واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


عدالتی فیصلے کے خلاف پی پی کی سندھ میں ہڑتال، ملکی وحدت سوالیہ نشان بن گئی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-03-11, 06:56 AM   #1
عدالتی فیصلے کے خلاف پی پی کی سندھ میں ہڑتال، ملکی وحدت سوالیہ نشان بن گئی
گلاب خان گلاب خان آن لائن ہے 11-03-11, 06:56 AM

کراچی(ٹی وی رپورٹ)بے نظےر بھٹو کے قتل کے بعد کیا آج وہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے کو چیئرپرسن آصف علی زرداری نے سندھ کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور کیا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جو صف بندی ہورہی تھی اور ٹینشن اس حدتک بڑھ گئی ہے کہ آج پی پی پی نے سندھ میں ہڑتال کی کال دی ہے اور اگر پیپلزپارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنا تھا تو انہوں نے پورے ملک میں کیوں ہڑتال کی کال نہیں دی ؟ اس فیصلے سے ملکی وحدت کو کیا نقصان ہوگا پاکستان پیپلزپارٹی کو کیا نقصان ہوگا اور کیا انہیں یہ ہی کارڈ استعمال کرنا چاہئے تھا یا انہیں پورے پاکستان کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے تھا ۔ ان خیالات کا اظہارایک ٹی وی پروگرام میں میزبان ابصارعالم نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد پیداہونے والی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا ہے۔اس پورے واقعے پر سابق صدر سپریم کورٹ بار حامد خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑی افسوسناک بات ہے کہ صف بندی کی کوشش کی جارہی ہے ۔یہ تو ایک فیصلہ ہے جو سپریم کورٹ نے دیا ہے ۔ یہ ایک فیصلہ جو سپریم کورٹ نے دیا ہے لیڈر آف دی اپوزیشن کی پٹیشن پر دیا ہے۔ حامد خان نے کہا کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے ساری بحث سننے کے بعد دیا ہے کہ یہ تقرری آئین کے مطابق نہیں تھی ۔ حامد خان نے مزیدکہا کہ یہ حکومتی جماعت کا فرض ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کرائے ، نہ کہ اس کے خلاف احتجاج کیا جائے یا ریلیاں نکالی جائیں ۔ حامد خان نے مزید کہا کہ یہ اقدام عدلیہ کے ساتھ تعاون نہ کرنے کی بات ہے، عدلیہ کے ساتھ تصادم کرنے کی بات ہے ۔ حکومت کا تویہ کام ہوتا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرائے ، جبکہ حکومتی پارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہڑتال کی کال دے دی۔ اس سوال پر سیکریٹری اطلاعات پی پی پی قمر زمان کائرہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں ۔ فیصلے بعد اس کے اثرات اور مضمرات پر عدالت کے اندر اور باہر مباحثے ہوتے رہتے ہیں ، قمر زمان کائرہ نے کہا کہ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے ۔ پولیٹیکل پارٹی اپنا موقف دیتی رہتی ہے ۔ قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ ہم نے عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار کردیا ہوتا یا وفاقی حکومت اس سے متعلق کوئی بات کرتی تو کوئی ا ور بات تھی ۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ لوگوں کے خلاف عدالت کے فیصلے آئے تو سپریم کورٹ کے اوپر حملہ کرلیا گیا جب کہ ہمارے پولیٹیکل جوڈیشل قتل ہوئے ، ذوالفقار علی بھٹو شہید کا جوڈیشل مرڈر کیا گیا ہم نے اس فیصلے کو مانا تو نہیں ہے لیکن ہمارے ساتھ تو یہ بھی ظلم ہوئے ہم نے اس پر بھی احتجاج کیا تھا ۔ قمرزمان کائرہ نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے بعد نکتہ نظر دینا ، ججز بھی کرتے ہیں اور وکلاءاور پولیٹیکل پارٹی بھی کرتی ہے اگر ہم عدالت کے فیصلے سے انحراف کرتے اور جج صاحب کو کہتے کہ آپ اپنا عہدہ نہ چھوڑے تو پھر اور بات تھی ۔ اس سوال پر کہ پورے پاکستان میںہڑتال کی کال نہیں دی گئی،قمرزمان کائرہ نے کہا کہ ہم عدالتوں کے ساتھ تضادیا تصادم کی طبیعت والے نہیں ہیں ۔ ہم عدالت کی بحالی کی تحریک میں حصہ لینے والے تھے ۔ اس بات پر کہ Swissکورٹ کے فیصلے پر ہم عمل درآمد نہیں کررہے تو ہم نے Swissکورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے اور پاکستانی قانون کے مطابق وہ سو فیصد درست ہے جب عدالت فیصلہ دے گی تو اس کو ہم دیکھیں گے ۔ قمرزمان کائرہ نے کہا کہ ہمیں ہر دور میں پنجاب میں زیادہ ووٹ ملے ہیں ہم کوئی صوبائی سیاست نہیں کرتے یہ سندھ کارڈ کا ہمارے خلاف ضیاءالحق کے دور میں ایک منفی پروپیگنڈا کیا گیا ۔ صوبائی وزیر اور عوام نیشنل پارٹی کے رہنما بشیر بلور نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ میں ہڑتال پر عوامی نیشنل پارٹی کی سپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہڑتال پیپلزپارٹی کی طرف سے ہے ، حکومت کی طرف سے نہیں ۔ بشیر بلور نے کہا کہ یہ پارٹی کا حق ہے ۔ اگر اس معاملے پر پارٹی کو کوئی تکلیف پہنچی ہے ۔ بشیر بلور نے کہا کہ جمہوریت نام ہی اس کا ہے کہ آپ بات بھی کریں، احتجاج بھی کریں اور اپنا موقف لوگوں کے سامنے لائیں ۔ جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ نے اس سوال پر کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر پیپلزپارٹی کے اگر کچھ لوگ احتجاج کررہے ہیں، کہا کہ اس سے زیادہ غیر آئینی بات کیا ہے کہ آپ عدلیہ کے ایک پورے ادارے کو تسلیم نہیں کررہے اور اس کے فیصلے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں، لوگوں کو سڑکوں پر لارہے ہیں۔ فرید پراچہ نے یہ کہا کہ اس معاملے پر2قانونی معاملات تھے اس پر قائد حزب اختلاف سے مشورہ کیا گیا نہ وزیراعظم سے کہا گیا ، وزیراعظم کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ مجھ سے بھی کوئی مشورہ نہیں کیا گیا ۔ فرید پراچہ نے کہا کہ اس میں قانونی گیپ ہے اور یہ معاملہ نیب سے متعلق ہے اور صدر کے کیس نیب سے متعلق ہے ۔فرید پراچہ نے مزید کہا کہ اگر آزاد عدلیہ اگر فیصلے کرتی ہے تو آپ آزاد عدلیہ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے اور یہ کریڈٹ بھی لینا چاہتے ہیں کہ ہم نے عدلیہ کو آزاد کیا ہے اور ججوں کو بحال کیا ہے ۔ اس سوال پر کہ آزاد عدلیہ یہ کہہ رہی ہے کہ فیصلہ غیر آئینی ہے اور نہ ہی وزیراعظم اور نہ قائد حزب اختلاف سے مشاورت کی گئی ہے جوکہ قانونی طور پر ضروری ہے۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہم نے عدالت کا فیصلہ مان لیا اس پر عمل درآمد ہوگیا ، نیب کے چیئرمین نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا ، اگر جماعت کا کوئی حصہ اپنا موقف دیتی ہے تو یہ کون سا غیر آئینی اور غیر جمہوری کام ہوگیا ۔ قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ ہم کون سا عدالتوں کو انکار کررہے ہیں ۔ نیب کے چیئرمین کو دوبارہ نیب کے چیئرمین لگانے کی تیاری ہورہی ہے،کے سوال پر قمر زمان کائرہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئینی طور پر یہ ممکن ہے تو شاید ایسا ہوسکے اور شاید نہ بھی ہو ۔ قمرزمان کائرہ نے سوئس کورٹ کے کیس کے فیصلہ پر وضاحت سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلہ کیلئے پاکستان کی ہائی کورٹ کے اندر اس وقت کی نیب کے چیئرمین اور وزیراعلیٰ کی گفتگو منظر عام ہے ۔ قمر زمان قائرہ نے سوئس کیس سے متعلق مزید کہا کہ سوئس اٹارنی جنرل نے باقاعدہ میرٹ پر کیس ختم کیا ہے اور کوئی عدالتی فیصلہ نہیں ہوا ۔ ڈی جی ایف آئی اے کے متعلق فیصلہ پر عمل درآمد نہیں کیا، قمر زمان کائرہ نے کہا کہ وہ ایک سرکاری ملازم ہے ان کو نوکری کیلئے پاکستانی قانون کے مطابق تحفظ حاصل ہے، اس پر عدالت نے کہا کہ فلاں کیس ان کو نہ دیئے جائیں تو وہ واپس ہوگئے ۔ آج نیب کے چیئرمین کے خلاف فیصلہ آیا تو اس وقت انہوں نے اپنا آفس چھوڑ دیا ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ بشیر بلور نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے خدائی فیصلے ہیں تو پھر عدالت نے ایوب خان ، یحییٰ خان ، ضیاءالحق اور مشرف کو بھی استثنیٰ دی تھی تو پھر ہم کیوں تنقید کرتے ہیں ، جب فیصلہ ہوجائے تو بات کرنے کا ہر ایک کو حق ہے کہ وہ غلط ہے یا ٹھیک ہے اگر جسٹس دیدار کا دوبارہ تقرر کیا جاتا ہے اور اگر سپریم کورٹ اس کو قبول کرتی ہے کہ وہ دوبارہ کورٹ میں جاکر نظر ثانی کریں تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (نواز ) کے رہنما خواجہ آصف نے اس سوال پر کہ سندھ میں ہڑتال اور صدر زرداری نے سندھ کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کرلیا ہے کہا کہ اگر آپ پچھلے دنوں میں ذوالفقار مرزا نے یہ فرمایا کہ اگر ہم نے پی پی پی کو اگر پنجاب سے نکالا گیا تو ہم مسلم لیگ ن کے سندھ کے دفاتر کراچی سے لے کر سندھ تک جلادیں گے ، خواجہ آصف نے کہا کہ پیپلزپارٹی آج اپنے رنگ دکھارہی ہے۔
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,497
شکریہ: 1,550
2,973 مراسلہ میں 8,226 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 129
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (11-03-11), مرزا عامر (11-03-11)
پرانا 11-03-11, 10:05 AM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,854
کمائي: 278,151
شکریہ: 1,155
6,270 مراسلہ میں 14,160 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلامُ علیکم

عدالت کے فیصلوں کو مانتا کون ہے ایساہوتا تو آج ہمیں بھی انصاف مل چُکا ہوتا۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-03-11, 10:09 AM   #3
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,510
کمائي: 52,509
شکریہ: 5,869
3,229 مراسلہ میں 6,948 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تو کیا آپ ثوروں ڈاکئوں سے انصاف کی توقع رکھیتے ہیں
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا گیا
فرحان دانش (11-03-11)
جواب

Tags
فرض, کورٹ, کارڈ, کراچی, پاکستان, پاکستانی, وزیر, وزیراعظم, نوکری, نظر, ممکن, آج, احتجاج, اسلامی, خلاف, خان, درخواست, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, زرداری, سپریم, سیاست, علی, عدالت, صدر زرداری


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ن لیگ لانگ مارچ چاہتی ہے، انہیں رائیونڈ چھوڑ کر آئینگے:پی پی پنجاب گلاب خان خبریں 0 02-03-11 04:25 AM
پی پی کو نکال کر یونیفکیشن بلاک کو پنجاب حکومت میں شامل کرنیکا فیصلہ گلاب خان خبریں 0 24-02-11 04:53 AM
ن لیگ نے پنجاب میں پی پی کو حکومت سے علیحدہ کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا گلاب خان خبریں 0 20-02-11 05:27 AM
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری کےلئے ن اور ق لیگ کی عدالتی کمیشن کی حمایت، پی پی کی مخالفت گلاب خان خبریں 0 16-12-10 04:04 AM
باب : اس بارے میں کہ کبھی ظہر کی نماز عصر کے وقت تک تاخیر کر کے پڑھی جا سکتی ہے ھارون اعظم صحیح البخاری 0 26-04-10 10:27 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:20 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger