واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


ظفرقریشی کیخلاف ق لیگ کے الزامات حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-07-11, 07:34 AM   #1
ظفرقریشی کیخلاف ق لیگ کے الزامات حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے
گلاب خان گلاب خان آن لائن ہے 11-07-11, 07:34 AM

اسلام آباد (احمد نورانی) ظفرقریشی کو جھوٹ اور فراڈ پر مبنی گندی مہم کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سرکاری ریکارڈ اور حقائق کے ذریعے ثابت ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ق) کی قیادت کی طرف سے ایف آئی اے کے معطل ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ظفر قریشی کا تعلق مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کے ساتھ جوڑنے، ان کے بھائی اور خود ان کی ملازمت کے حوالے سے کیچڑ اچھالنے کے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ ظفر قریشی کیخلاف سنگین الزامات سرکاری ریکارڈ کے مطابق کسی طور مطابقت نہیں رکھتے اور زمینی حقائق سے بالکل مختلف ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق ظفر قریشی نے ہمیشہ ایک غیرجانبدار آفیسر کے طور پر کام کیا اور کسی بھی کیس میں ملوث کسی بھی سیاسی جماعت کے ارکان کے خلاف کارروائی کی۔ ان کا ٹریک ریکارڈ بتاتا ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق) اور پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ سیاستدانوں کیخلاف سخت ترین کارروائی کی ہے۔ جہاں تک ظفرقریشی کے چھوٹے بھائی مظہر قریشی کا تعلق ہے تو وہ گزشتہ دو دہائیوں سے مسلم لیگ (ن) کی مخالف قوتوں کے ساتھ منسلک رہے۔ مظہر قریشی نے 90 کی دہائی کے وسط میں وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے پیپلزپارٹی کے حمایت یافتہ امیدوار سردار عارف نکئی کی حمایت کی۔ انہوں نے 2002ءمیں مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور سرگودھا کے حلقے این اے 68 سے ایم این اے منتخب ہوئے۔ الیکشن 2008ءمیں مسلم لیگ (ق) نے مظہر قریشی کی حمایت کی اور انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے جاوید شاہ سے مقابلہ کیا۔ بعدازاں مظہر قریشی نے مسلم لیگ (ن) کے جاوید شاہ کیخلاف ان کی جعلی ڈگری کے حوالے سے طویل قانونی جنگ لڑی جس کے نتیجے میں جاوید شاہ کو نااہل قرار دیا گیا۔ 5 اگست 2010ءمیں ضمنی الیکشن ہوا جس میں ایک بار پھر مظہر قریشی مسلم لیگ (ن) کے ایک اور امیدوار سردار محمد شفقت حیات خان کے مدمقابل تھے لیکن اس دفعہ بھی مظہر قریشی الیکشن میں شکست کھا گئے، اس ضمنی الیکشن میں مظہر نے 58,579 ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نے 88967 ووٹ حاصل کئے۔ مظہر قریشی نے یہ ضمنی انتخابات بطور آزاد امیدوار کے لڑا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ این آئی سی ایل میگاسکینڈل کے منظر عام پر آنے سے قبل وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی این اے 68 کا ضمنی الیکشن کے دوران دورہ کیا اور مسلم لیگ (ن) کو شکست دینے کیلئے مظہر قریشی کی حمایت میں ایک جلسہ منعقد کیا۔ بعد میں مظہر قریشی نے پنجاب کی صوبائی حکومت پر ضمنی الیکشن میں دھاندلی کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ ن لیگ نے اپنا امیدوار دھاندلی سے کامیاب کروایا۔ ایک اور حقیقت جو کہ ظفر قریشی کیخلاف بے بنیاد الزامات لگانے والوں کیلئے نگلنا مشکل ہوگی وہ یہ ہے کہ 5 اگست 2010ءکے ضمنی الیکشن کے دوران مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت نے ظفر قریشی کو محض اس لئے صوبہ بدر کر دیا تھا کہ وہ کہیں اپنے بھائی مظہر قریشی کی الیکشن میں حمایت نہ کردیں حالانکہ ظفر قریشی اس وقت صوبے میں ٹیلی کام اور ٹرانسپورٹ کے ڈی آئی جی کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے اور سرگودھا کے ضمنی انتخابات میں اثرانداز نہیں ہوسکتے تھے۔ ان سب باتوں سے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت کسی بھی ایسے ایماندار افسر کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے جو غیرجانبداری سے کام کرنا چاہتا ہو۔ دو روز قبل ایک قومی انگریزی اخبار کی ایک خبر میں بالواسطہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے حوالے سے کہا گیا کہ انہوں (گیلانی) نے 2010ءکے ضمنی الیکشن میں ظفر قریشی کے بھائی مظہر قریشی کی حمایت کی اور ظفر قریشی کے بڑے بھائی اسماعیل قریشی سابق سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو نیشنل سکول آف پبلک پالیسی (این ایس پی پی) میں بطور ریکٹر تعینات کیا اور ظفر قریشی نے ان کے ساتھ بے وفائی کی۔ اس میں ظفر قریشی کیخلاف ان کے حوالے سے متعدد الزامات عائد کئے گئے۔ مظہر قریشی نے ضمنی الیکشن کے بعد باضابطہ طور پر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اور اب وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام ظفر قریشی کو دھمکی کیساتھ ساتھ یہ باور کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں کہ ان کا بھائی پیپلزپارٹی کا جیالا تھا لیکن ذرائع کے مطابق ظفر قریشی کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ وہ تمام کیسز کی میرٹ پر تحقیقات کرینگے۔ ایک اور کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف کے قتل کے منصوبے کی ایف آئی اے کی تحقیقات میں ظفر قریشی نے حکومت پنجاب کے اعلیٰ حکام کو طلب کیا اور پنجاب حکومت کے فیصلے کےخلاف اپنا فیصلہ دیا۔ بعد ازاں بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قاضی فیض عیسیٰ کی سربراہی میں قائم مقام جوڈیشل کمیشن نے بھی قریشی کے فیصلے کو لیا۔ ظفر قریشی کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ خود کو مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت کا ایک نشانہ محسوس کرتے ہیں۔ جہاں تک شوکت عزیز کے دور میں ظفر قریشی کی پروموشن کا تعلق ہے تو یہاں بھی سرکاری ریکارڈ ان پر لگائے گئے الزامات سے مختلف کہانی بتاتا ہے۔ ایف پی ایس سی نے بہت سے افسران کی گریڈ 19 سے20 میں ترقی کےلئے سفارش کی تاہم انٹیلی جنس رپورٹس کی روشنی میں ان میں سے دو افسر کرپشن الزامات میں ملوث پائے گئے اور اس بناءپر ان دو افسروں کا نام فہرست سے نکال دیا گیا۔ ایک افسر ظفر عباس لک کو ایف پی ایس سی بورڈ نے بعض نیب کیسز کی وجہ سے الگ کردیا۔ بعد ازاں اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز نے ظفر عباس لک کو ترقی دے دی لیکن اس کے باوجود دو عہدے خالی تھے۔ کیونکہ دیگر دو افسران کے نام فہرست سے نکال دیئے گئے تھے جس کی وجہ سے ظفر قریشی کا سنیارٹی کے لحاظ سے فہرست میں نمبر آگیا لہٰذا انہیں بھی ترقی دے دی گئی۔ تاہم ترقی کے لئے چونکہ ظفر قریشی کی باری نہیں تھی لہٰذا ایماندار افسر نے یہ کہتے ہوئے پروموشن سے انکار کردیا کہ وہ اپنی باری پر ترقی لیں گے۔ بعد ازاں ایف پی ایس سی بورڈ نے جس کی لیفٹیننٹ جنرل (ر) جمشید گلزار کیانی سربراہی نہیں کررہے تھے ظفر قریشی کو گریڈ 20 میں ترقی دے دی اور وہ حقیقت میں اس وقت پروموٹ ہوئے۔ قریشی کے قریبی ذرائع کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا ریکارڈ موجود ہے اور اگر کوئی ظفر قریشی کی شوکت عزیز کی طرف سے دی گئی آﺅٹ آف ٹرن پروموشن کو قبول کرنے سے انکار کی حقیقت کو غلط ثابت کرسکتا ہے تو وہ اس کو چیلنج کرتے ہیں۔ ذرائع مزید بتاتے ہیں کہ جب ظفر قریشی کے بڑے بھائی اسماعیل قریشی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں سیکرٹری تھے تو اس وقت گریڈ 20کے23افسروں کو گریڈ21میں ترقی دی جانی تھی لیکن اسماعیل قریشی نے 21 افسران کو پروموٹ کیا اور باقی دو کو بغیر کوئی وجہ بتائے ڈراپ کردیا۔ اگر قریشی گریڈ 21 میں پہنچ چکے ہوتے تو وہ باآسانی گریڈ 22 حاصل کرسکتے تھے۔ یہ سب کچھ صرف اس لئے کیا گیا تاکہ ایک بھائی پر دوسرے بھائی کے حوالے سے اقرباءپروری کے الزام سے بچا جاسکے۔ اب جبکہ ظفر قریشی کو گریڈ 21 میں ترقی دی گئی تو وہ اس کیلئے پہلے سے ہی اہل تھے اور جسٹس (ر) بھگوان داس کی سربراہی میں قائم بورڈ نے اس کی منظوری دی۔ ظفر قریشی کے ذرائع کے مطابق الزامات کے باوجود ظفر قریشی ایمانداری اور غیرجانبداری سے اپنی خدمات سرانجام دیتے رہیں گے اور وہ اپنے اصولوں کے تحت اپنا کام کرتے رہیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے انجم عقیل جو کہ نیشنل پولیس فاﺅنڈیشن میں مختلف الزامات کا سامنا کررہے ہیں کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ اس بڑے لینڈ سکینڈل میں بھی انجم عقیل کیخلاف ظفر قریشی نے ہی تحقیقات کی ابتداء کی تھی۔ جبکہ انجم عقیل اپنے آپ کو بے قصور کہہ رہے ہیں۔ ظفر قریشی نے نیشنل پولیس فاﺅنڈیشن کے ڈی جی کے طور پر انجم عقیل کیخلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,495
شکریہ: 1,550
2,973 مراسلہ میں 8,226 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 58
Reply With Quote
جواب

Tags
کوشش, پولیس, پاکستان, وزیراعظم, مقابلہ, اسلام, اعلیٰ, بھائی, بدر, جھوٹ, جواب, خان, خبر, سردار, عیسیٰ, عقیل, عائد, عارف, عباس, عزیز, غلط, صوبہ, صوبے, صوبائی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا آپ جو کچھ دیکھتے ہیں اسپر یقین کرتے ہیں یا پھر جو یقین رکھتے ہیں اسی کی طرح دیکھتے ہیں؟ ناصحی عمومی سائنس 112 13-05-12 06:57 PM
اگر آپ اپنا نام رکھتے تو کوں سا رکھتے پیاسا گپ شپ 46 28-05-11 10:58 PM
دبلے پتلے جسم کو اسمارٹ بنائیں سیپ شعبہ طب 6 24-01-11 02:01 PM
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں The Great احمد فراز 0 28-08-09 12:59 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:45 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger