غیرملکی گرانٹس استعمال کے بغیرختم ہو رہی ہیں بے تحاشا قرضے لئے جا رہے ہیں، چوہدری نثار، پیسے این جی اوز کے ذریعے ملیں گے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا، آڈیٹر جنرل
محکمہ ڈاک کی جانب سے دو گھروں کی خریداری کی تحقیقات کا حکم، محکمہ میں 19 کروڑ 69 لاکھ کے غیرقانونی اخراجات کی نشاندہی، پی اے سی کا اجلاس
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) چیئرمین ایرا حامد یار ہراج نے بدھ کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میں انکشاف کیا کہ زلزلہ زدگان کےلئے عالمی ادارے 40 فیصد امداد واپس لے گئے اب حکومت نے ان سے کہا ہے کہ اگر نقد امداد نہیں دینا چاہتے تو منصوبے خود ہی مکمل کرا دیں۔ انہوں نے یہ بات اقتصادی امور ڈویژن کی کارکردگی پر بحث کے دوران کہی۔ چیئرمین پی اے سی چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ یہ کیسی پالیسی ہے کہ غیرملکی گرانٹس استعمال ہوئے بغیر ختم ہو رہی ہیں اور ملک چلانے کےلئے بے تحاشا قرضے لئے جا رہے ہیں۔ آڈیٹر جنرل تنویر آغا نے کہا کہ اگر ہمارے غیرملکی دوست مخلص ہیں تو پھر امداد این جی او کے ذریعے خرچ کی بجائے ہمارے استعدادی صلاحیت میں اضافہ کریں۔ پی اے سی کا اجلاس چوہدری نثار علی خان کی زیرصدارت ہوا۔ مسز یاسمین رحمن، میاں ریاض پیرزادہ، خواجہ آصف،
با قیصفحہ5 نمبر7
رخسانہ بنگش، حامد یار ہراج، سعید ظفر، سردار بہادر خان سیہڑ، ریاض فتیانہ، آسیہ ناصر، ندیم افضل چن، پرویز ملک، آفتاب شعبان میرانی اجلاس میں شریک ہوئے۔ پی اے سی نے ہدایت کی کہ وزارت اقتصادی امور ایک ماہ میں اخراجات اور بحث میں تفاوت پر حتمی رپورٹ دے۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے بیرونی قرضوں کی مد میں اقتصادی امور کے 21 ارب روپے واپس نہیں کئے اور صنعتی ترقیاتی بنک نے 259 ملین روپے واپس نہیں کئے۔ سیکرٹری اقتصادی امور سبطین فضل حلیم نے کہا کہ گرانٹس ختم ہونے کی بات درست نہیں ہے اور آڈٹ کو صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے۔ آڈیٹر جنرل نے کہا کہ گرانٹس اور قرضوں کے حوالے سے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ سیکرٹری اقتصادی امور نے کہا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ وزارت خزانہ کا معاملہ ہے۔ سیلاب زدگان کی امداد کےلئے 2 ارب ڈالر کے وعدے ہوئے تھے جبکہ نقصانات کا تخمینہ 10 ارب ڈالر تھا۔ انہوں نے کہا کہ 20 ارب روپے 25 ہزار روپے فی متاثرہ خاندان تقسیم کئے جا چکے ہیں جبکہ 80 ہزار روپے کی ایک اور قسط کی ادائیگی کےلئے میکنزم بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے 938 ملین ڈالر سیلاب زدگان کےلئے امداد دی جبکہ دیگر ملکوں نے اشیاءکی صورت میں ایک ارب 80 کروڑ ڈالر امداد دی۔ ایرا کے چیئرمین حامد یار ہراج نے بتایا کہ 2005 کے زلزلہ زدگان کےلئے غیرملکی وعدوں پر صرف 60 فیصد امداد مل سکی۔ عالمی امدادی ادارے وزارت اقتصادی امر کے غیرمناسب رویے اور سلوک کی وجہ سے اپنی امداد واپس لے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم نے ڈونرز ملکوں سے کہا ہے کہ وہ ہمیں نقد امداد نہ دیں اور منصوبے خود ہی مکمل کرا دیں۔ آڈیٹر جنرل سید تنویر آغا نے کہا کہ ڈونرز میرے پاس بھی آتے ہیں۔ پاکستان سمیت تمام ترقی یافتہ ملکوں میں گورننس اور شفافیت کے مسائل ہیں ہمارے ہاں مالیاتی احتساب کا اچھا نظام موجود ہے۔ عالمی امدادی ادارے اگر پیسہ ہی این جی اوز کو دیں گے تو اس سے مسئلے کا حل نہیں ہوگا اگر عالمی ادارے ہمارے ساتھ نیک نیتی اور خلوص سے مدد کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہماری استعدادی صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔ سیکرٹری اقتصادی امور نے کہا کہ تمام غیرملکی امداد اقتصادی امور ڈویژن کے ذریعے آتی ہے اگر ہم اچھا کام نہ کر رہے ہوتے تو کوئی ہمیں ایڈ نہ دیتا۔ سیکرٹری ٹیکسٹائل انڈسٹریز ڈاکٹر وقار مسعود نے بتایا کہ 2004 میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کی وزارت قائم کی گئی اور وزارت سخت مالی دباﺅ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل یونیورسٹی کو اپٹما کی طرف سے مالی گرانٹ نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ذمہ داری صنعتی پیداوار بڑھانا ہے جس میں ہم ابھی کافی پیچھے ہیں۔ ڈاکٹر وقار مسعود نے پی اے سی کو سوالوں کے جواب میں بتایا کہ ٹیکسٹائل یونیورسٹی کی آمدنی 222 ملین ہے۔ ہم نے ٹیوشن فیس میں کمی کی ہے اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جا رہے ہیں۔ ٹیوشن فیسن میں کمی کی وجہ سے طلباءکی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ چیئرمین پی اے سی نے ہدایت کی ٹیکسٹائل یونیورسٹی میں سپورٹس کوٹہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پی اے سی نے ٹیکسٹائل یونیورسٹی میں کھیلوں کی بنیاد پر داخلے کو ختم کرنے کی سفارش کی اور کہا کہ کوٹہ کی بنیاد پر پیشہ وارانہ اداروں میں داخلے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ آڈیٹر جنرل سید تنویر آغا نے پی اے سی کو بتایا کہ ان کے ادارے میں گریڈ 21 اور 22 کی کئی آسامیاں خالی پڑی ہیں جس کی وجہ سے آڈٹ رپورٹوں کی تیاری میں تاخیر ہو رہی ہے اگر آڈٹ رپورٹیں بروقت تیار نہ ہوسکیں تو پاکستان کی بڑی بدنامی ہوگی۔ چیئرمین پی اے سی چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ وہ اس اہم مسئلے پر وزیراعظم سے بات کریں گے۔ چیئرمین پی اے سی نے واضح کیا کہ میں نے این ایل سی کی فوجی انکوائری پر ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ این ایل سی میں بہت گھپلے ہیں۔ فوجی انکوائری مکمل ہونے تک ہم نے اس معاملے پر غور ملتوی کر دیا ہے۔ آڈٹ نے اعتراض کیا کہ پوسٹ آفس محکمہ نے غیرقانونی طور پر 6 کروڑ 37 لاکھ روپے سے دو مکان خریدے۔ سیکرٹری پوسٹل سروسز نے بتایا کہ متعلقہ افسروں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں۔ آڈیٹر جنرل نے کہا کہ ذمہ داری کا تعین نچلی سطح کے افسروں پر کیا گیا ہے حالانکہ اس کیس میں حتمی منظوری اعلیٰ سطح پر دی گئی تھی۔ پی اے سی نے محکمہ ڈاک کی طرف سے راولپنڈی میں دو گھروں کی خریداری کے معاملے کی تفصیلی تحقیقات کا حکم دیا اور ڈپٹی آڈیٹر جنرل کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جو ایک ہفتے میں رپورٹ مکمل کرے گی۔ پی اے سی کو بتایا گیا کہ پوسٹل محکمہ میں مشرف دور یمں 19 کروڑ 69 لاکھ روپے کے غیرقانونی اخراجات کی نشاندہی کی گئی جس کی منظوری سابق ڈی جی میجر جنرل مسعود حسن آغا نے دی تھی جو سابق صدر مشرف کے قریبی ساتھی تھے اور ان اخراجات کی وزارت خزانہ سے منظوری نہیں لی گئی تھی اور یہ رقم ملازمین کو خصوصی الاﺅنسز کی ادائیگی پر خرچ کی گئی تھی۔ چیئرمین پی اے سی نے ہدایت کی کہ ملازمین سے اس رقم کی وصولی کی جائے اگر رقم وصول نہ ہوئی تو سیکرٹری اور ڈی جی سے وصولی ہوگی۔ ڈی جی پوسٹ آفس عبدالحمید نے کہا کہ سابق اقدامات میں بورڈ آف گورنر کی منظوری تو لی جاتی تھی مگر سابق ڈی جی پوسٹ آفس کے سامنے کسی کی بات نہیں سنی جاتی تھی۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ ماضی میں اس محکمے کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا وہ سب تباہی کے مترادف تھا۔ رہی سہی کسر اس حکومت نے پوری کر دی اور محکمہ ڈاک کو مکمل وزارت میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں سرکاری افسروں پر بورڈز آف گورنر بنائے گئے ہیں ہم وزیراعظم سے اس معاملے پر بات چیت کریں گے کہ سرکاری بورڈز آف گورنر ختم کرکے نجی شعبے کو شامل کیا جائے تاکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر ہوسکے۔ پی اے سی نے ہدایت کی کہ محکمہ ڈاک کے آڈٹ اعتراضات پر وزارت خزانہ سے رجوع کیا جائے۔ وزارت خزانہ اگر محکمہ ڈاک کے غیرقانونی اخراجات کو ریگولرائز کر دے تو پی اے سی اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ کرےگی۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی