واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


طرابلس کے ہوٹل سے آنکھوں دیکھا حال

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-08-11, 05:27 PM   #1
طرابلس کے ہوٹل سے آنکھوں دیکھا حال
زبیرافتحار زبیرافتحار آن لائن ہے 23-08-11, 05:27 PM

لیبیا میں باغی جتنی تیزی سے اور بلا رکاوٹ دارالحکومت طرابلس میں داخل ہوئے ہیں کسی نے بھی نہیں سوچا تھا۔

لیکن طرابلس میں ہونے والی پہلی شدید گولہ باری کے چوبیس گھنٹے بعد سنیچر کی رات ایسے آثار دکھائی دینے لگے تھے۔

سب سے پہلے کرنل قذافی کے سرکاری عہدے داروں کے بیوی بچوں نے شہر میں موجود فائیو سٹار ہوٹل ریکسوز چھوڑا۔ یہ وہ ہوٹل ہے جہاں ابتداء میں اس لڑائی کی کوریج کرنے والے غیر ملکی صحافیوں کو رہائش فراہم کی گئی تھی۔

کچھ ہی مہینوں میں یہ حکومت کا ٹھکانہ بن گیا۔ ایک ایسی جگہ جہاں وہ حفاظت سے رہ سکتے تھے اور جہاں سے کرنل قذافی کے وزیرِ اطلاعات نیوز کانفرنس کیا کرتے تھے۔

اب لیبیا کی حکومت کے اعلی اہلکاروں کے رشتہ دار بھی جا رہے ہیں ان کی منزل نسبتًا کوئی محفوظ جگہ ہوگی۔

تبھی میں نے غور کیا کہ مہینوں تک یہاں صحافیوں کے لیے مترجم کا کام کرنے والے افراد بھی جا چکے ہیں جبکہ سرکاری ٹیلی وژن کے اہلکار جنہوں نے نیٹو کی بمباری میں اپنے صدر دفتر کی تباہی کے بعد یہیں سے کام جاری رکھا تھا وہ بھی اس ہوٹل کو چھوڑ چکے ہیں۔

یہاں لڑائی کے اشارے موصول ہو گئے تھے اور پھر اس ہوٹل کے باہر ایک خوفناک لڑائی چھڑ گئی جو قریب آتی جار ہی تھی۔ سنیچر کی شام تک گولہ باری اور دھماکوں کی آواز شہر میں گونجتی رہی۔ اور اب یہ ہماری جانب بڑھ رہی تھی۔

کئی گھنٹوں تک بھاری ہتھیار اس عمارت کو ہلاتے رہے۔ گولیاں سروں کے اوپر سے گزر رہی تھیں۔

ہم بین الاقوامی میڈیا کے لوگ ایک جگہ اکٹھے ہوگئے تاکہ یہ طے کیا جائے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئیے۔
وزیرِ اطلاعات موسی ابراہیم نے اپنی آخری نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’ نیٹو ہمارے ملک کو تباہ کر رہا ہے‘۔ وہ اپیل کر رہے تھے کہ فائر بندی نہ کرنے کی صورت میں بھاری جانی نقصان ہو جائے گا

ہم نے حفاظتی جیکٹس پہنیں اور وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ ساحل کی جانب کا راستہ نہیں تھا اور نہ ہی کوئی کشتی تھی جو ہمیں کہیں اور لے جا سکے۔

تبھی ہوٹل کا باورچی آیا اور پوچھا کہ کیا ہم رات کا کھانا کھائیں گے۔ہم نے بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ پہنے ہوئے ہی کھانا کھایا۔

چونکہ افطار کا وقت تھا اس لیے روزہ کھولنے کے لیے باہر خاموشی ہوگئی تاہم کچھ دیر بعد ہوٹل کے باہر دوبارہ دھماکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال شروع ہو گیا۔

قذافی کی حامی فورسز نے سڑک کے کنارے ایک چوکی بنا رکھی تھی۔ ہم باغیوں کے ایک ہدف میں پھنس چکے تھے۔

اسی دوران وزیرِ اطلاعات موسی ابراہیم نے اپنی آخری نیوز کانفرنس کی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ’ نیٹو ہمارے ملک کو تباہ کر رہا ہے‘۔ وہ فائر بندی کی اپیل کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں بھاری جانی نقصان ہو جائے گا۔

ہوٹل کی لابی میں ایک نوجوان فوجی میڈیا کے ایک شخص پر چلا رہا تھا۔ وہ اس پر اندر کی معلومات باغیوں کو دینے کا الزام لگا رہا تھا۔ ہم اس شخص اور اس کی AK-47 سے دور ہو گئے۔
اتوار کے روز موسی ابراہیم نے بتایا تھا کہ پینسٹھ ہزار پیشہ ور اور تربیت یافتہ فوجی جو کرنل قذافی کے وفادار ہیں دارالحکومت طرابلس میں اس کے تحفظ کے لیے موجود ہیں۔

ہوٹل کے ایک دوسرے حصے میں خاموش طبع اور نرم خُو ڈاکٹر اگلوئیلا جو لیبیا کی حکومت میں غیر ملکی میڈیا کے انچارج تھے میرے پاس سے گزرے، ان کے ہاتھ میں ایک بندوق تھی۔

گذشتہ ہفتے انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ تیار ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو اپنے ملک کے تحفظ کے لیے سامنے جا کر لڑیں گے۔ تب میں نے سوچا بہت دیر ہو چکی ہے۔

کیا جس کا بہت شور ہو رہا تھا وہ خاتمہ قریب ہے؟

اتوار کے روز موسی ابراہیم نے مجھے بتایا تھا کہ پینسٹھ ہزار پیشہ ور اور تربیت یافتہ فوجی جو کرنل قذافی کے وفادار ہیں دارالحکومت طرابلس میں اس کے تحفظ کے لیے موجود ہیں۔

کیا باغی کسی جال میں پھنس گئے ہیں؟ شاید جب وہ شہر میں داخل ہوں ان پر ہر سمت سے فائر کھول دیا جائے۔ کرنل قذافی کی حامی فوج یہ حربہ پہلے بھی استعمال کر چکی ہے۔

دھیرے دھیرے صورتحال واضح ہو گئی۔ وہ سبز چوک جہاں میں گذشتہ ہفتے میں کرنل قذافی کے حامیوں کے ساتھ کھڑا تھا جو یہ عہد کر رہے تھے کہ دارالحکومت کبھی، کبھی بھی نہیں جھکے گا، اب مخالفین کے قبضے میں تھا۔

کرنل قذافی کا بیٹاسیف اسلام گرفتار ہو چکا ہے۔طرابلس کے بڑے علاقوں میں حزبِ مخالف کی چوکیاں مضبوط کر لی گئی ہیں۔کرنل قذافی کا دار الحکومت ان کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے۔

ابھی جس وقت میں یہ لکھ رہا ہوں لڑائی جاری ہے۔ ریکسوز کے کے باہر ہم اب بھی نہیں جانتے کہ سڑ کیں محفوظـ ہیں یا نہیں۔ ہم اب بھی یہاں سے نہیں نکل سکتے۔

ارد گرد سے بھی گولیاں چلنے کی آوازیں آ رہیں ہیں لیکن یہ جشن کے لیے نہیں، وہاں اب بھی لڑائی ہو رہی ہے۔

شہر کے کئی رہائشی اپنے گھروں میں دبکے بیٹے ہیں۔ ان میں صرف وہی لوگ نہیں جو کل تک کرنل قذافی کا سبز جھنڈا فخر سے لہرا رہے تھے بلکہ وہ لوگ بھی ہیں جو اپنے دروازے کے باہر ہونے والی لڑائی کی وجہ سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔

کچھ لوگ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ قبیلوں کے درمیان پایا جانے والے اختلاف اب حزب مخالف میں سامنے آئے گا جو اقتدار کی پر امن منتقلی کو نقصان دہ ہے۔

اب بھی ممکن ہے کہ چار دہائیوں تک اقتدارمیں رہنے والے کرنل قدافی لوگوں کو سزا دینے اور ان پر ظلم کرنے کے لیے جوابی حملہ کریں۔

لیکن فی الحال یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اس وقت تو ایسا دیکھائی دیتا ہے کہ ایک اور غیر مقبول عرب حکومت عرب مظاہروں کی لہر کا شکار ہو گئی ہے۔

طرابلس کے ہوٹل سے آنکھوں دیکھا حال
__________________
تم قاتل نہیں ہو پیشہ ور گدھے!

 
زبیرافتحار's Avatar
زبیرافتحار
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 612
شکریہ: 130
384 مراسلہ میں 965 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 141
Reply With Quote
زبیرافتحار کا شکریہ ادا کیا گیا
نبیل خان (23-08-11)
پرانا 23-08-11, 06:07 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,508
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,509 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہم مسلمان بہت جلد اغیار کی سازشوں کا شکار ہو کر ان کا آلہ کار بن جاتے ہیں اللہ کریم ہمیں عقل سلیم عطا فرمائے آمین
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-08-11, 08:09 PM   #3
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,688
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قذافي حكومت بھي كوئي آئيڈيل نہ تھي۔۔۔ ليكن اب جمہوريت كي باري باري كے چكر ميں ليبيا كا حال بھي ديگر اسلامي جمہوري ممالك كا سا ہو گا۔۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کوریج, پڑی, لوگ, نیوز, منتقلی, ممکن, الزام, اسلام, بیوی, بچوں, حال, روزہ, رات, راستہ, شہر, شور, شام, شخص, عمارت, عرب, غور, صورتحال, صحافیوں, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
دو سکھ ہوٹل گئے The Great قہقہے ہی قہقے 16 02-07-11 07:23 AM
میں آنکھیں روشن ستارہ لکھوں اور پھر نظر کو شراب لکھوں جواد رضا خان جامی جواد رضا خان جامی 2 18-09-10 11:42 AM
دنیا کا پہلادرخت ہوٹل جاویداسد دلچسپ اور عجیب 0 11-07-10 06:19 PM
ایک سردار صاحب ہوٹل پر گئے۔ The Great قہقہے ہی قہقے 2 08-09-09 07:35 PM
فائیو سٹار ہوٹل میں گاہک نے ہوٹل چھوڑتے ہوئے The Great قہقہے ہی قہقے 2 31-08-09 09:17 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:42 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger