مسودہ قانون قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا جسے آئندہ اجلاس میں منظور کرایا جائےگا‘ حکومت نے 2007ء کی ایمرجنسی میں پیمرا آرڈیننس میں کی گئی 2ترامیم کو برقرار رکھا اور ایک نئی تیسری ترمیم شامل کردی
برقرار رہنے والی 2ترامیم میں خودکش بمباروں اور دہشتگردی کا نشانہ بننے والوں کے اجسام کے ویڈیو مناظر‘انتہا پسندوں کے بیانات پر پابندی ہوگی‘ قومی سلامتی کے خلاف پروگرام نشر نہیں کرینگے
اسلام آباد (طاہر خلیل) عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر ٹی وی ٹاک شوز پر زیربحث لانے پر پابندی کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ خلاف ورزی کرنے والے کو ایک کروڑ جرمانہ‘ تین سال قید ہوگی۔ اس سلسلے میں مسودہ قانون قومی اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کر دیا گیا ہے۔ اب یہ بل قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں منظور کرایا جائے گا۔ حکومت نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) آرڈیننس 2002 میں مشرف دور میں 3 نومبر 2007 کی ایمرجنسی میں کی گئی دو ترامیم کو برقرار رکھا ہے اور بل میں ایک نئی تیسری ترمیم شامل کر دی گئی ہے۔ 3 نومبر 2007 کو جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کر کے الیکٹرانک میڈیا پر پابندیاں عائد کر دی تھیں سپریم کورٹ نے مشرف دور کی ایمرجنسی اور اس دور میں نافذ العمل آرڈیننسز اور تمام آرڈرز کالعدم قرار دے دیئے تھے، مگر موجودہ حکومت نے ایمرجنسی دور میں نافذ کی گئی دو ترامیم کو پیمرا آرڈیننس میں برقرار رکھا ہے جس کے ذریعے خودکش بمباروں، دہشت گردوں، دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کے اجسام کے ویڈیو مناظر، عسکریت پسندوں اور انتہا پسند عناصر کے بیانات اور اعلانات، نیز کوئی دوسرا فعل جو کسی طور پر دہشت گردی کو فروغ دے اس میں مدد دے یا رعایت کرے نشر کرنے پر پابندی ہو گی۔(2) تمام نشریاتی ادارے اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ کسی ایسی رائے یا فعل کی کسی طور پر تشہیر نہیں کی جائے گی جو نظریہ پاکستان یا پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ، قومی سلامتی، یکجہتی اور خود مختاری کے خلاف اور نشریاتی ادارے تشدد یا نفرت آمیز کوئی پروگرام نشر نہیں کریں گے۔ ریاستی اداروں کے خلاف ہتک آمیز مواد نشر نہیں کریں گے اب اس میں حکومت نے ایک نئی شق کا اضافہ کر دیا ہے جس کے ذریعے عدالتوں میں زیر سماعت معاملات پر ٹاک شوز کے ذریعے اظہار خیال کی پابندی عائد کر دی جائے گی۔ نئی ترمیم میں کہا گیا ہے کہ ”نشریاتی ادارے کوئی ایسا پروگرام یا بحث مباحثہ نشر نہیں کریں گے جس کا مقصد کسی ایسے معاملے پر رائے دینا یا اثر انداز ہونا ہو جو عدالت میں زیر سماعت ہیں“ اور جو شخص بھی آرڈیننس کی کسی دفعہ کی خلاف ورزی کرے گا یا خلاف ورزی میں معاونت کرے گا اسے ایک کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا ہو گی اور کیبل سروس فراہم کرنے والوں کو خلاف قانون مواد نشر کرنے میں معاونت فراہم کرنے کے الزام میں تین سال قید، جرمانے یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔اس بل میں حکومت نے جو اغراض و مقاصد بیان کئے اس میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے 29 مارچ 2008 کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا متفقہ ووٹ لینے کے بعد ایوان کے اندر اپنا پہلا پالیسی بیان دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ نئی حکومت میڈیا پر پابندیوں اور ہتھکنڈوں کو ختم کرے گی اور یہ اعلان بھی کیا تھا کہ پیمرا آرڈیننس میں آمرانہ اور (3 نومبر 2007) کی ترامیم کو منسوخ کیا جائیگا، مذکورہ بل ان مقاصد کی تکمیل کیلئے لایا جا رہا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ پیمرا آرڈیننس میں ترمیم کا بل جمعہ (7 جنوری) کو ختم ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے پر بھی موجود تھا مگر ایوان میں قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے اس کو منظوری کیلئے پیش نہیں کیا جا سکا۔ اب یہ آرڈیننس قومی اسمبلی کے 24 جنوری سے شروع ہونے والے اگلے اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کیا جائیگا۔