|
عدالتی بحران کا حل:ق لیگ کی درمیانی راہ نکالنے کی منصوبہ بندی

15-12-07, 07:56 AM
اسلام آباد( طارق بٹ) مسلم لیگ (ق) معزول ججوں کے بحران کا حل نکالنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جس کے لئے ایسی درمیانی راہ نکالی جائے گی جو صدر پرویز مشرف اور جج دونوں قبول کر لیں۔ یہ انکشاف ایک سینئر پارٹی رہنمانے دی نیوز سے گفتگوکے دوران کیا۔ مسلم لیگ ق کے ایک اور رہنما نے گزشتہ شب ایک سفارتی عشاےئے میں اس نامہ نگار کو بتایاکہ معزول ججوں کا معاملہ آئندہ حکومت کیلئے ” بڑا اور خطرناک تسلسل“ ہوگا اور اس کے حل کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے سیاسی نظام کیلئے یہ کرنا اور اس سے سرخرو ہوکرنکلنا پہلا ٹاسک ہوگا جس میں صدر کے موقف کا بھی خیال رکھا جائے“ انہوں نے امیدظاہرکی کہ 8جنوری کے انتخابات کے نتیجے میں آنیوالی نئی حکومت صدر پرویز اور اعلیٰ عدلیہ کے معزول ججوں کے درمیان معاملات بڑی حد تک حل کرے گی۔مسلم لیگ ق کے سرکردہ رہنما جو اپنے اتحادیوں کی حمایت سے آئند ہ مرکزی حکومت بنانے کیلئے پر امید ہیں نے دی نیوز کو بتایا کہ ”مرکزی صدر کیلئے پیچھے نا ممکن سا ہے مگر آئندہ حکومت کیلئے ایسا مشکل نہیں ہوگا“لیگی رہنما نے کہا کہ ” مشرف نے ٹھوس وجوہات پر معزول ججوں کے معاملے پرسخت موقف اختیار کیا اور ان کے پیچھے ہٹنے سے انہیں شدید نقصان پہنچے گا اور وہ خطرناک حدتک کمزور پڑ جائیں گے“ انہوں نے تسلیم کیا کہ نئی حکومت کو وکلاء معزول ججوں اور صدر کے درمیان موجود محاذ آرائی کی صورتحال کوزیادہ دیر تک برقرار رکھنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ ورنہ اس سے نئے سیاسی نظام کی بدنامی ہوگی قطع نظر اسکے کہ کون حکومت بناتا ہے۔ مسلم لیگ ق کے رہنما نے امیدظاہرکی کہ درمیانی راستہ تلاش کرنا ممکن ہے۔جو معزول ججوں اور وکلاء کو بھی قابل قبول ہو چاہے اس کیلئے معزول ججوں کی بحالی کا اقدام بھی اٹھانا پڑے وہ اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ معزول چیف جسٹس اور دوسرے ججوں کو زیادہ عرصہ تک گھروں میں نظر بند نہیں رکھا جاسکتا۔” انہیں جلد یا بدیر رہا کرنا ہوگا جب انہیں آزاد کیا جائیگا وہ صدر کیخلاف مہم کیلئے نکل پڑیں گے اس لئے جتنا جلدی ممکن ہو معاملہ طے کر لیا“ مسلم لیگ کے رہنما نے کہا کہ اگر ڈیڈ لاک برقرار رہا تو یہ آئندہ حکومت کو کمزور کر سکتا ہے یا ہلا سکتا ہے اس سے انکی پارٹی کو پہلے ہی نقصان ہو چکا ہے جب وہ الیکشن میں جارہے ہیں انہوں نے کہا آئندہ الیکشن میں اپوزیشن کے طور پر سامنے آنیوالی سیاسی پارٹیاں خصوصاً مسلم لیگ ن اور الیکشن کا بائیکاٹ کرنیوالے احتجاجی وکلاء کے ساتھ مل جائیں گے اور نئی حکومت کیلئے مشکلات پیدا کریں گے ایسی صورتحال جس میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس میں وکلاء کے احتجاجاً حاضر نہ ہونے کے باعث عدالتی کام ٹھپ ہوجائے کے غیرمعینہ مدت تک برقرار رہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مسلم لیگی رہنما نے کہاکہ یہ خلاف عقل ہوگا کہ معزول ججوں کو غیرمعینہ مدت تک گھروں میں محصور رکھا جائے انہوں نے تسلیم کیا کہ گھروں میں نظربند رکھنے سے وکلاء اور سماج کے دوسرے طبقات جو 3نومبر سے پہلے والی عدلیہ کی بحالی چاہتے ہیں کا غصہ دور نہیں ہورہا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء دوبارہ سڑکوں پراحتجاج کرنا چاہتے ہیں جس طرح انہوں نے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی معطلی کے دوران 9مارچ اور 20جولائی کے درمیان کیا تھا اور وہ اپنی جاری جدوجہد کا ویسا ہی نتیجہ چاہتے ہیں انہوں نے مزید کہاکہ ” لیکن اس طریقے سے تلاش مشکل ہو جائے گی اگر احتجاج کرنیوالوں نے لچک نہ دکھائی“۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|