واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


عالمی یوم خواتین

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-03-09, 03:38 PM   #1
عالمی یوم خواتین
ابن جلال ابن جلال آف لائن ہے 08-03-09, 03:38 PM

تاریخی پس منظر

8 مارچ دنیا بھر میں‌ عورتوں کی اپنے حقوق کے حوالے سے جدوجہد کی علامت ہے اور اسے عورتوں کی عالمی تحریکوں‌میں‌ ایک اہم مقام حاصل ہے ۔ اس دن کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ 8 مارچ 1907ء کو نیو یارک (امریکہ) کی لباس سازی کی صنعت سے وابستہ سینکڑوں کارکن عورتوں نے مردوں‌کے مساوی حقوق اور بہتر حالات کار کے لیے زبردست مظاہرہ کیا۔ ان کا نعرہ تھا ’’دس گھنٹے کام کے عوض ہمیں اچھی تنخواہیں دو‘‘۔ پولیس نے ان عورتوں پر لاٹھی چارج کیا۔ پولیس والے گھوڑوں پر سوار تھے اور زخمی عورتوں کو گھوڑوں کے ساتھ گھیسٹ رہے تھے۔ کئی عورتوں کو گرفتار کرکے جیل میں‌ڈالا گیا ۔ پھر 8 مارچ 1908ء ہی کو نیا یارک میں سوئی سازی کی صنعت کی کارکن عورتوں نے ووٹ کے حق اور بچوں کی جبری مشقت کے خاتمے کے لیے مظاہرہ کیا۔ ان کے جلوس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور زخمی حالت میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔
1910ء میں معروف سماجی کارکن راز ٹیکن نے ایک بین الاقوامی فورم میں‌سفارش کی کہ 8مارچ1907ء اور 1908ء میں‌اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی عورتوں‌کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہر سال 8 مارچ کو عورتوں کا عالمی دن منایا جائے تاکہ کہیں عورتوں کے خلاف نا انصافیوں ، جبر و استحال اور ان کے حقوق کی نفی ہو وہاں‌اس دن عورتیں پوری دنیا میں‌اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں اور اس طرح حکومتیں‌بھی عورتوں‌کے مسائل کی طرف توجہ دیں۔ کلا راز ٹیکن کی اس سفارش کو سراہا گیا اور 8 مارچ عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ کی تشکیل کے لیے عورتوں کی جدوجہد کے دن کے طور پر منایا جانے لگا۔


------
عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے کوئٹہ میں‌بھی مختلف سرکاری وغیر سرکاری اداروں اور تنظیموں‌کی جانب سے تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔


صوبائی وزیر راحیلہ درانی نے کہاہے کہ خواتین کو حقوق دلانے کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ وہ کوئٹہ کے مقامی میںبلوچستان جینڈرنیٹ ورک کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ سیمینارسے خطاب کررہی تھیں۔ راحیلہ درانی نے کہا کہ عورت کو اسلام میں تمام حقوق اور بلند مقام حاصل ہے ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے خواتین کو ان کے حقوق دینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب اسلام تما م مرد و خواتین پر تعلیم فرض ہے لیکن ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو تعلیم کے حصول میں سخت مشکلات کا سامنا ہے جنہیں دور کرنے کے لیے ہم سب کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ترقی یافتہ ممالک کی نسبت خواتین پر تشدد کی شرح کم ہے تاہم خواتین پر تشدد کے واقعات کی مکمل روک تھام کے لیے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔راحیلہ درانی نے کہا کہ معاشرے میں انصاف نہیں، سچ کہنا مشکل ہوگیا ہے اور 99فیصد عوام کو انصاف کی امید نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ لیڈر شپ کی کمی کے باعث ملک بحرانوں کا شکار ہے۔سیمینار سے مہمان مہمان خاص وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر شاہدہ جعفری، سابقہ سینیٹر روشن خورشید بروچہ، زیب النساءغرشین و دیگر نے بھی خواتین کی ترقی اور ان پر تشدد کے خاتمے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو خواتین کے خلاف نا انصافیاںاور جبر و استحصال کے خلاف متحد ہوکر آواز بلند کرنی چاہیے ، انہوں نے کہا کہ حکومت بھی خواتین کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دینی چاہیے۔سیمینار کے شرکاءکو بتایاگیا کہ بلوچستان جینڈر نیٹ ورک صوبے میں جینڈر (مرد و خواتین کا معاشرتی کردار) کے حوالے سے سر گرم ہے اور اس سلسلے میں آگاہی اور تربیت کی مختلف سرگرمیوں کے ذریعے عوام میں شعور اور ذمہ داریوں کا احساس پیدا کررہا ہے ۔بلوچستان جینڈر نیٹ ورک کے ممبر ارکان ایک ہنر ایک نگر (آہن )،دانش، بیج، بی آر ایس پی، کنسرن ورلڈ وائڈ،سی آر ایس، فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن پاکستان، آئی ڈی او، پی آئی ڈی ایس، روٹری کلب، آر ڈی ایچ آر ، سنجوگ پاکستان ،سیو دی پور، سحر، ایس ایم اے آرٹی، ویس اور تعمیر فاﺅنڈیشن شامل ہیں ۔ اس موقع پرفیملی پلاننگ ایسوسی ایشن کی جانب سے ٹیبلو پیش کیا گیا جبکہ سیمینار کے اختتام پر دستکاری، ملبوسات اور دیگر گھریلو اشیاءکی نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس موقع پر مختلف تنظیموں کی جانب سے اسٹائلز لگائے گئے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عورت فاﺅنڈیشن اور ہوم نیٹ پاکستان کے زیر اہتمام ایک روزہ سیمینار منعقد ہوا جس کی مہمان خصوصی محترمہ رقیہ ہاشمی تھیں ، سیمینار کا مقصد خواتین کے حقوق کی اہمیت کو اجاگر کرنا ، ان پر ہونے والے ریاستی، معاشرتی اور سیاسی تشدد کی روک تھام کے لیے سول سوسائٹی تنظیموں کے ساتھ مل کر آواز بلند کرنا اور اس کی مذمت کرنا، مزید خواتین کونسلرز اور سیاسی پارٹیوں سے وابستہ خواتین کو آنے والے بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے لیے متحرک کرنا اور خواتین بحیثیت ووٹرز رجسٹریشن اور نئے شناختی کارڈوں کے حصول کو یقینی بنانا بھی سیمینار کا ایک مقصد تھا۔اس تمام عمل میں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نادرا کی مدد سے خواتین کو درپیش مسائل کی نشاندہی او ووٹرز رجسٹریشن اور شناختی کارڈ کے حصول کو آسان اور سہل بنانے کی عملی کوشش کرنا ۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر رقیہ ہاشمی نے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ خواتین کے حقوق کے حصول کے لیے تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو کردار ادا کرنا ہوگا اور کہا کہ حقوق استعمال کرنے کے طریقے آنے چاہیے اور خواتین کی وسائل تک رسائی ضروری ہے ۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عامر علی پروگرام آفیسر عورت فاﺅنڈیشن نے فاﺅنڈیشن کے آغاز ، مقاصد اور مختلف سرگرمیوں پر روشنی ڈالی ۔ ہوم نیٹ پاکستان کی کوارڈینیٹر محترمہ صائمہ ہارون نے عورتوں کے بین الاقوامی دن کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ مارچ دنیا بھر میں عورتوں کے اپنے حقوق کے حوالے سے جدوجہد کی علامت ہے اور اسے عورتوں کی عالمی تحریکوں میں ایک اہم مقام حاصل ہے انہوں نے بتایا کہ دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں عالمی دن کی اہمیت کو ابھارنے میں پاکستانی عورتوں کی تحریک نے اہم کردار ادا کیاہے اوریہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے اس سال کا عالمی موضوع ”مرد اور عورت کا عورتوں اور بچیوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف متحد ہونا“ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم صرف پاکستان پر نظر ڈالیں تو ایک سال (2008ء)میں 7733تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جس کی روک تھام کے لیے ہم سب نے اپنی اپنی سطح پر کام کرنا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے سے معاشی تشدد کو بھی روکنے کے لیے ضروری ہے کہ غیر رسمی شعبے میں خواتین کے کام کا شمار کیا جائے اور غیر رسمی شعبہ میں کام کرنے والی ہوم بیسڈورکرز کو ورکر تسلیم کیا جائے اور ان کے حوالے سے لیبر قوانین میں ترامیم لائی جائیں ،انہیں قانونی معاشی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا بہت ضروری ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کے لیے قومی پالیسی تشکیل دینا اور اس پر عملدرآمد کرنا ضروری ہے ۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عورت فاﺅنڈیشن کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر محمد ہارون داﺅد نے خواتین ووٹرز کو محترک کرنے کے حوالے سے بتایا کہ جب ہم خواتین کے عالمی دن کی بات کرتے ہیں تو یہ بہت ضروری ہے کہ خواتین سے منسلک تمام سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق کا احاطہ کرتے ہوئے ان حقوق کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ انہوں نے کہا کہ عورتوں سے ان کے ووٹ کا حق چھیننا سیاسی تشدد کی ایک مورثہ ہے کیونکہ اس طرح ان کی سیاسی عمل میں شرکت ممکن نہیں ہوتی اور اس کا ازالہ اس وقت ممکن ہے جب ہم ملکر خواتین کو ووٹر رجسٹریشن اور شناختی کارڈ بنوانے کے عمل میں نہ صرف انہیں متحرک کریں بلکہ شعور آگاہی بھی فراہم کریں جو کہ ہم سب کا ایک قومی فریضہ ہے ۔ سیمینار سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے نمائندہ شاکر خان نے ووٹرز رجسٹریشن کے حوالہ سے مکمل معلومات فراہم کیں جس میں شرکاءنے دلچسپی لی اور سیمینار میں موجود خواتین کونسلرز اور سیاسی کارکنوں نے اس حوالے سے تجاویز پیش کیں ۔

http://www.dailydunya.com/today/dunya_titles/2.gif

Attached Thumbnails
12.jpg  


 
ابن جلال's Avatar
ابن جلال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 858
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ابن جلال کا شکریہ ادا کیا
champion_pakistani (08-03-09), رضی (08-03-09)
پرانا 08-03-09, 07:06 PM   #2
محسن
 
champion_pakistani's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2007
مقام: چاندنی چوک
عمر: 24
مراسلات: 1,857
کمائي: 19,110
شکریہ: 684
655 مراسلہ میں 1,175 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عالمی یوم خواتین

آپ کا بہت بہت شکریہ ،
champion_pakistani آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 08-03-09, 07:06 PM   #3
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,081
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عالمی یوم خواتین

عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے ادارہ ثقافت بلوچستان کے زیر اہتمام بلوچستان کی خواتین فنکاروں کی بنائی ہوئی پینٹنگز اور سپکلچرز کی نمائش ہوئی ۔ تقریب کی مہمان خصوصی(نام یاد نہیں آرہا ہے ، یونیورسٹی کی کوئی خاتون پروفیسر تھیں) نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی خواتین قابلیت اور ہنر کے حوالے سے کسی سے کم نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پینٹنگز جذبات اور خیالات کے اظہار کا خاموش ذریعہ ہے اور صوبے بلوچستان کی باصلاحیت خواتین نے بڑی خوبصورتی سے خواتین کو معاشرے میں درپیش مسائل کو اپنے فن کے ذریعے اجاگر کیا۔ تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور فنکاروں کی کوششوں کو سراہا۔
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 08-03-09, 07:07 PM   #4
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,081
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عالمی یوم خواتین

موجودہ دور کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں خواتین کو بھر وسائل فراہم کرنا ہوں گے ۔ان خیالات کا اظہار سابق سینیٹر اور سابق صوبائی وزیر مسز روشن خورشید بروچہ نے گرلز گائیڈ بلوچستان کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار سے بیگم عظمت حسن بلوچ، محترمہ آمنہ خان، مسز ڈاکٹر آفتا ب عالم، مس ماجبین شاہ اور حامد الکریم ایڈیشنل سیکرٹری سماجی بہبود و دیگر نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ عورتوں کے حقوق کے احترام کو یقینی بنایا جائے کیونکہ عورت بحیثیت ماں بیٹی اور بیوی کے ساتھ ساتھ دیگر قابل احترام حیثیتوں سے بھی ہمارے معاشرے میں بلند مقام رکھتی ہیں۔ مقررین نے کہا کہ سرکاری و غیر سرکاری سطح پر خواتین کی تعلیم و تربیت کے لیے مزید موثر اقدامات کی ضرورت ہے اور یہ خوش آئند بات ہے کہ بلوچستان کی مضبوط روایات میں عورتوں کو جائز مقام دینے کے سب حامی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وومن شیڈ کے زیر اہتمام کوئٹہ میں خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب سے ممتازشاعرہ ناظمہ طالب،ساجدہ قریشی، سید عین اختر نقوی، عالی سیدی ،شیخ فرید ،واحد خان ، پی پی پی یوتھ وونگ کی رہنماءفائمہ ملک و دیگر نے خطاب کیا ۔مقررین نے کہا کہ عورت کے بغیر معاشرہ نا مکمل ہے لیکن یہ افسوسناک امر ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو معاشی، معاشرتی ،تعلیمی اور دیگر پابندیوں کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہ اسلام خواتین کے حقوق کا محافظ ہے ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر خواتین کے حقوق کا احترام کرنا چاہیےے ۔ انہوں نے کہا کہ عورتوں کو زندہ دفنانے پر صرف پانچ سال جبکہ بچے کو روٹی چرانے کی سزا دو سال ملتی ہے ، معاشرے میں انصاف نہیں۔انہوں نے امر کی ضرورت پر زور دیا کہ خواتین کے خلاف نا انصافیوں ، تشدد ،جبر و استحصال کے واقعات کے رو ک تھام کے لیے عوام میں شعور پیدا کیا جائے۔
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 08-03-09, 07:34 PM   #5
محسن
 
champion_pakistani's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2007
مقام: چاندنی چوک
عمر: 24
مراسلات: 1,857
کمائي: 19,110
شکریہ: 684
655 مراسلہ میں 1,175 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عالمی یوم خواتین

بہت بہت شکریہ ،
champion_pakistani آف لائن ہے   Reply With Quote
champion_pakistani کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جلال (09-03-09)
پرانا 09-03-09, 03:40 PM   #6
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,661
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عالمی یوم خواتین

بہت بہت شکریہ زین۔--
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جلال (09-03-09)
جواب

Tags
فورم, فرض, کوئٹہ, پولیس, پاکستان, پاکستانی, واقعات, وزیر, مکمل, ممکن, مسائل, معاشرہ, آج, امریکہ, اسلام, اسلامی, بچوں, جیل, جواب, حل, خواتین, خلاف, خان, روزہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
خواتین کی ڈرائیونگ فیصل ناصر گپ شپ 3 03-01-10 10:26 PM
::: امریکا :مسلم کمیونٹی تین مختلف دن عیدالاضحی مناے گی ::: ابو کاشان خبریں 3 27-11-09 02:47 PM
8 مارچ۔ عالمی یوم خواتین اور زمینی حقائق راجہ اکرام گپ شپ 4 11-03-09 09:15 AM
مظفر آباد:لینڈ سلائیڈنگ کے باعث تین مکانات تباہ عبدالقدوس خبریں 0 15-06-08 08:14 PM
ایشیا ئی ٹریڈنگ کے دوران خام تیل کی قیمت میں اضافہ ابن ضیاء خبریں 0 08-01-08 12:18 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:07 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger