واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


عالمی وبھارتی میڈیا کی مسلم دشمنی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-11-10, 03:08 AM   #1
عالمی وبھارتی میڈیا کی مسلم دشمنی
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 06-11-10, 03:08 AM

الیکڑونک میڈیامیں اسلام اورلبرل ازم کی بڑھتی ہوئی کشمکش....اسلام پسندوں کو اب میدان میں نکلنا ہوگاوگرنا مغربی تہذیب کے گندے انڈے اپنی فلموں اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے اسلام پسندوں کا چہرہ مسخ کرتے رہیں گے۔
٭....٭....٭
مغرب نے ایک لمبے عرصہ سے ملت اسلامیہ کے ساتھ جنگ چھیڑ رکھی ہے ۔ وہ نہ صرف توپوں‘ بندوقوں‘ راکٹ لانچر‘ٹینک‘ آئل ٹینکر‘ توپ مشینیں‘ ایئرکرافٹ‘ گن شپ ہیلی کاپٹر‘ آگسٹاپر مشتمل اے ایچ ون ڈبلیو ، سپر کو برا‘کارگو‘ ہیلی کاپٹر‘ سی ایچ (گریفن) ایم ایچ 6جسے او ایچ 58کیووا‘ اے ایس 532‘ ایم آئی ایل‘ ایم آئی 17‘ ایم آئی24(ہند) ایچ ایچ پاوپاس‘ ہیلی کاپٹر‘ یو ایچ این‘A-10 تھنڈر بولٹ کروز میزائل اور اپاچی ہیلی کاپٹروں کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ آور ہے ....بلکہ میڈیا کے خطرناک ترین وار سے بھی مسلم ممالک کومسلسل ہزیمت پہنچانے کی کوشش بھی کررہا ہے ....جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی ہے۔ مغرب اور اس کے حواریوں نے جتنا نقصان میڈیا کے ذریعے مسلمانوں کو پہنچایا ہے، اتنا شاید ہی جنگ سے مسلمانوں کا نقصان ہوا ہو۔

میڈیا کے زہریلے اور دور رس نتائج نے مسلم امہ کو بلبلا کررکھ دیا ہے اور یہ وہ میٹھا وار ہے جو ہم با آسانی سہہ لیتے ہیں۔ میڈیا کی جنگ کے مقابلے میں بندوق کی جنگ کوئی معنی نہیں رکھتی ....یہ وہ ناسور ہے کہ انسان کے ختم ہونے پر ہی اس کی ہلاکت آفرینی کا اندازہ ہوتاہے ۔ یہودی اور ہندو وںنے فلمی صنعت پر قبضہ کرکے ناصرف کروڑوں روپے وڈالر کے خرچ سے ایسی فلمیں تیار کی ....جس میں اسلام اور مسلمانوں کو غیر محسوس طریقے سے نشانہ بنایا گیاہے ....ان فلموں کو عیسائی‘ یہودی‘ ہندو اور دوسرے مذاہب کے لوگوں سمیت مسلمان بھی بڑے ذوق وشوق کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ صلیبی جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد مغربی دنیا نے جو منصوبے اپنے ایجنڈے میں رکھے تھے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امریکن کھیتولک چرچ کی ایک انجمن کے صدر ”مارشل بولڈ اون “نے اپنی ایک تقریر انجمن کے دوسرے سالانہ اجلاس 1941ءمیں کی تھی جس میں کہا گیا کہ”مغرب اسلام کو صرف موجودہ تمدن کیلئے ہی خطرناک نہیں تصور کرتا بلکہ عالم مسیحیت اور مختلف عیسائی فرقوں کی کم ازکم ہزار سال سے اس کے ساتھ نبرد آزمائی چلی آرہی ہے اور یہ جنگ برابر جاری رہے گی۔“

مغرب نے اپنی اس جنگ کو ٹیلی ویژن (کی ایجاد کے فوری بعد) سے منسلک کیا۔ اس سلسلے میں1885ءمیں ”خرطوم“ نامی ڈرامہ جو کہ لندن میں پیش کیا گیا ....اس کے ذریعے ”مہدی “کو اسلام کا غلط اور مکروہ کردار بناکر پیش کیا گیا۔” اے آئی ڈبلیو سونی “نامی انگریز نے”چاپر“نامی ناول لکھ کر اسلام کو ہدف تنقید بنایا۔ دوسری فلم ”دریائے نیل کی طغیانی“1955ءمیں جب کہ تیسری فلم مشرقی سوڈان کے نام سے 1964ءمیں بالترتیب زولنا گورڈا اور چارس شڈیڈ(دونوں یہودی) نے بنائی۔ چوتھی فلم”چاپر“1979ءمیں ’ فارمن راشوٹ ‘نے ’ ڈان شارپ ‘کی ہدایت کاری میں تیار کی ....در اصل ان چار فلموں کا بنیادی مقصد ہی یہی تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کی شخصیت مجروح کی جائے۔ جو ڈرامہ خرطوم کے نام سے1885ءمیں لندن میں پیش کیا گیا تھا ، اس کو فلمی صورت میں1962ءمیں تبدیل کردیاگیا اس فلم میں ایک ایسی قتل گاہ کا منظر پیش کیا گیا جسے مہدی سوڈانی کے پیروکاروں نے برطانوی فوجوں کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ خون ریزی‘ دشمنوں کے ناک کان کاٹنے کے منظر کو اس طرح دکھایاگیا ہے کہ مہدی کے سپاہی نعرہ تکبیر کے واشگاف نعرے بلند کررہے ہیں۔

اسلامی تاریخ کو قتل وغارت گری اور خون ریزی سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ ”جہاد“ کو دہشت گردی سے جوڑنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایاگیا۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی شاہ رخ خان کی ریلیز ہونے الی فلم(My Name is Khan) بھی ہے لیکن اس فلم میں جہاد کو انتہائی غیر محسوس انداز سے دہشت گردی سے جوڑا گیا ....اس سلسلے کے حوالے سے بعد میں بات کریںگے پہلے اس بات کا جائزہ لے لیں کہ کیا یہ اس طرح کی پہلی فلم ہے یا پہلے بھی اس قسم کی فلموں کے ذریعے اسلام اور جہاد کو عوام الناس کے سامنے کریہہ صورت میں پیش کیا جاتا رہا ہے!؟

1963ءمیں” لارنس آف عربیہ “نامی فلم بنائی گئی ، اس کو بنانے میں ” اشپیگل “اور ہدایت کار ”ڈیویڈ لیسن “تھے ۔ اس فلم میں عربوں کی حقیقی شخصیتوں کو (شاہ فیصل) بھی دکھایاگیا ، اس فلم میں عربوں کو احمق ‘جاہل‘ اجڈ‘ گنوار اور غلام کی حےثیت سے دکھایاگیا ہے ....بعض عربوں کو اس انداز سے دکھایاگیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو نہ صرف معمولی باتوں پر قتل کررہے ہیں بلکہ مہمانوں سے پیسوں کی وصولی کے بعد کھانا دیاجاتاہے ۔ آزادی واستقلال اور عزت نفس سے عربوں کو بے بہرہ دکھایاگیا ہے۔

ان فلموں میں مصر کی اخوان المسلمین کو دہشت گردوں کے گروپ کے طورپر دکھایاگیا ہے[ ان ہی مغربی فلموں اور ادیبوں سے متاثر ہوکر آج بے ضمیر اور قلم فروش قسم کے پاکستانی قلم کار بھی ”اخوان المسلمین “کو دہشت گرد گروپوں میں شمار کرتے ہیں۔] دوسری جنگ عظیم پر بننے والی فلموں میں بھی عربوں کا چہرہ مسخ کرکے اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی کہ عربوں نے جنگ میں غداری کا مظاہرہ کیا ....اور جو کوئی عربوں کو معمولی رقم یا لڑکی فراہم کرتا ....عرب اس کیلئے کام کرنے پر رضا مند ہوجاتے۔الجزائر سے متعلق دس فلمیں بنائی گئیں ، جس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ الجزائر مجاہدین راہزن‘مجرم‘ قاتل‘ چور اور لفنگے انسان ہیں جن کے لئے معصوم بچوں اور عورتوں کو قتل کرنا معمولی بات ہے اور جرائم کے بعد وہ مسجد میں نماز ادا کرنے جاتے ہیں۔

پروفیسر ” ڈگلس کیلز“ اور ” مائیکل رامان یان“ نے اپنی مشترکہ تصنیف میں لکھا ہے:”نسل پرستی کی رو سے عربوں کو دولت مند اور لالچی جماعت کی شکل میں پیش کیاجاتاہے تاکہ تماش بین کو یہ یقین ہوجائے کہ تمام اقتصادی بحرانوں کے ذمہ دار یہی متعصب اور دہشت گرد ”عرب “ہیں ....جو اپنی عیاشی کی خاطر یورپ اور امریکہ پر پیٹرول بند کرکے انہیں معاشی طورپر بحران میں مبتلا کرتے ہیں۔“
”میچ گرین فیلڈ “نے نیوز ویک میں لکھا ہے:”آئندہ ہم جو کچھ دیکھیںگے ....اس میں یقیناً عہد ماضی کا اعادہ کیاجائے گا اور اس بات کو دہرایاجائے گا کہ عرب دہشت گردی کے ذریعے مغربی قوموں کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔“

