطہ يہ ہے کہ کسی بھی طے پانے والے معاہدے کا مقصد دہشت گردی کے حوالے سے موجود تحفظات اور ان کے خاتمے سے متعلق ہونا چاہیے۔ امريکی حکومت کبھی بھی افغانستان پر قبضے کی خواہاں نہيں رہی۔ ساری دنيا جانتی ہے کہ خطے ميں ہماری موجودگی اور فوجی کاروائ ہماری جانب سے کسی ابتدائ حملے کے نتيجے ميں نہيں بلکہ ہماری سرزمين پر براہراست حملے کا شاخسانہ ہے۔ يہ ايک ايسی کاروائ تھی جس کی ہميں خواہش نہيں تھی ليکن حتمی تجزيے ميں دنيا بھر ميں انسانی جانوں کو محفوظ کرنے کے لیے يہ ايک ناگزير ردعمل تھا جس کا مقصد محض امريکی زندگيوں کو ہی تحفظ دينا نہيں تھا بلکہ عمومی طور پر انسانيت کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ ہمارے مقاصد اور خطے ميں اپنے تمام اتحاديوں کے ساتھ ہمارے روابط کا مقصد يہ يقينی بنانا ہے کہ دہشت گردوں کی وہ پناہگاہیں جو پاکستان سميت تمام مہذب دنيا کے لیے مشترکہ خطرہ ہیں، ان کا خاتمہ کيا جاۓ اور بن لادن کی خونی سوچ کو عملی جامہ پہنانے والے مجرموں کو کيفر کردار تک پہنچايا جاۓ۔ ہماری ہميشہ سے يہی سوچ رہی ہے کہ علاقائ سيکورٹی اور حکومت سازی سے متعلق ذمہ دارياں افغانستان کے عوام اور ان کی منتخب کردہ سياسی قيادت کے حوالے کی جائيں۔ ہم اب بھی اسی منصوبے پر کاربند ہیں۔ ليکن چند راۓ دہندگان اور ميڈيا کے تجزيہ نگاروں کی غلط سوچ کے برخلاف ہم نہ تو خطے سے بھاگ رہے ہيں اور نہ ہی افراتفری کے عالم ميں اپنا ناطہ توڑ رہے ہیں۔ ہم افغانستان کے عوام کے ساتھ طويل المدت بنيادوں پر تعلقات استوار کرنے کے اپنے ارادے اور اپنی حمايت کو برقرار رکھيں گے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State USUrduDigitalOutreach - Government Organization - Washington, DC | Facebook |
|
|
|
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,688
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,396
کمائي: 96,016
شکریہ: 52,538
11,184 مراسلہ میں 35,273 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی یہ خوف نہیں پالیسی سے انحراف ہے۔ امریکی عوام کو اس پر احتجاج کرنا چاہیے۔۔۔کہ ساڈے پیسے پھوک کے تہانوں ہُن اے گلاں یاد آ ریاں نے۔
یار میں سوچ رہا ہوں کہ انگریجی سیکھ لوں تاکہ امریکی عوام کو بتاؤں او جاہلو ۔۔۔ جاگ جاؤ ۔۔۔۔ اس سے قبل کے تمہارے حکمران پاکستان کے ساتھ ساتھ امرئکہ کا بھی سوا ستیا ناس کر دیں۔ |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
پھر وہی صبح والا تبصرہ پیسٹتا ہوں کہ؛؛
پھر افغانستان میں امب لینے ائے تھے؟؟ |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,509
کمائي: 118,687
شکریہ: 13,530
4,912 مراسلہ میں 16,705 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
طالبان امریکا کے دشمن نہیں، امریکی نائب صدر جو بائیڈن WHITE HOUSE: We are fighting the Taliban but they are not the enemy امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے طالبان امریکا کے دشمن نہیں مگر کرزئی حکومت گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ براک اوباما نے کبھی نہیں کہا کہ طالبان ہمارے دشمن ہیں۔ امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے امریکی جریدے کو انٹرویو میں کہا کہ طالبان امریکا کے دشمن نہیں۔ طالبان کو دشمن نہ سمجھا جائے۔ انہیں دشمن سمجھ کر امن معاہدہ نہیں کیا جا سکتا۔ جو بائیڈن کے مطابق القائدہ طالبان کی مدد سے امریکا پر حملہ کر سکتی ہے۔ اس لحاظ سے طالبان سے صرف القائدہ کی مدد کا مخفی خطرہ ہے۔ امریکی نائب صدر نے کہا براک اوباما نے طالبان کو کبھی بھی امریکی مفادات کیلئے خطرہ قرار نہیں دیا۔ طالبان کرزئی حکومت گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔
__________________
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,508
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,509 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسے کہتے ہیں کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اب جب لاتوں پہ لاتیں پڑ رہی ہیں اور لاشوں پہ لاشیں گر رہی ہیں تو دشمن کو بھی بھول گئے ۔ ۔ ۔ اس لئے کہتے ہیں کہ امریکہ کا کوئی اعتبار نہیں ۔ یہ دشمن اور دوست بدلتا رہتا ہے
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا | رضی (23-12-11), عبداللہ آدم (24-12-11) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
طالبان امریکہ کے دشمن نہیں یہ ایک حقیقت ہے ۔
امریکہ طالبان کا دشمن ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
| کمائي نے مرزا عامر کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 23-12-11 | رضی | 100% right | 100 |
![]() |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|