ان فلموں میں عرب خواتین کو جسم کا سودا کرنے والی رقاصاﺅں کے روپ میں پیش کیاجاتاہے ، ان کے لباس کو انتہائی عریاں بناکر پیش کیا جاتاہے ....مردوں کو بھی اس روپ میں پیش کیاجاتاہے کہ ان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ یورپی عورتوں کو اغواءکرتے پھریں۔
”احسان عبدالقدوس‘ ‘، ”احمد بہاﺅ الدین“ اور” محمد التابعی ونجیب “نے اپنی تصنیفوں ”ارجوک خذل من ہذا البرمیل اور”من از بیگانہ گاں ہر گز نہ نالم کہ بامن آنچہ کرد“ میں لکھا ہے :” مغربی فلموں اور ڈراموں میں اکثر وبیشتر پس منظر میں تیل کے کنویں اور دونوں ہاتھوں میں دولت کے انبار لئے عرب گھومتے پھرتے ہیں....عورتوں پر ہمیشہ شہوت سوار رہتی یا وہ ایسی رقاصہ ہوتی جس کا سوائے رقص وسرودکی محفلوں کے کوئی اور کام نہیں ہوتا۔

ایک فلم”تحفہ“ میں یہ بتایاگیاہے کہ عرب امراءشیوخ اپنے سفر پیرس میں اپنے ہمراہ درجنوں عورتوں کو لے جاتے ہیں پھر ان کو بڑے ہوٹلوں میں بند کردیتے ہیں خود یہ عرب پیرس کی طوائفوں کے ساتھ موج مستی کرتے ہیں جبکہ ہوٹل میں موجود خواتین ہوٹل کے بوڑھے ملازمین کے ساتھ بدکاری میں ملوث ہوجاتی ہیں۔

”میٹرو گولڈن کمپنی “جوکہ ایک یہودی کی ملکیت ہے....اس کمپنی نے بچوں کے ذہنوں میں عربوں کو گھٹیا انداز میں پیش کرنے کا منصوبہ بنایا اور ”پردار بلی“ نامی ایک فلم بنائی جہاں یہ فلم بچوں میں مقبول ہوئی....وہیں بڑی عمر کے لوگوں نے بھی اس فلم میں غیر معمولی دلچسپی دکھائی۔یہ کہانی ایک بلی کے گرد گھومتی ہے.... جوکہ کسی دور دراز سیارے سے آئی ہے، وہ بلی جس سیارے سے آئی ہے ....وہاں سب بلیاں رہتی ہیں اور یہ بلیاں بہت عقلمند ہوتی ہیں....بلی کے گلے میں پٹہ ہوتا ہے ....جس کی وجہ سے بلی میں غیر معمولی طاقت آجاتی ہے اور وہ ہر چیز پر قابو پالیتی ہے....بہت سے حادثات کے بعد ایک ”امریکی دانشور “یہ کوشش کرتا ہے کہ بلی کے پٹے کو کسی مفید کام کیلئے استعمال کیا جائے۔


عالمی وبھارتی میڈیا کی مسلم دشمنی
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,692
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 70
Reply With Quote
ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
php, ہندو, پاکستانی, لڑکی, لندن, نیوز, چور, نماز, موجودہ, منصوبہ, مسجد, آج, انسان, امریکہ, اسلام, بچوں, خون, خواتین, خان, سفر, سیارے, سودا, عہد, عزت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کس کس طرح سے چکر چلاتی ھیں بیویاں The Great مزاحیہ شاعری 46 05-10-09 12:12 PM
بھارتی میڈیا اور اردو زبان کی ایک نئی شکل طارق راحیل خبریں 0 23-02-09 09:07 PM
مزاحیہ اداکار کاشف خان کو بھارتی میڈیا کا خراج تحسین محمدعدنان فن و فنکار 0 30-10-08 07:21 AM
پاکستان میں میڈیا کی آزادی کیلئے عالمی تنظیم نے 10/نکاتی منصوبہ تجویز کردی عبدالقدوس خبریں 0 18-04-08 07:50 AM
میڈیا پر پابندی، نیا صدارتی حکم زبیر گپ شپ 6 06-09-07 03:03 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:14 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger